معروف ارب پتی لیسلی ویکسنر کا نام بھی شامل ہے، جنہیں مبینہ طور پر ایف بی آئی نے شریک جرم کے طور پر نشان زد کیا تھا۔
EPAPER
Updated: February 13, 2026, 11:25 AM IST | Washington
معروف ارب پتی لیسلی ویکسنر کا نام بھی شامل ہے، جنہیں مبینہ طور پر ایف بی آئی نے شریک جرم کے طور پر نشان زد کیا تھا۔
بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی فائلز میں چھپائے گئے وہ ۶؍ افراد کے نام امریکی رکن کانگریس رو کھنہ نے بے نقاب کردیا ہے۔ امریکی رکن کانگریس رو کھنہ نے جیفری ایپسٹین کیس کی ان فائلوں سے ۶؍ افراد کے نام عوامی سطح پر ظاہر کر دیے ہیں جنہیں اب تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ ان ناموں میں معروف ارب پتی لیسلی ویکسنر کا نام بھی شامل ہے، جنہیں مبینہ طور پر ایف بی آئی نے شریکِ جرم کے طور پر نشان زد کیا تھا۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک نمائندے رو کھنہ نے یہ انکشاف ایوان میں اپنی تقریر کے دوران کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اور ریپبلکن رکن کانگریس تھامس میسی نے محکمہ انصاف میں دو گھنٹے تک ان دستاویزات کا جائزہ لیا جن میں ناموں کو مٹایا نہیں گیا تھا۔ رو کھنہ کی جانب سے بتائے گئے چھ ناموں میں لیسلی ویکسنر (وکٹوریہ سیکریٹ کے بانی)، سالواتورے، میکلاڈزے، لیونک لیونوف، نیکولا کاپوتو اور ایک اہم شخصیت کے نام شامل ہیں۔ رو کھنہ نے کہا کہ جب انہوں نے ان چھپائے گئے ناموں کی نشاندہی کی تو محکمۂ انصاف کے حکام نے اپنی غلطی تسلیم کی کہ غلطی سے یہ نام ظاہر نہیں کیے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیتن یاہو کو تنبیہ: ایران سے جوہری بات چیت جاری رہے، وینس کا انتباہ
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دو گھنٹے میں ۶؍ نام سامنے آ سکتے ہیں تو تصور کریں کہ ۳۰؍ لاکھ فائلوں میں کتنے لوگوں کو چھپایا گیا ہوگا۔ واضح رہے کہ ان فائلوں میں نام آنے کا مطلب لازمی طور پر جرم ثابت ہونا نہیں ہے، کیونکہ کسی کا نام محض ای میل رابطوں یا دیگر دستاویزات میں حوالے کے طور پر بھی آ سکتا ہے۔ رو کھنہ نے بھی ان افراد کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی کا ثبوت فراہم نہیں کیا اور نہ ہی ان پر فی الحال کوئی باقاعدہ الزام لگایا گیا ہے۔
منگل کے روز ایوانِ نمائندگان کے فلور سے خطاب کرتے ہوئےرو کھنہ نے سوال کیا’’تھامس میسی اور مجھے محکمۂ انصاف جانا کیوں پڑا تاکہ ان چھ افراد کی شناخت عوام کے سامنے آ سکے؟‘‘ گزشتہ سال منظور ہونے والے اُس قانون کا حوالہ دیتے ہوئے، جس میں فائلیں جاری کرنے کا حکم دیا گیا تھا، کھنہ نے کہا:‘‘ایپسٹین ٹرانسپیرنسی ایکٹ کے تحت ایف بی آئی کی فائلوں سے سنسر شدہ حصے ہٹانا لازمی ہے، لیکن محکمۂ انصاف نے مجھ سے اور کانگریس مین میسی سے کہا: ہم نے تو وہی اپ لوڈ کیا ہے جو ایف بی آئی نے ہمیں بھیجا تھا۔ ‘‘کانگریس رکن نے مزید کہا’’“اس کا مطلب یہ ہے کہ ایف بی آئی کو دیے گئے متاثرہ خاتون کے بیان میں جن امیر اور بااثر افراد کے نام تھے جو ایپسٹین کے جزیرے، اس کے رینچ یا اس کے گھر گئے اور کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی اور بدسلوکی کی، یا کم عمر لڑکیوں کو وہاں پیش ہوتے دیکھا، اُن سب کے نام چھپا دیے گئے تھے۔ وہ سب سنسر کر دیے گئے تھے۔