Inquilab Logo Happiest Places to Work

غلافِ کعبہ: ۱۱؍ ماہ میں تیار ہوا نیا کسوہ، عبدالرحیم امین بخاری کلیدی ڈیزائنر

Updated: June 15, 2026, 6:10 PM IST | Mecca

خانۂ کعبہ کے نئے غلاف (کسوہ) کی تیاری مکمل ہوگئی ہے۔ ۱۱؍  ماہ میں تیار ہونے والے اس غلاف کا وزن ۱۴۱۵؍ کلوگرام ہے جس کی تیاری میں ۸۲۵؍ کلوگرام قدرتی ریشم، ۱۲۰؍ کلوگرام سنہری اور ۶۰؍ کلوگرام چاندی کے دھاگے استعمال کیے گئے ہیں۔ کنگ عبدالعزیز کمپلیکس میں تیار ہونے والے اس غلاف پر ۶۸؍ قرآنی آیات کی کشیدہ کاری کی گئی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

دنیا بھر کے مسلمانوں کی عقیدت کا مرکز خانۂ کعبہ کے نئے غلاف (کسوہ) کی تیاری مکمل ہوگئی ہے۔ حکام کے مطابق نئے غلاف کو تیار کرنے میں تقریباً ۱۱؍ ماہ کا عرصہ صرف ہوا جبکہ اس کے ہر مرحلے کی کنگ عبدالعزیز کمپلیکس برائے کسوۂ کعبہ میں باریک بینی سے نگرانی اور جانچ کی گئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نئے کسوہ کا مجموعی وزن ۱۴۱۵؍ کلوگرام ہے۔ اس کی تیاری کے لیے ۸۲۵؍ کلوگرام قدرتی ریشم، ۱۲۰؍ کلوگرام سنہری دھاگہ، ۶۰؍  کلوگرام چاندی کا دھاگہ اور ۴۱۰؍ کلوگرام خام کپاس استعمال کی گئی۔ غلاف ۴۷؍ بڑے ریشمی ٹکڑوں پر مشتمل ہے جن پر ۶۸؍  قرآنی آیات انتہائی نفیس انداز میں کشیدہ کی گئی ہیں۔

حکام کے مطابق غلافِ کعبہ کی تیاری اسلامی دنیا کے سب سے اہم فنون میں شمار ہوتی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود اس کے متعدد مراحل آج بھی ماہر کاریگروں کے ہاتھوں انجام پاتے ہیں۔ قرآنی آیات کی کڑھائی، سنہری حزام (بیلٹ)، بابِ کعبہ کے پردے اور دیگر تزئینی حصوں کی تیاری میں خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے۔ غلافِ کعبہ کی تیاری پر سالانہ ۲۵؍ ملین سعودی ریال سے زائد لاگت آتی ہے۔ اس مقصد کے لیے درجنوں ماہرین، خطاط، بُنکر اور کشیدہ کاری کے ماہرین مسلسل کئی ماہ تک کام کرتے ہیں تاکہ دنیا کی سب سے مقدس اسلامی عمارت کے شایانِ شان غلاف تیار کیا جا سکے۔

کسوہ کے ڈیزائنر اور خطاط کون ہیں؟
اس موقع پر سعودی پریس ایجنسی نے غلافِ کعبہ کی تیاری سے وابستہ ان شخصیات کو بھی یاد کیا جنہوں نے اس فن کو عالمی شہرت بخشی۔ ان میں ممتاز خطاط عبدالرحیم امین بخاری کا نام نمایاں ہے۔ ۱۹۱۷ء میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہونے والے بخاری نے اپنی زندگی کے تین عشروں سے زیادہ عرصے تک غلافِ کعبہ کی تیاری اور اس پر قرآنی آیات کی خطاطی کے لیے وقف کیا۔ عبدالرحیم امین بخاری نے ۲۱؍ مختلف غلافوں کی تیاری میں حصہ لیا جبکہ بابِ کعبہ کے پردے اور کعبہ کے تین دروازوں کی خطاطی و تزئین کی نگرانی بھی کی۔ ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں شاہ فیصل کے دورِ حکومت میں ان کا نام غلافِ کعبہ پر ثبت کیا گیا، جو آج بھی موجود ہے اور ان کی خدمات کی دائمی یادگار سمجھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی

ماہرین کے مطابق غلافِ کعبہ کی موجودہ شکل اور اس پر موجود بہت سی خطاطی کی روایات انہی فنکاروں اور خطاطوں کی مرہونِ منت ہیں جنہوں نے گزشتہ صدی میں اس مقدس روایت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ نئے کسوہ کی تیاری کی تکمیل اس عظیم فن اور اس سے وابستہ نسل در نسل منتقل ہونے والی مہارتوں کے تسلسل کی ایک اور روشن مثال ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK