کابل میں یونیورسٹیاں کھل گئیں مگر حاضری کم

Updated: February 03, 2022, 8:47 AM IST | kabul

طالبات کو برقع کی لازمی شرط کے ساتھ تعلیمی اداروں میں آنے کی اجازت

Education in Afghanistan`s universities resumed on Wednesday for the first time since the Taliban came to power.
افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بدھ کو پہلی بار یہاں کی یونیورسٹیوں میں تعلیمی سلسلہ بحال ہوا ۔

طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدھ کو پہلی بار افغانستان  میں  یونیورسٹیاں کھل گئیں اور طالبات کو برقع پہننے کی لازمی شرط کے ساتھ اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کی   اجازت دیدی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق  یونیورسٹیوں کے کھلنے کے پہلے دن  طالبات کی حاضری بطور خاص کم رہی ہے مگر امید ظاہر کی جا رہی  ہے کہ وقت کے ساتھ اس میں اضافہ ہوگا۔
 یونیورسٹی میں تعلیمی سلسلہ بحال ہونے کے پہلے دن انتظامیہ نے طالبان کے وضع کردہ اصولوں کو سختی  سے نافذ کیا جس میں طلباء اور طالبات کی علاحدہ علاحدہ جماعتوں میں بیٹھنے کا نظم شامل ہے۔ ننگرہار صوبے میں سرکاری یونیورسٹی کی طالبہ بی بی ہوا نے یونیورسٹی کھلنے پر اپنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے  وہ اوران کی دیگر ساتھی طالبات تعلیمی سلسلہ بحال ہونے سے بے حد خوش ہیں۔ ان کے مطابق’’ہماری مردہ امیدیں پھر زندہ ہوگئی ہیں اور اب ہم اپنے خوابوں کی تکمیل کیلئے کوشش کرسکتے ہیں۔‘‘طالبان حکومت کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے اعلان کے بعد بدھ کو حالانکہ کئی علاقوں میں یونیورسٹیاں کھل گئی ہیں مگر سرد علاقوں  میں تدریس۲۶؍ فروری سے شروع ہوگی۔
  طالبان نے لڑکیوں کو برقع پہن کر آنے کی ہدایت  دی ہے جب کہ ان کے لیے علیحدہ کلاسوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جامعات بند تھے  جس کی وجہ طالبان نے طالبات کیلئے علیحدہ اساتذہ اور کلاسوں کے انتظام کا نہ ہونا بتایا تھا۔ جامعات تو کھل گئیں تاہم افغانستان میں اب تک لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بند ہیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک بھر میں لڑکیوں کے اسکول نئے افغان سال کی ابتدا یعنی۲۹؍ مارچ سے کھولنے کا اعلان کیا  ہے۔عالمی قوتوں نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کیلئےلڑکیوں کی تعلیم، خواتین کی ملازمتوں میں واپسی اور کابینہ میں تمام طبقات کی نمائندگی سے مشروط کیا ہے۔

kabul Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK