Inquilab Logo Happiest Places to Work

برطانیہ: ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کا اعلان

Updated: June 15, 2026, 6:39 PM IST | London

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، ایکس اور دیگر بڑے پلیٹ فارمز بچوں کی رسائی سے باہر ہوں گے، جبکہ گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ سروسز پر بھی سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔

British Prime Minister Keir Starmer. Photo: INN
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر۔ تصویر: آئی این این

برطانیہ نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے ایک بڑا اور غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کو اس پالیسی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بچوں کی ذہنی صحت، خوشی اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ مجوزہ پابندی کے تحت ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، یوٹیوب، ایکس اور دیگر بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک ۱۶؍ سال سے کم عمر صارفین کی رسائی محدود کر دی جائے گی۔ اس کے علاوہ گیمنگ اور لائیو اسٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی نئی پابندیاں متعارف کرائی جائیں گی تاکہ بچوں کو اجنبی افراد کے ساتھ رابطے سے روکا جا سکے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی

اسٹارمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ سوشل میڈیا بچوں کو غمگین بنا رہا ہے، انہیں ہراسانی اور آن لائن بدسلوکی کے خطرات سے دوچار کر رہا ہے اور ان کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میرے لیے یہ واضح ہے کہ مکمل پابندی ہی درست راستہ ہے۔ یہ والدین اور بچوں دونوں کی توقعات کو تبدیل کرے گی، بچوں کو زیادہ آزادی، زیادہ تحفظ اور بہتر مواقع فراہم کرے گی۔‘‘ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومت صرف سوشل میڈیا پابندی تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ ۱۸؍ سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے رات کے اوقات میں ڈجیٹل کرفیو، لامحدود اسکرولنگ (Infinite Scrolling)، خودکار ویڈیو پلے (Autoplay)، غائب ہونے والے پیغامات (Disappearing Messages) اور اجنبی افراد سے رابطے جیسی خصوصیات پر بھی پابندی لگانے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے۔ 

برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ مشاورت کے نتائج کے مطابق تقریباً ۹۰؍ فیصد والدین نے ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ حکومت کو اس موضوع پر ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد آراء موصول ہوئی تھیں۔ یہ اعلان اس مہم کا حصہ ہے جس کے تحت حکومت بچوں کو آن لائن جنسی استحصال، نامناسب مواد اور نقصان دہ ڈجیٹل رویوں سے محفوظ بنانا چاہتی ہے۔ گزشتہ ہفتے ہی اسٹارمر نے ایپل، گوگل اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایسے نظام متعارف کرائیں جو بچوں کو برہنہ تصاویر بھیجنے، وصول کرنے یا شیئر کرنے سے روک سکیں۔ حکومت نے دار کیا تھا کہ اگر کمپنیاں رضاکارانہ طور پر یہ اقدامات نہیں کرتیں تو قانون سازی کے ذریعے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کا بیروت پر بھیانک حملہ

حکومت کے مطابق بالغ افراد مناسب عمر کی تصدیق کے بعد اپنی خدمات استعمال کرتے رہیں گے، تاہم بچوں کے لیے حفاظتی معیار مزید سخت کیے جائیں گے۔ مجوزہ قانون رواں سال کے اختتام تک پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جبکہ اس کے عملی نفاذ کا آغاز آئندہ موسم بہار سے ہو سکتا ہے۔ اگر یہ قانون نافذ ہو جاتا ہے تو برطانیہ دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو جائے گا جہاں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت ترین پابندیاں موجود ہوں گی، اور اسے بچوں کے آن لائن تحفظ کے حوالے سے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی قانونی اصلاحات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK