Inquilab Logo Happiest Places to Work

لبنان میں بے گھر ہوئے ۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد میں سے۴۰؍فیصد لوٹ آئے: اقوام متحدہ

Updated: July 02, 2026, 8:48 PM IST | Beirut

اقوام متحدہ کے مطابق لبنان میں بے گھر ہوئے ۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد میں سے ۴۰؍فیصد اپنے آبائی علاقوں میںلوٹ آئے، یہ افراد اسرائیلی بمباری میں گھروں کی تباہی کے نتیجے میں بے گھر ہوئے تھے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجیرک نے بدھ کو کہا کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے لبنان میں بے گھر ہونے والے۱۰؍ لاکھ سے زائد افراد میں سے تقریباً۴۰؍ فیصد اپنے آبائی علاقوں کو واپس آ گئے ہیں۔اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے ہجرت (IOM) کے عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈوجیرک نے کہا کہ ’’یہ بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے، لیکن ہزاروں افراد اب بھی بے گھر ہیں اور انسانی امداد پر منحصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ،’’ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ واپسی محفوظ، رضاکارانہ اور باوقار ہونی چاہیے، اور جو افراد واپس لوٹتے ہیں انہیں انسانی ضروریات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔‘‘

یہ بھی پرھئے: منی پور: میانمار کی سرحد پر تشدد کی نئی لہر میں ۲۹؍ مکانات نذرآتش

دریں اثناء انہوں نے بتایا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام اور اس کے شراکت داروں نے منگل کو جنوبی لبنان کے مشکل رسائی والے علاقوں میں ’’انتہائی ضروری‘‘ امداد پہنچائی، اور کہا، ’’ہم اس بات پر زور دیتے رہیں گے کہ ہر ضرورت مند کو انسانی رسائی فراہم کی جائے۔‘‘ واضح رہے کہ اسرائیل نے مارچ کے شروع میں لبنان میں اپنی تازہ ترینبمباری کا آغاز کیا تھا۔ حالانکہ اسرائیل اس بمباری کو حزب اللہ پر حملوں کی آڑ میں جائز ٹھہرانے کی کوشش کی۔ تاہم اسرائیل کی بمباری کا نشانہ عام طور پر رہائشی علاقے بنے۔ جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عمارتوں کا انہدام ہوا، اور لبنانی شہری بے گھر ہوگئے۔ ایسے ہی تقریباً ۱۰؍ لاکھ سے زائد شہریوں نے بمباری سے بچنے کیلئے اپنا علاقہ چھوڑ کر اندرون ملک پناہ لی تھی۔حالانکہ  امریکہ کی ثالثی میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے بند نہیں ہوئے تاہم اس کی شدت میں کمی آئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قدرے امن قائم ہونے کی صورت میں یہ گھر افراد اپنے تباہ حال گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔بعد ازاں جنگ بندی اور فریم ورک معاہدے کے باوجود اسرائیل نے قبضہ شدہ علاقے سے انخلاف کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK