Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: راہل گاندھی کے ’’چھاتروں کی گونج‘‘ پروگرام کی اجازت منسوخ

Updated: August 06, 2026, 2:08 PM IST | Lucknow

اتر پردیش کے شہر پریاگ راج میں ۸؍ اگست کو منعقد ہونے والے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے طلبہ سے مکالمے کے پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ کے لیے کے پی کالج گراؤنڈ کی دی گئی اجازت واپس لے لی گئی ہے۔ کیستھ پاٹھ شالا (کے پی) ٹرسٹ نے اس فیصلے کی وجہ الہ آباد ہائی کورٹ کے سابقہ حکم، حالیہ بارش کے باعث گراؤنڈ میں پانی بھر جانے اور تعلیمی سرگرمیوں میں خلل کے خدشات کو قرار دیا ہے۔

Rahul Gandhi. Photo: INN
راہل گاندھی۔ تصویر: آئی این این

کانگریس کے سینئر لیڈر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کے مجوزہ طلبہ پروگرام ’چھاتروں کی گونج‘ کو اس وقت دھچکا لگا جب پریاگ راج کے کے پی کالج گراؤنڈ کی دیکھ بھال کرنے والے کیستھ پاٹھ شالا (کے پی) ٹرسٹ نے ۸؍ اگست کو ہونے والے پروگرام کے لیے پہلے سے دی گئی اجازت واپس لینے کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد اتر پردیش کی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جبکہ کانگریس نے اسے اپوزیشن کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ 

ٹرسٹ کے قائم مقام صدر جتیندر ناتھ چودھری نے بتایا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ۱۴؍ اگست ۲۰۲۵ء کے اپنے حکم میں ہدایت دی تھی کہ کے پی کالج کا میدان صرف کھیلوں اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کے مطابق حالیہ بارش کے باعث گراؤنڈ میں پانی بھی جمع ہے، جس کی وجہ سے وہاں بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد محفوظ نہیں سمجھا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کو دی گئی اجازت ضلعی مجسٹریٹ کی منظوری سے مشروط تھی۔ ٹرسٹ کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا کہ کالج کے پرنسپل نے آگاہ کیا ہے کہ اس تاریخ پر دو تعلیمی اداروں کے طلبہ کی سرگرمیاں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ خط میں کہا گیا: ’’معزز ہائی کورٹ کے فیصلے اور موجودہ حالات کے پیشِ نظر بہتر ہوگا کہ پروگرام بارش کے موسم کے بعد تعطیلات کے دوران رکھا جائے تاکہ طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو۔‘‘ اسی خط میں مزید کہا گیا کہ ’’مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں پہلے دی گئی اجازت افسوس کے ساتھ واپس لی جاتی ہے، آپ دفتر سے جمع کرائی گئی رقم واپس حاصل کر سکتے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: رانچی میں طلبہ کا احتجاج شدید تر، مزید ۵؍ بھوک ہڑتال پر بیٹھے

راہل گاندھی اس پروگرام میں مبینہ امتحانی پرچہ لیک، نوجوانوں کے روزگار اور طلبہ کو درپیش دیگر مسائل پر طلبہ سے براہِ راست گفتگو کرنے والے تھے۔ ’چھاتروں کی گونج‘ مہم کا آغاز راجستھان کے کوٹا سے کیا گیا تھا، جس کے بعد اس کا اگلا مرحلہ اتراکھنڈ کے دہرادون میں منعقد ہوا اور اب اس کا تیسرا بڑا پروگرام پریاگ راج میں طے تھا۔ اجازت منسوخ ہونے کے باوجود کانگریس نے واضح کیا ہے کہ پروگرام منسوخ نہیں کیا جائے گا۔ اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے پریاگ راج پہنچ کر انتظامات کا جائزہ لیا اور کہا کہ راہل گاندھی مقررہ تاریخ پر ضرور آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم دل سے چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک اور ریاست کے بچوں کا مستقبل روشن ہو، وہ ترقی کریں اور ۸؍ اگست کا ہمارا پروگرام کامیابی سے منعقد ہو۔‘‘ 

کانگریس کے میڈیا ونگ کے سربراہ پون کھیڑا نے بھی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ راہل گاندھی سے خوف زدہ ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر بھی ان سے ڈرتی ہے اور باہر بھی۔ جب بھی راہل گاندھی طلبہ کی آواز بلند کرنے جاتے ہیں، ہر بار رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ پروگرام ضرور ہوگا۔‘‘ ادھر کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے بھی اس فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ وہ اس پروگرام سے آخر کس بات سے ڈر رہے ہیں۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: یوپی اسمبلی کا مانسون اجلاس قبل از وقت ختم

اب کانگریس متبادل مقام کی تلاش میں ہے تاکہ راہل گاندھی کا طلبہ سے مکالمہ طے شدہ تاریخ پر ہی منعقد کیا جا سکے۔ فی الحال یہ واضح نہیں کہ ضلعی انتظامیہ کسی دوسرے مقام کی اجازت دے گی یا نہیں، تاہم پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ پروگرام ہر صورت منعقد کیا جائے گا۔ یہ معاملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کانگریس ملک بھر میں نوجوانوں اور طلبہ سے رابطے کی مہم تیز کر رہی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ امتحانی پرچہ لیک، بے روزگاری اور تعلیم سے متعلق مسائل نوجوانوں کے اہم ترین مسائل ہیں، جبکہ حکمراں جماعت اور کانگریس کے درمیان ان موضوعات پر سیاسی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK