مرکزی وزیرنتن گڈکری نے گاندھی پل کے مغربی حصے کا افتتاح کیا

Updated: August 01, 2020, 4:00 AM IST | Patna

ریاست میں انتخابات سے قبل افتتاح کے ساتھ ہی پٹنہ ضلع میں گنگاندی پر ۳؍ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے نئے فورلین پل کی تعمیر کا اعلان کیا،اور بھی کئی وعدے کئے۔

Gandhi Bridge in Patna. Photo: INN
پٹنہ کا گاندھی پل۔ تصویر: آئی این این

مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز،جہاز رانی ، آبی وسائل ، ریور ڈیولپمنٹ اور گنگا تحفظ نتن گڈکر ی نےبہارکےپٹنہ ضلع میں گنگا ندی پر ۳؍ ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے نئے فور لین پل کی تعمیر کرائے جانے کا اعلان کیا ۔ گڈکری نے جمعہ کو بہار کا لائف لائن مانا جانے والا مہا تما گاندھی پل کے مغربی لین کے سپر اسٹرکچر کا ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے افتتا ح کرنے کے بعد پٹنہ ضلع میں گنگا ندی پر۳؍ہزارکروڑ روپے کی لاگت سے فور لین کی برج تعمیرکرائے جانے کا اعلان کیا اور کہاکہ۵؍ کلومیٹر طویل اس پل کا اس سال اگست میں ٹینڈرطلب کیا جائےگااور اکتوبر سے اس کی تعمیر کاکام شروع ہو جائے گا۔ اس عظیم پل کی تعمیرکاکام مارچ ۲۰۲۴ءتک کرلیاجائے گا۔
 مرکزی وزیرنےکہاکہ مہاتما گاندھی پل کی جدید کاری کافی مشکل ر ہی ہے ۔ لیکن انہیں خوشی ہے کہ اس پل کے مغربی حصے کی تعمیر مکمل ہوگئی ہے اور آج اسے آمدورفت کیلئے کھول دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اس پل کی اہمیت و افادیت کو دیکھتے ہوئے ان پر ہمیشہ ایک دباؤ رہا کہ اس کام کو جلد ازجلد پورا کرایاجائے ۔ ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ نےاس مشکل کام کو ممکن بنادیا ۔ اس کے پلر کو بغیر توڑے اس کا سپر اسٹرکچر تیار کرلیا گیا ۔ اس میں ۶۶؍ ہزار ٹن اسٹیل کا استعمال کیا گیا ہے ۔
 گڈکری نے کہاکہ اس سپراسٹرکچر کو تیار کرنے میں جس تکنیک کا استعمال کیا گیاہے وہ اپنے آپ میں بے مثال ہے اورانہیں یقین ہےکہ آنے والے دنوں میں انجینئرنگ کے شعبہ میں یہ تکنیک مطالعے کا موضوع بنے گی۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ مہا تما گاندھی پل کے سپر اسٹرکچر کی تعمیر کیلئے جتنی تحقیقات ہوئیں اور جتنے مطالعات ہوئے ہیں ان سب کو جمع کر کے ایک کتاب شائع کریں تاکہ بعد میں انجینئرنگ کے طلبا ءاس کا مطالعہ کرسکیں ۔
 مرکز کی مودی حکومت میں بہار میں ۱۲؍ پلوں کی تعمیر کاکام چل رہاہے ۔ ان میں کوسی ندی پر۱۴۰۰؍کروڑ روپے کی لاگت سےبننے والا۷؍کلومیٹر طویل پل بھی شامل ہے۔ اس پل کیلئے ٹنڈر جاری کر دیا گیا ہے اور اس کی تعمیر کاکام جلد پورا ہوجائے گا۔ یہ پل بھاگلپور اور مدھے پورا کو جوڑے گا ۔
 اس کے علاو ہ بھاگلپور ضلع میں گنگا ندی پر وکرم شیلا سیتو کے متوازی۱۱۱۰؍کروڑ روپے کی لاگت سے ۴ء۵؍ کلومیٹر طویل پل کی تعمیر کی جائے گی ۔۲؍مہینےکے اندر اس کی تعمیر کاکام شروع ہوجائے گا۔ اسی طرح بھوجپور اور بکسر کو جوڑنے کیلئے گنگا ندی پربنائے جارہے پل کی تعمیر کاکام ۲۰۲۱ء سے قبل مکمل کرلیاجائے گا۔ وہیں جھارکھنڈ کے صاحب گنج میں گنگا ندی پر پل کی تعمیر کرائی جارہی ہے۔اس کی لاگت ۱۹۰۰؍ کروڑ روپے ہے اور اس کا بھی ٹینڈرجاری کیاجاچکا ہے ۔ اس پل کے بن جانے سے کٹیہار سے جھارکھنڈ پہنچا آسان ہوجائے گا۔
  اس سےقبل مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیا نند رائے نے آج کے دن کو تاریخی قرار دیا اور کہاکہ ایک وقت تھاجب بہار کے لوگ یہ ماننے لگ گئےتھے کہ مہا تما گاندھی سیتو کی جدید کاری نہیں ہوسکتی ہےلیکن وزیراعظم نریندر مودی، نتن گڈکری اور وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قوت ارادی کا نتیجہ ہے کہ آج اس پل کے ایک حصے کی تعمیر کاکام مکمل ہوگیاہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ پل نہ صرف شمالی اور جنوبی بہار کو بلکہ ہندوستان کو نیپال سے بھی جوڑتاہے ۔
 مرکزی وزیر مملکت برائے سڑک ٹرانسپورٹ اور ہائی ویزجنرل وی کے سنگھ نے کہاکہ شمالی اور جنوبی بہار کو جوڑنے والے اس مہا تما گاندھی پل کے پہلے مرحلے کاکام آج مکمل ہوگیا اور یقین ہے کہ اس کے دوسرے مرحلے کاکام۱۸؍مہینے میں پورا کرلیاجائے گا۔
 انہوں نے کہاکہ۲۰۱۴ءمیں مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں حکومت بننےکے بعدسے بہار میں ترقیاتی کاموں میں تیزی آئی ہے۔۲۰۱۴ءسےبہار میں ۵۵؍ ہزار کلومیٹر سے زیادہ سڑکوں کاکام ہوا ہے اور فی الحال ۳۰؍ہزار کروڑ روپے کاکام چل رہاہے۔صرف تحویل اراضی کیلئے بہارکےکسانوں کے بینک کھاتوں میں ۳۸۰۰؍کروڑ روپے بھیجے جاچکے ہیں ۔
 اس موقع خوراک و عوامی نظام تقسیم کے وزیر رام ولاس پاسوان نے مہا تما گاندھی پل کی تعمیر میں خود کے تعاون کی وضاحت کرتے ہوئے بتایاکہ سال۱۹۷۷ء میں حاجی پور لوک سبھا حلقہ سے منتخب ہونے کے بعد سے انہوں نے پارلیمنٹ میں کئی بارگنگا ندی پر اس پل کی تعمیر کا مطالبہ کیا لیکن مرکز کی اس وقت کی اندرا گاندھی حکومت بار۔ بار یہ کہہ کر ان کے مطالبے کو خارج کر دیتی تھی کہ یہاں مرکز کا نہیں بلکہ ریاستی حکومت کا معاملہ ہے ۔
 پاسوان نے بتایاکہ’’میں گنگا کی حمایت میں دھرنے پربیٹھ گیا اوراندرا گاندھی سے کہاکہ جب آپ کے لوک سبھا علاقہ رائے بریلی میں انفرااسٹرکچر کی تعمیر کاکام ہوسکتا ہے تو بہارمیں اس اہم منصوبے کی تعمیر کیوں نہیں ہوسکتی ہے ۔ لہٰذا ان کی آواز سنی گئی اور مرکزی حکومت نے اس پل کی تعمیر کو منظوری دےدی ۔ انہوں نےگڈکری کی تعریف کرتے ہوئےکہاکہ اگرگڈکری کو ۱۰؍سال کام کرنے کا موقع مل گیا ہوتا تو ملک کی سڑکیں اور پل عالمی سطح کی ہوتیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK