• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ترک وزیر خارجہ فیدان کی ’جوہری ہتھیار‘ سوال پر پراسرار مسکراہٹ، خطے میں تشویش

Updated: February 13, 2026, 7:02 PM IST | Ankara

ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ایک لائیو انٹرویو میں سوال ’’کیا ترکی کو جوہری ہتھیار رکھنے چاہئیں؟‘‘ کے جواب میں صرف پراسرار مسکراہٹ دی، جس کو عالمی میڈیا اور خطے کے ممالک نے اسٹریٹجک غیر واضح پالیسی کا اشارہ قرار دیا ہے۔ اسرائیل، یونان، روس سمیت عالمی مبصرین نے اس خاموشی کو ایک مضبوط سفارتی سنگ میل قرار دیا ہے۔ فیدان نے بعد میں خطے میں جوہری دوڑ کے خدشات پر بھی اشارہ کیا ہے۔

Turkish Foreign Minister Hakan Fidan. Photo: X
ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان۔ تصویر: ایکس

ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے ۹؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ایک لائیو ٹاک شو میں پوچھے گئے سوال ’’کیا ترکی کو جوہری ہتھیار رکھنے چاہئیں؟‘‘ کا سیدھا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے صرف ایک معنی خیز پراسرار مسکراہٹ دی، جس نے نہ صرف ترکی بلکہ اسرائیل، یونان، اور روس سمیت عالمی مبصرین میں تشویش اور تجزیئے کو جنم دیا ہے۔ یہ واقعہ ترکی کے سی این این ترک پروگرام میں پیش آیا، جہاں میزبان نے سوال سخت لہجے میں دہرایا، لیکن فیدان نے نہ ’’ہاں‘‘ کہا اور نہ ’’ناں‘‘، وہ صرف مسکراتے رہے۔ بعد میں فیدان نے انٹرویو میں جامع حکومتی موقف بیان کیا، مگر جوہری ہتھیار رکھنے کے سوال پر واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ انٹرویو میں سوال کے بعد میزبان نے کہا، ’’آپ کہہ سکتے ہیں کہ نو کمنٹ لیکن جواب دیں تو بہتر ہوگا۔‘‘ فیدان نے پھر بھی جواب دینے سے انکار کر دیا اور صرف مسکراہٹ پر اکتفا کیا، جسے میڈیا نے ’’خاموشی کی حکمت عملی‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز میں چھپائے گئے ۶؍ طاقتورو بڑے افراد کے نام منظر عام پر

عالمی ردعمل
ترکی کے ایک معروف تجزیہ کار سلیم کوڑو نے کہا کہ فیدان نے گفتگو کے دوران یہ واضح کیا کہ خطے میں ’’جوہری دوڑ‘‘ کے اثرات ہو سکتے ہیں، جس پر انہوں نے انتہائی محتاط انداز اختیار کیا۔ اسرائیلی میڈیا نے فیدان کی پراسرار  مسکراہٹ کو ’’الفاظ سے زیادہ معنی خیز پیغام‘‘ کہا، جسے اسٹریٹجک ابیگیوٹی کے طور پر بیان کیا گیا۔یونانی اخبارات نے اسے ’’حقیقت میں خطرے کی گہری خاموشی‘‘ قرار دیا، جس نے امن مذاکرات کی راہ میں سوالات بڑھا دیے ہیں۔ روس نے بھی اس خاموشی کی غور سے نوٹس لیا اور عالمی جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے (این پی ٹی) کی اہمیت پر زور دیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین نے فیدان کی پراسرار مسکراہٹ پر متنوع ردعمل دیا ہے۔ ایک صارف نے ایکس پر لکھا، ’’فیدان نے جواب نہیں دیا، مگر ان کی مسکراہٹ نے سب کچھ کہہ دیا۔ ترکی اپنے دفاع کے بارے میں کھل کر کچھ نہیں بتا رہا!‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’اگر ہم جوہری ہتھیار نہیں چاہتے، تو براہِ راست انکار کیوں نہیں؟ اس سے غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔‘‘ یہ ردعمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ عوامی سطح پر بھی غیر واضح موقف کو لے کر مباحثے گرم ہیں۔

پس منظر اور تشویش
ترکی ایک نیوٹرل نیٹو رکن ملک ہے، لیکن مشرق وسطیٰ میں جاری ایران کے جوہری پروگرام، عراق اور شام میں سیکوریٹی خطرات اور روس یوکرین جنگ کے بعد خطے میں جوہری طاقت کے سوالات نے اہمیت اختیار کر لی ہے۔ فیدان نے حال ہی میں کہا تھا کہ امریکہ اور ایران جوہری معاہدے پر لچک دکھا رہے ہیں، مگر اگر مذاکرات میں ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام شامل ہو جاتا ہے تو حالات مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فیدان کی مسکراہٹ جہاں ترکی کی دفاعی پالیسی میں لچک کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ خطے میں جوہری اسٹریٹجک توازن کے سوالات کو بڑھا دیتی ہے۔ عالمی طاقتیں اب ترکی کے آئندہ بیانات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ فیدان کے جواب کی خاموشی نے فوری طور پر عالمی سطح پر سفارتی قیاس آرائیوں کو تقویت دی ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ترکی اپنی جوہری یا دفاعی توانائیوں کے بارے میں کھل کر بیان دینے سے گریز کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK