مدھیہ پردیش کے شہر کھنڈوا کے کاویری وہار میں رہنے والے۲۵؍سالہ آدتیہ دیشپانڈے ہندوستانی بری فوج میں لیفٹیننٹ بن چکے ہیں۔ ان کی کامیابی کی کہانی صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ صبر، محنت اور کبھی ہار نہ ماننے کے جذبے کی بہترین مثال ہے۔
کھنڈوا کے آدتیہ۔ تصویر:آئی این این
مدھیہ پردیش کے شہر کھنڈوا کے کاویری وہار میں رہنے والے۲۵؍سالہ آدتیہ دیشپانڈے ہندوستانی بری فوج میں لیفٹیننٹ بن چکے ہیں۔ ان کی کامیابی کی کہانی صرف ایک کامیابی نہیں بلکہ صبر، محنت اور کبھی ہار نہ ماننے کے جذبے کی بہترین مثال ہے۔ آدتیہ نے دسویں جماعت میں ہی فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ فوج میں اعلیٰ افسر بن کر ملک کی خدمت کریں گے۔ بارہویں کے بعد انہوں نے این ڈی اے کا داخلہ امتحان دیا، لیکن پہلی کوشش میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے بعد انہوں نے ناگپور سے الیکٹرانکس انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اور۷۵؍ فیصد نمبر حاصل کیے۔
نوکری کے ساتھ تیاری جاری رکھی
انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد آدتیہ نے پونے کی ایک نجی کمپنی میں تقریباً ۳۰؍ ہزار روپے ماہانہ کی نوکری شروع کر دی۔ مگراس کے باوجود انہوں نے اپنے خواب کو نہیں چھوڑا۔ دن میں نوکری کرتے اور رات کو گھر آ کر ایس ایس بی (سروس سلیکشن بورڈ) انٹرویو کی تیاری کرتے۔ انہوں نے یوٹیوب اور کتابوں کی مدد سے مسلسل مشق جاری رکھی۔
۱۲؍بار ناکامی پھر بھی حوصلہ نہیں ٹوٹا
آدتیہ نے ایس ایس بی انٹرویو۱۲؍ مرتبہ دیے، مگر ہر بار ناکامی ملی۔ کئی مرتبہ گھر والوں نے بھی کہا کہ اب کوشش چھوڑ دو، لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ ہر ناکامی سے سبق لے کر انہوں نے اپنی شخصیت اور تیاری کو مزید بہتر بنایا۔ آخرکار۱۳؍ویں کوشش میں انہیں کامیابی مل گئی اور فوج میں افسر کے طور پر ان کا انتخاب ہو گیا۔
سخت تربیت کے بعد لیفٹیننٹ بنے
انتخاب کے بعد آدتیہ نے۹؍ماہ کی سخت تربیت مکمل کی۔ تربیت کے بعد جب آفیسرز ٹریننگ اکیڈمی میں ان کے کندھوں پر لیفٹیننٹ کے اسٹار لگائے گئے تو والدین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے۔ آدتیہ کے والد مہیش دیشپانڈے ایک کوآپریٹو سوسائٹی میں کلرک ہیں جبکہ ان کی والدہ نندا دیشپانڈے پوسٹ آفس میں کمیشن ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے آدتیہ کی یہ کامیابی پورے خاندان کے لیے فخر کا لمحہ بن گئی۔
۲۵۰؍ میں سے صرف۲؍ کا انتخاب
آدتیہ بتاتے ہیں کہ جس انٹرویو میں ان کا انتخاب ہوا، اس میں تقریباً۲۵۰؍ امیدوار شریک تھے لیکن صرف۲؍ افراد کا ہی انتخاب ہوا۔ اس عمل میں جسمانی فٹنس، نفسیاتی ٹیسٹ اور شخصیت کی جانچ سمیت کئی چیزوں کو پرکھا جاتا ہے۔
نوجوانوں کے لئے پیغام
آدتیہ کہتے ہیں کہ زندگی میں ناکامی آنا عام بات ہے، مگر کوشش کرنا کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلسل محنت کرتا رہے اور اپنے مقصد پر یقین برقرار رکھے تو ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور ملتی ہے۔ آج کھنڈوا کا یہ نوجوان لیفٹیننٹ بن کر ملک کی خدمت کیلئے تیار ہے اور اس کی کہانی ان نوجوانوں کیلئے ایک تحریک ہے جو بار بار ناکامی کے بعد ہمت ہار جاتے ہیں۔