• Tue, 29 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نے ریتھیون کو ۷ء۲۰؍ ارب ڈالر تک کے امرام میزائل معاہدے سے نواز دیا

Updated: September 29, 2026, 6:06 PM IST | New York

امریکی محکمہ جنگ نے ریتھیون کو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے امرام فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ ۷ء۲۰؍ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑھتی طلب کے پیش نظر میزائلوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔

Amraam Missile.Photo:INN
امرام میزائل۔ تصویر:آئی این این

 امریکی محکمہ جنگ نے ریتھیون کو امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے امرام فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تیار کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ  ۷ء۲۰؍ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑھتی طلب کے پیش نظر میزائلوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے۔
۲۵؍ستمبر کو دیا گیا اور تین روز بعد اعلان کیا جانے والا یہ پانچ سالہ معاہدہ مزید دو سال کی توسیع کے اختیارات پر بھی مشتمل ہے۔ محکمہ جنگ کے مطابق ۷ء۲۰؍ ارب ڈالر اس معاہدے کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ مالیت ہے اور اس کا مطلب فوری طور پر اتنی رقم خرچ کیا جانا نہیں ہے۔اس معاہدے میں امریکی فضائیہ اور بحریہ کی ضروریات کے ساتھ ساتھ ان بین الاقوامی خریداروں کی ضروریات بھی شامل ہیں جو فارن ملٹری سیلز پروگرام کے تحت یہ میزائل حاصل کرتے ہیں۔محکمہ جنگ کے انڈر سیکریٹری برائے حصول اور پائیداری مائیکل پی ڈفی نے ایک بیان میں کہاکہ ہم دفاعی صنعت کے تمام شعبوں میں پیداوار بڑھانے اور `آرسنل آف فریڈم تیار کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔امریکی بحریہ امرام کو رڈار سے رہنمائی حاصل کرنے والا اور ٹھوس ایندھن سے چلنے والا فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل قرار دیتی ہے۔ ریتھیون کے مطابق اس میزائل کے جدید ورژنز میں رہنمائی کی بہتر صلاحیتیں اور جدید سافٹ ویئر شامل کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’ انڈیازگاٹ لیٹنٹ ۲‘‘ میں عدنان سمیع پر مذاق، گلوکار نے دلچسپ ردِعمل کا اظہار کیا

ایڈوانسڈ میڈیم رینج ایئر ٹو ایئر میزائل (AMRAAM) ریتھیون تیار کرتی ہے، جو  آر ٹی ایکس کا حصہ ہے اور اسے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی افواج استعمال کرتی ہیں۔ محکمہ جنگ کے مطابق میزائل کی پیداوار کی رفتار سابقہ سطح کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ محکمے کی پریس ریلیز کے مطابق ۲۰۲۵ء میں میزائلوں کی پیداوار ۲۰۲۴ء کے مقابلے میں تقریباً دُگنی رہی، تاہم دونوں برسوں میں تیار کیے گئے میزائلوں کی تعداد ظاہر نہیں کی گئی۔ ریتھیون نے کہا کہ نیا معاہدہ اس سابقہ انتظام کی بنیاد پر ہے جس کے تحت سالانہ کم از کم ۱۹۰۰؍ امرام میزائل تیار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ یہ پیداواری ہدف نئے معاہدے کی مالی حد سے الگ ہے۔کمپنی نے نئے معاہدے کے تحت تیار کیے جانے والے میزائلوں کی تعداد ظاہر نہیں کی اور نہ ہی ترسیل کا کوئی مخصوص شیڈول دیا ہے۔ محکمہ جنگ نے کانگریس کی جانب سے امرام کی کثیر سالہ خریداری کے لیے اختیار فراہم کرنے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیداوار کی رفتار برقرار رکھنے اور سپلائرز کو استحکام فراہم کرنے کے لیے مسلسل مالی اعانت اور قانون سازی کے تحت اختیارات ضروری ہوں گے۔

یہ بھی پڑھئے:ایشین گیمز ۲۰۲۶ء: نیرو ڈھانڈا نے ہندوستان کو پانچواں گولڈ میڈل دلایا

ریتھیون کے صدر فل جیپر نے کہا کہ کمپنی امریکی اور بین الاقوامی صارفین کی طلب پوری کرنے کے لیے اپنی افرادی قوت، سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ بنیادی ڈھانچے میں توسیع کر رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ   ہم پیداوار کی صلاحیت کو تیزی سے بڑھانے کے لیے اپنی افرادی قوت، ٹیکنالوجی، سپلائی چین اور تنصیبات میں مسلسل نمایاں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔  انہوں نے بتایا کہ میزائل کی سپلائی چین میں توسیع کے لیے امریکہ کی سیکڑوں چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی بین الاقوامی سطح پر مشترکہ پیداوار کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے، تاہم ممکنہ غیر ملکی شراکت داروں کے نام نہیں بتائے گئے۔ کمپنی کے مطابق امرام میزائل ۴۴؍ممالک میں تعینات ہے اور ۱۴؍ مختلف پلیٹ فارمز کے ساتھ مربوط ہے۔ فضائی جنگ میں استعمال کے علاوہ یہ میزائل زمینی دفاعی نظام NASAMS میں انٹرسیپٹر کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK