• Mon, 19 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اتراکھنڈ کی حکومت سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنارہی‘‘

Updated: October 19, 2026, 12:28 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi

لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے دھامی حکومت کے دعوؤں پر کئی سوالات قائم کئے۔

Pushkar Singh Dhami. Image: INN
پشکر سنگھ دھامی۔ تصویر: آئی این این

کانگریس نے اتراکھنڈ کی دھامی حکومت پر سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کو بیوقوف بنانے اور دھوکہ دھڑی کا الزام عائد کیا۔پارٹی لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ اتراکھنڈ میں دھامی حکومت کی دھوکہ دھڑی پر مبنی سرمایہ کاری بی جے پی کے ڈبل انجن ماڈل کی ایک اور مثال ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی سرمایہ کاری سربراہ اجلاس کا خوب ڈھنڈورا پیٹا گیا اوردعویٰ کیا گیا کہ ایک ہزار ۷۷۹؍ باہمی معاہدے پر دستخط ہوئے اور ساڑھے تین لاکھ کروڑ سے زائد کی سرمایہ کاری آئی۔ محض روڈ شو پر تقریباً ۱۰۰؍ کروڑ روپے کا عوامی پیسہ خرچ ہوا۔ اس کے بعد حکومت نےکہا کہ زمین پرایک لاکھ کروڑ کی سرمایہ کاری آئی۔ لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر نے نیوز لانڈری کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دراصل آٹے کی چکی، کھاد اور بیج کی دوکانیں اور چھوٹے کلینک کو ’سرمایہ کار‘ کے طور پر شمار کیا گیا۔ بعض کو اس کا علم تک نہیں تھا کہ انہیں بھی اس میں شامل کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے:بجنور: مسلم خاتون کے انتقال سےغمزدہ گاؤں والوں نے رام لیلا ملتوی کی

اس میں سے ۳۵؍ہزار ۲۷۹؍ کروڑ سرکاری بجلی کمپنیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی ایس آر اور عطیات کے ذریعے چلنے والا اسکول ۴۹ء۲۴؍کروڑ کے سرمایہ کار کے طور پر درج تھا۔ ۱۲۰۰؍ سرمایہ کار جن کا نام لیاگیا،ان کی گزشتہ چار سالوں سے صفر آمدنی ہے اور اس کے پاس ریکارڈ پر ایک بھی ملازم نہیں ہے۔ حکومت نے دبئی اور لندن کے روڈ شو سے ۲۷؍ ہزار ۹۷۵؍کروڑ روپے کا دعویٰ کیا، لیکن ان سرمایہ کاروں میں سے گراؤنڈ پر اترنے والے سرمایہ کاروں میں سے ایک بھی کمپنی دبئی یا لندن کی نہیںاور سربراہی اجلاس سے صرف سات دن پہلے، یکم دسمبر ۲۰۲۳ءکو، خود سرمایہ کاری کی تعریف میں نرمی کر دی گئی۔ ‘‘راہل گاندھی نےمطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو تین ہزار تین سرمایہ کاروں کی مکمل فہرست عام کرنی چاہیےکیونکہ سرمایہ کاری کاغذ پر ہے۔ روزگار نعروں میں ہے اور اتراکھنڈ کے نوجوانوں کے حصہ میں صرف پیپر لیک ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ سربراہی اجلاس سے سات دن قبل یکم دسمبر۲۰۲۳ء کو’سرمایہ کاری‘ کی تعریف بدل دی گئی۔ یہ اس طرز عمل کی ایک واضح مثال ہےکہ پہلےقواعد تبدیل کرو، پھر اعداد و شمار پیش کرو۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK