ایران میں شہید سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ای کے صاحبزادہ کا رہبر اعظم یعنی سپریم لیڈر منتخب کیا جانا امریکہ، اسرائیل اور ان کے ہمنواؤں کیلئے جتنی بڑی خبر ہے اُتنی ہی بُری خبر بھی ہے جو اس بات کا اعلان ہے کہ اقتدار کی تبدیلی (رجیم چینج) کا مطالبہ سنکی پن ہے اس سے کام نہیں ہوگا، ایران اپنا قائد و رہبر منتخب کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
ایران کی حمایت میں احتجاج۔ تصویر:پی ٹی آئی
ایران میں شہید سپریم لیڈر علی حسینی خامنہ ای کے صاحبزادہ کا رہبر اعظم یعنی سپریم لیڈر منتخب کیا جانا امریکہ، اسرائیل اور ان کے ہمنواؤں کیلئے جتنی بڑی خبر ہے اُتنی ہی بُری خبر بھی ہے جو اس بات کا اعلان ہے کہ اقتدار کی تبدیلی (رجیم چینج) کا مطالبہ سنکی پن ہے اس سے کام نہیں ہوگا، ایران اپنا قائد و رہبر منتخب کرنے کی اہلیت رکھتا ہے اور اس کے عوام سیاسی طور پر اتنے بالغ نظر ہیں کہ وہی کرتے ہیں جو بہتر سمجھتے ہیں، انہیں کسی سرپرستی کی ضرورت نہیں جو دوست بن کر دشمنی نکالے۔
اس انتخاب میں جو دوسرا پیغام مضمر ہے اس کی ترجمانی کیلئے انگریزی محاورہ ’’ٹیک دی بل بائی دی ہارنس‘‘ زیادہ موزوں ہے جس کا معنی ہے مشکل اور خطرناک صورتحال کا غیرمعمولی خود اعتمادی اور بے خوفی کے ساتھ مقابلہ کرنا۔ یہ انتخاب ایسے حالات میں کیا گیا ہے جب ایران میں حکومت مخالف جذبات کی پشت پناہی کی گئی، اقتدار کی تبدیلی کا شوشہ چھوڑا گیا، جنگ کا بگل بجایا گیا، ایران کو سخت جذباتی اور نفسیاتی ایذا پہنچائی گئی، سپریم لیڈر کو شہید کیا گیا، ایک درس گاہ برائے طالبات پر میزائل گرا کر ۱۵۰ سے زائد طالبات کو جاں بحق کیا گیا، یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران کو چند ہی دنوں میں گھٹنوں پر لا دینگے، اس سلسلے میں وینزوئیلا کی مثال دی گئی اور ایران سے مکمل خود سپردگی کا غیر منصفانہ مطالبہ کیا گیا۔
مجتبی خامنہ ای کے فوری انتخاب کے ذریعہ ایران نے بروقت اور برموقع فیصلہ کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ بھی ہے جس میں یہ واضح پیغام موجود ہے کہ ہم جھکیں گے بھی نہیں اور رکیں گے بھی نہیں۔ آپ کی مرضی سے لیڈر منتخب کرنا، تاکہ وہ کٹھ پتلی بنا رہے، ایران کو منظور نہیں، یہ ملک اپنے آئین سے چلتا ہے، اس کا سپریم لیڈر منتخب کرنے کا اپنا طریقہ اور روایت ہے اور اس کے اہل اقتدار میں جمہوری طریقے سے اپنا سربراہ منتخب کرنے کی بھرپور اہلیت ہے۔
اس انتخاب میں یہ پیغام بھی ہے کہ ہم نے ضرورت پڑنے پر قائد کا انتخاب کیا ہے، اقتدار تبدیل نہیں کیا ہے جس کا اتنی شدت سے مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ ہمارے پاس صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے اور ہم قیادت کے خلا کو پُر کرنے میں تاخیر نہیں کرتے۔ اس انتخاب کے ذریعہ امریکہ اور اسرائیل کو سمجھا یا گیا ہے کہ دیکھ لو، ہم نہیں بدلے، ہمارے یہاں سب ٹھیک ہے، ہمیں اپنے نقصان کا غم ہے مگر بحیثیت قوم اپنی بقا اور اپنے نقصان کی تلافی کی تدابیر میں ہم پیچھے نہیں ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے دس سال تک اپنے والد کے قریب رہ کر اقتدار کی ذمہ داری میں ان کا ہاتھ بٹایا، بہت کچھ سیکھا ، ایران کی مسلح افواج آئی آر جی سی، ایرانی پولیس اور ایرانی اقتداری ڈھانچے سے ان کے ربط میں خاطرخواہ گہرائی و گیرائی پائی جاتی ہے۔ اسی لئے عمر میں نسبتاً کم ہونے اور سیاسی و وَزارتی عہدہ کا تجربہ نہ ہونے کے باوجود قرعہ ٔفال ان کے نام نکلا۔ اس انتخاب میں دانشمندانہ فراخدلی بھی ہے تاکہ واشنگٹن اور تل ابیب جان لیں کہ قالب بدلا جان (خون) وہی ہے، نظریات بھی وہی ہیں، پالیسی بھی وہی ہے اور مزاحمت کا انداز و اسلوب وہی ہے۔ ٹرمپ اپنے سفید محل میں بیٹھ کر کھسیا تے ہونگے، نیتن یاہو سٹپٹاتے ہونگے اور ان کے مغربی ہمنوا سوچتے ہونگے کہ کیا کھویا اور کیا پایا مگر تہران نہ تو حیراں ہے نہ ہراساں۔ وہ وہی کررہا ہے جو اسے کرنا چاہئے ۔