Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۱۳؍ ترقی پذیر ممالک نے تعلیم سے زیادہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا: یونیسکو

Updated: July 13, 2026, 4:13 PM IST | New York

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک تعلیم کے بجائے قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ وسائل خرچ کر رہے ہیں، جس سے تعلیمی نظام شدید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ۱۱۳؍ ترقی پذیر ممالک نے تعلیم کے مقابلے میں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ رقم خرچ کی، جبکہ ۲۰۲۷ء تک تعلیم کے لیے عالمی امداد میں ۳۰؍  فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو (UNESCO) نے اپنی تازہ تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک گزشتہ سال تعلیم پر ہونے والے اخراجات کے مقابلے میں غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ رقم خرچ کرنے پر مجبور رہے، جس سے عالمی تعلیمی نظام کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۵ء میں مجموعی طور پر ۱۱۳؍ ترقی پذیر ممالک ایسے تھے جہاں تعلیم کے بجائے قرضوں کی ادائیگی کو ترجیح دینی پڑی۔ یونیسکو نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو لاکھوں بچوں کی تعلیم اور ان ممالک کی مستقبل کی معاشی ترقی دونوں متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب صحارا افریقہ کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے، جہاں ممالک نے تعلیم کے مقابلے میں اوسطاً ۶ء۳؍ گنا زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کی۔ اس کے باعث کئی ممالک میں تعلیمی بجٹ شدید دباؤ کا شکار ہے اور بنیادی تعلیمی سہولتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یوکرینی صدر زیلنسکی نے اچانک پوری حکومت برطرف کردی

یونیسکو نے مزید خبردار کیا کہ تعلیم کے لیے عالمی امداد میں مسلسل کمی اس بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق کم اور کم متوسط آمدنی والے ممالک ۲۰۲۳ء میں تعلیم کے لیے فراہم کی جانے والی امداد کا پہلے ہی ۲۱؍ فیصد کھو چکے ہیں، جبکہ اندازہ ہے کہ ۲۰۲۷ء تک اس امداد میں مجموعی طور پر ۳۰؍ فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض ممالک اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ افغانستان، مالی، نائیجر اور لائبیریا جیسے ممالک گزشتہ تین برسوں کے دوران تعلیم کے شعبے میں ملنے والی بین الاقوامی امداد کا ۴۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ کھو چکے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کے تعلیمی نظام کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
یونیسکو کے شعبۂ تعلیم کے ڈائریکٹر من جیونگ کم نے کہا کہ’’ موجودہ مالیاتی نظام ممالک کو کفایت شعاری، کم سرمایہ کاری اور سست معاشی ترقی کے ایک ایسے چکر میں پھنسا رہا ہے جس سے نکلنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف معاشی ترقی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملکی آمدنی میں اضافے اور مستقبل میں قرضوں کی ادائیگی کی صلاحیت کو بھی کمزور بنا رہی ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ قرضوں میں ڈوبے ہوئے ۱۸؍ ممالک ایسے ہیں جہاں قرضوں کی ادائیگی پر تعلیم کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ اخراجات کیے گئے، جبکہ سری لنکا میں یہ فرق سب سے زیادہ رہا، جہاں حکومت نے تعلیم کے مقابلے میں ۱۶؍ گنا زیادہ رقم قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کی۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا

برطانیہ میں قائم تنظیم Debt Justice کے مطابق غریب ممالک کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی گزشتہ سال ۳۵؍ برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ۵۶؍ ممالک نے اپنی مجموعی قومی آمدنی کا تقریباً ۲۰؍ فیصد صرف قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کیا۔ تنظیم کے پالیسی ڈائریکٹر ٹم جونز نے کہا کہ ’’کووڈ ۱۹،  توانائی کی قیمتوں میں اضافے، بلند شرح سود اور موسمیاتی آفات نے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے بوجھ میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں حکومتوں کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی عوامی خدمات پر اخراجات کم کرنا پڑ رہے ہیں۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے امداد میں کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ صرف ۲۰۲۴ء میں تعلیم کے لیے فراہم کی جانے والی عالمی امداد میں تقریباً ۶۰۰؍ ملین امریکی ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ ۲۰۲۵ء میں اس میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: شاہی خاندان کا ملاپ، کنگ چارلس کی ۴؍ سال بعد پوتےپوتی سےملاقات

یونیسکو کے مطابق مالی وسائل میں مسلسل کمی کے باعث متعدد ممالک میں اسکولوں کے لیے بنیادی اخراجات پورے کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے، کئی مقامات پر اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی متاثر ہوئی ہے اور تعلیمی منصوبے تعطل کا شکار ہیں۔ ادارے نے زور دیا ہے کہ قرضوں کی ادائیگی کے عالمی نظام میں اصلاحات کی جائیں تاکہ ترقی پذیر ممالک کو طویل المدتی ریلیف مل سکے اور وہ تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی عوامی خدمات پر مناسب سرمایہ کاری جاری رکھ سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK