امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی کرے۔
EPAPER
Updated: October 18, 2026, 10:11 PM IST | Washington
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کے خلاف کارروائی کرے۔
– امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سنیچرکو کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں آباد کاروں کے حملوں کو روکنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔روبیو نے کہا، ’’ہم ان تصاویر اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں اس سے بہت پریشان ہیں۔ ہم نے اسرائیلیوں سے کہا ہے اور ان سے کہتے رہتے ہیں کہ وہ ان چیزوں کے خلاف کارروائی کریں۔‘‘واضح رہے کہ ان کے تبصرے واشنگٹن پوسٹ کی امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن پر متعدد افراد کے حملے کی ویڈیو کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے بعد سامنے آئے۔ لیوائن جمعہ کے واقعے میں زخمی ہونے والے کم از کم دو افراد میں سے ایک تھیں، جو اس وقت پیش آیا جب اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینی شہریوں پر حملہ کیا۔مزید برآں بیلجیم کے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یورپی سفارتکاروں اور ایک فرانسیسی میئر پر بھی حملہ کیا گیا۔
روبیو نے کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ نے اس واقعے کے بارے میں استفسار کیا ہے جس میں لیوائن پر حملہ بھی شامل تھا۔ روبیو، جنہوں نے ازبکستان کے لیے پرواز میں سوار ہونے سے پہلے نامہ نگاروں سے بات کی، نے کہا کہ انہیں اتوار تک یروشلم میں امریکی سفارتخانے سے جواب ملنے کی توقع ہے۔
جبکہ اسرائیلی بستیوں کی نگرانی کرنے والے گروپ یش دین کے مطابق، مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کار۲۷؍ ستمبر سے، سالانہ زیتون کی فصل کے آغاز کے آس پاس، فلسطینیوں پر کم از کم۱۷۰؍ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ حملہ رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبہ طیبہ کے قریب ہوا، جہاں ایک وفد زیتون کی فصل کے موسم کے دوران دورہ کر رہا تھا۔وفد میں فرانسیسی اور بیلجیئم کے قونصل، پولینڈ کے نمائندے اور کیتھولک چرچ کے اہلکار شامل تھے۔نقاب پوش اسرائیلی قابضین نے وفد کے ارکان کا سامنا کیا، اور بیلجیئم کے قونصل کی گاڑی کی کھڑکی توڑ دی۔اسرائیلی فوجی ریڈیو نے رپورٹ کیا کہ فوج اور پولیس وفد کے مقام اور واقعے کی فوٹیج ملنے کے جو منٹوں کے اندر بھیجی گئی تھی، تین گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی۔