منی پور میں میانمار کی سرحد کے قریب تشدد کی تازہ لہر میں ۲۹؍ مکانات نذر آتش کردئے گئے، اس واردات کے تعلق سے کوکی اور ناگا تنظیموں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 5:03 PM IST | Imphal
منی پور میں میانمار کی سرحد کے قریب تشدد کی تازہ لہر میں ۲۹؍ مکانات نذر آتش کردئے گئے، اس واردات کے تعلق سے کوکی اور ناگا تنظیموں نے ایک دوسرے پر الزام عائد کیا ہے۔
آسام رائفلز کے ایک افسر کے مطابق، بدھ کو منی پور میں ہندوستان میانمار سرحد کے قریب کوکی اور تنگخول ناگا دیہاتوں میں الگ الگ واقعات میں کم از کم۲۹؍ مکانات کو آگ لگا دی گئی۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، حکام نے بتایا کہ نامعلوم افراد نے کجمونگ ضلع کے کوکی گاؤں پھیمول میں تقریباً دن کے ساڑھے بارہ بجے ۱۵؍ مکانات کو آگ لگا دی۔ یہ گاؤں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے پہلے ہی خالی کرا لیا گیا تھا اور اس کے باشندے عارضی طور پر آئشی گاؤں میں قیام پذیر ہیں، جہاں آسام رائفلز کا کیمپ واقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان اور پاکستان کی ۱۱۷؍ اہم شخصیات کا نریندر مودی اور شہباز شریف کو کھلا خط
اخبار کے مطابق، تقریباً ایک بج کر ۴۵؍ منٹ پر مسلح افراد نے کجمونگ ضلع کے تنگخول ناگا گاؤں شانگکھالوک کو آگ لگا دی، جسے حکام نے بظاہر جوابی حملہ قرار دیا۔ تقریباً سات مکانات جزوی طور پر جل گئے ۔تیسرے واقعے میں، کجمونگ ضلع کے ہوئیمین تھانہ نامی تنگخول ناگا گاؤں (جو شانگکھالوک اور پھیکوہ کے درمیان واقع ہے) کے تقریباً سات مکانات بھی مبینہ طور پر کوکی عسکریت پسندوں نے جلا دیے۔ جبکہ پولیس کے حوالے سے اخبار نے بتایا کہ ان واقعات میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ کوکی تنظیم کوکی انپی منی پور کے مطابق، چوتھا واقعہ جمعرات کی صبح نونی ضلع کے کوکی گاؤں لیکوٹ میں پیش آیا۔کوکی ادارے نے دعویٰ کیا کہ مبینہ ناگا عسکریت پسندوں نے لیکوٹ پر صبح۵؍ بجے کے قریب خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور پھر گاؤں کو آگ لگا دی۔
بعد ازاں بدھ کو کوکی انپی نے الزام لگایا کہ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالیم (اساکموئیواہ) یا اور میانمار میں قائم شانی نیشنلٹیز آرمی کے کارندوں نے پھیمول پر حملہ کیا۔اس نے الزام عائد کیا کہ یہ حملہ ریاست کے ’’تنگخول اکثریتی پہاڑی اضلاع میں کوکی دیہاتوں کو نشانہ بنانے والے منظم تشدد کا حصہ ہے۔کجمونگ میں کوکی سول سوسائٹی آرگنائزیشن ورکنگ کمیٹی نے بھی مسلح ناگا گروہوں پر پھیمول پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔کمیٹی نے دعویٰ کیا کہ اس سے قبل۱۱؍ جون کو کلتوہ گاؤں میں بھی ایسا ہی حملہ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: مہوا موئترا پر حملہ، پتھر اور انڈے پھینکے گئے
کمیٹی نے بدھ کو کہا،’’آتش زنی، دہشت گردی اور تشدد کی یہ کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں، امن اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ ہیں اور قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔‘‘دوسری جانب، ناگا تنظیموں نے ان الزامات کو مسترد کر دیا اور کوکی مسلح گروہوں پر ایک کوکی گاؤں پر ’’اسٹریٹجک‘‘ حملہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ایسٹرن کمانڈ ناگا ولیج گارڈ نے کہا کہ’’ پھیمول کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی تاکہ دو تنگخول ناگا بستیوں پر منصوبہ بند حملے کی بنیاد فراہم کی جا سکے۔‘‘اس نے الزام لگایا کہ پھیکوہ سے تقریباً۲۰؍ مسلح کوکی افراد نامیا دریا عبور کر کے دونوں گاؤں میں مکانات کو آگ لگا کر آئے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کھیرونگرام میں۳۶۵؍ میانمارکے مہاجرین کو پناہ دینے والے ۲۰؍کیمپ بھی تباہ کر دیے گئے۔تنظیم نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے قریبی تعینات آسام رائفلز، بارڈر سیکیورٹی فورس، انڈین ریزرو بٹالین اور منی پور پولیس کے اہلکاروں کی موجودگی میں ہوئے۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت اُخْرُل میں کوکی اور ناگا کے درمیان کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے، جو۷؍ فروری کو تنگخول ناگا اور کوکی زو برادریوں کے ارکان کے مبینہ تنازع کے بعد جھڑپوں میں تبدیل ہو گئی تھی۔تاہم کشیدگی شروع ہونے کے بعد سے دونوں برادریوں کے کم از کم۲۵؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔