Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار بڑھادیا

Updated: July 13, 2026, 2:01 PM IST | Tehran

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار پہلے کی نسبت کافی حد تک بڑھا دیا ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی تازہ حملوں کی لہر نے جنوبی اور مغربی ایران کے ایک وسیع حصے کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔

Iran War.Photo:INN
ایران جنگ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا دائرہ کار پہلے کی نسبت کافی حد تک بڑھا دیا ہے، ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی تازہ حملوں کی لہر نے جنوبی اور مغربی ایران کے ایک وسیع حصے کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔  میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان حملوں میں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قشم، سرک، بندرعباس، جسک، بوشہر، خندب، مہشہر، آبادان، خرمشہر سمیت کئی علاقے شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی تازہ حملوں میں ایک سیکیورٹی گارڈ کی ہلاکت اور ۴؍ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:ٹیم کو لگاتار مل رہی کامیابی عام بات نہیں : میسی


امریکی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے تنازع پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کر دی ہے، جب کہ تہران کا کہنا ہے کہ تازہ حملوں نے گزشتہ چند مہینوں کی تمام سفارتی کوششوں کو بے معنی  بنا دیا ہے۔ امریکی فوج نے اتوار کو رات ۹؍بجے (جی ایم ٹی) ایران پر مزید حملے شروع کیے۔ سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایکس پر کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے والے شہری بحری جہازوں اور تجارتی جہازوں پر حملے نہ کر سکے۔ 
سینٹ کام کے مطابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی افواج کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے ان حملوں کا حکم دیا، ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں ایران پر ہونے والے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم انھیں بری طرح مار رہے ہیں۔   اتوار کے روز اس سے قبل تہران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز بند کر دی ہے۔ 
اس نئی کشیدگی نے گزشتہ ماہ طے پانے والے امریکہ اور ایران کے عبوری جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم سینٹکام کے مطابق کچھ جہاز اب بھی اس آبی گزرگاہ سے گزر رہے تھے۔ دی گارجین  نے رپورٹ کیا کہ امریکہ کے تازہ حملوں کی رفتار اور دائرہ کار پہلے سے کہیں زیادہ وسیع تھا۔ سینٹ کام کے مطابق صرف ہفتہ کی رات تقریباً ۱۴۰؍ حملے کیے گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے:جموں کشمیر کےریاستی درجہ کی بحالی کیلئے عمر عبداللہ کا ’ دہلی چلو‘تحریک کا اعلان


صدر ٹرمپ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ اس نے آبنائے ہرمز بند کر دی ہے، جب کہ علاقے میں کنٹرول کی کشمکش جاری ہے۔ دوسری طرف اتوار کو ایران کے حملے قطر تک بھی پھیل گئے، جو جنگ بندی مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا اور اپریل کے بعد پہلی بار حملوں کی زد میں آیا۔ متحدہ عرب امارات، جسے مئی کے اوائل کے بعد نشانہ نہیں بنایا گیا تھا، نے بتایا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کو روکا۔ سینٹکام نے ہفتہ کو بتایا کہ امریکی افواج نے اس ہفتے تین راتوں کے دوران ایران کے ۳۰۰؍سے زائد فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جب کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس کے جواب میں اس نے اردن، کویت، عمان اور قطر میں اہداف پر حملے کیے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK