اُترپردیش کے ریاستی اطلاعات کمیشن کا فیصلہ، کہا: آمدنی کی معلومات دینا لازمی،متولی کے’لوک سیوک‘ نہ ہونے کی دلیل ناقابلِ قبول
EPAPER
Updated: January 20, 2026, 10:31 PM IST | Lucknow
اُترپردیش کے ریاستی اطلاعات کمیشن کا فیصلہ، کہا: آمدنی کی معلومات دینا لازمی،متولی کے’لوک سیوک‘ نہ ہونے کی دلیل ناقابلِ قبول
:اترپردیش کے اسٹیٹ انفارمیشن کمیشن نے ایک نہایت اہم اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے وقف جائیدادوں کے انتظام و انصرام سے متعلق شفافیت کو لازمی قرار دیا ہے۔ کمیشن نے واضح کیا ہے کہ وقف جائیداد کے متولی اگرچہ ’لوک سیوک‘ کے زمرے میں شامل نہیں ہوتے، لیکن اس بنیاد پر انہیں وقف املاک کے استعمال، آمدنی اور مقاصد کی تفصیلات فراہم کرنے سے مستثنیٰ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ وقف نظام میں جوابدہی اور قانونی نگرانی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم مانا جا رہا ہے۔
اترپردیش کے اسٹیٹ انفارمیشن کمشنر محمد ندیم کی بنچ نے اپنے فیصلے میںکہا کہ اب تک وقف جائیدادوں کے متولی اس دلیل کی بنیاد پر حساب کتاب دینے سے بچتے رہے ہیں کہ وہ عوامی عہدیدار(لوک سیوک) نہیں ہیں، لیکن اس طرح کی سوچ وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء کی روح کے منافی ہے۔انہوں نے ’انقلاب‘ کوبتایا کہ اگرچہ متولی کو عوامی عہدیدار کی درجہ بندی میں شامل نہیں کیا جاتا، تاہم اس بنیاد پر انہیں وقف جائیداد کے استعمال، آمدنی اور مقاصد کا حساب دینے سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نےیہ فیصلہ ضلع فرخ آباد کی ایک وقف جائیداد سے متعلق ’پرمیندر کور‘ کی اپیل پر سنایا ۔ سماعت کے دوران ریاستی اطلاعات کمشنر نے’اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ‘ کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ اصول مان لیا جائے کہ متولی عوامی عہدیدار نہیں ہے، اسلئے وقف جائیدادوں میں کیا ہو رہا ہے، اس پر بورڈ کا کوئی اختیار نہیں، تو یہ وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء کو بے اثر بنانے کے مترادف ہوگا اور وقف جائیدادیں چند افراد کی ذاتی جاگیر بن کر رہ جائیں گی۔
کمشنرنے اپنے حکم میں واضح کیا کہ متولی کا عوامی عہدیدار نہ ہونا اس بات کا جواز نہیں بن سکتا کہ وقف جائیداد پر من مانی، غیر قانونی سرگرمیاں کی جائیں یا اس پر کسی قانونی نگرانی کا اطلاق نہ ہو، یہاں سوال متولی کا نہیں بلکہ وقف بورڈ کی اس قانونی ذمہ داری کا ہے، جو وقف جائیدادوں کا نگراں اور محافظ ہے۔واضح رہے کہ درخواست گزار ’پرمیندر کور ‘نے آر ٹی آئی کے تحت وقف بورڈ سے یہ جانکاری طلب کی تھی کہ آیا ایک وقف جائیداد میں شراب کی دکان کھولنے کی اجازت وقف بورڈ نے دی تھی یا نہیں؟ اس دکان سے متولی کو ماہانہ کتنا کرایہ حاصل ہو رہا ہے؟ اور اس آمدنی کا اندراج کس طرح کیا جا رہا ہے؟ وقف بورڈ کی جانب سے معلومات فراہم نہ کئے جانے پر انہوں نے ریاستی انفارمیشن کمیشن سے رجوع کیا۔جس پروقف بورڈ نے اپنے دفاع میں کہا کہ وقف جائیداد کو کرائے پر دینا اور کرایہ وصول کرنا متولی کا اختیار ہے، شراب کی دکان کا لائسنس محکمہ ایکسائز جاری کرتا ہے اور چونکہ متولی عوامی عہدیدار نہیں، اسلئے معلومات فراہم کرنا ممکن نہیں۔
ریاستی کمشنر نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے ایک فیصلےکا حوالہ دیا اور کہا کہ متولی وقف جائیداد کا مالک نہیں بلکہ صرف ایک امین اور منتظم ہوتا ہے، اسلئے اسے وقف جائیداد کو من مانی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔کمشنر نے کہا کہ طلب کی گئی معلومات مکمل طور پر قانونی اور فراہم کئے جانے کے قابل ہیں، لیکن اس معاملہ میں جان بوجھ کر مبہم، ٹال مٹول اور گمراہ کن جواب دئےگئے، جو وقف بورڈ کی سنگین قانونی کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔
کمشنر محمد ندیم نے حکم دیا کہ اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ ۱۵؍ دن کے اندرواضح اور مستند دستاویزات کے ساتھ مکمل معلومات فراہم کرے۔ ساتھ ہی متعلقہ متولی کی جانب سے دفعہ ۴۴؍اور۴۶؍ کے تحت پیش کئے گئے بجٹ اور حسابات کی خصوصی جانچ کر کے اس کی رپورٹ کمیشن کو فراہم کی جائے۔کمشنر نے متعلقہ عوامی اطلاعات افسر پر حقِ اطلاعات قانون کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر ۲۵؍ہزار روپئے جرمانہ عائد کرنے کے احکامات بھی دیئے۔ مزید برآں، وقف بورڈ کے چیف اگزیکٹیو افسر یا سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ہوئی انتظامی ناکامی کی ذمہ داری لیتے ہوئے ۳۰؍ دن کے اندر اصلاحی کارروائی کی رپورٹ کمیشن کو پیش کریں۔