• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہم پر حملہ کیا گیا: یورپی سفارتکار نے مغربی کنارے حملے پر نیتن یاہو کے شکوک کو مسترد کر دیا

Updated: October 18, 2026, 6:59 PM IST | Jerusalem

یورپی سفارتکار نے مغربی کنارے حملے پر نیتن یاہو کے شکوک کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ،ہم پر حملہ کیا گیا،سفارتکار نے اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطے کی کمی پر تنقید کو چیلنج کیا،ساتھ ہی ایریا بی میں اسرائیل کی سیکیورٹی ذمہ داری کا حوالہ دیا۔

European consuls targeted by Israeli settlers. Photo: X
اسرائیلی آباد کاروں کے حملے کے شکار یورپی سفارتکار۔ تصویر: ایکس

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی قابضین کے حملے کا شکار ہونے والے وفد کا حصہ ایک یورپی سفارتکار نے سنیچر کو اس واقعے پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے شکوک کو مسترد کر دیا۔اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے’’کان‘‘ نے نامعلوم سفارتکار کے حوالے سے کہا، ’’حقائق واضح ہیں۔ ہم پر حملہ کیا گیا۔‘‘سفارتکار نے وفد کے دورے کو اسرائیلی فوج کے ساتھ مربوط نہ کرنے پر نیتن یاہو کی تنقید کو، اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایریا بی میں سیکیورٹی کی ذمہ داری اسرائیل کے پاس ہے،  چیلنج کیا۔مزید برآںسفارتکار نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ سفارتکاروں اور زیتون کی فصل کاٹنے والے لوگوں کو حملوں کا سامنا کیوں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ

واضح رہے کہ یہ تبصرے نیتن یاہو کے دفتر کے اس بیان کے جواب میں آئے جس میں رام اللہ کے قریب نقاب پوش اسرائیلیوں کے یورپی سفارتکاروں پر حملے کی رپورٹس پر احتیاط برتنے پر زور دیا گیا تھا۔بیان میں کہا گیا، ’’سنگین الزامات کے لیے سنگین ثبوت درکار ہیں۔‘‘نیتن یاہو کے دفتر نے تسلیم کیا کہ فوٹیج میں نقاب پوش افراد کو ایک سفارتی گاڑی کا سامنا کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے لیکن دعویٰ کیا کہ تصاویر واقعات کی مکمل ترتیب یا انفرادی ذمہ داری کو ثابت نہیں کرتیں۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے اس واقعے کی پولیس کے ساتھ مشترکہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔یاد رہے کہ یہ حملہ رام اللہ کے مشرق میں واقع قصبہ طیبہ کے قریب ہوا، جہاں ایک وفد زیتون کی فصل کے موسم کے دوران دورہ کر رہا تھا۔وفد میں فرانسیسی اور بیلجیئم کے قونصل، پولینڈ کے نمائندے اور کیتھولک چرچ کے اہلکار شامل تھے۔نقاب پوش اسرائیلی قابضین نے وفد کے ارکان کا سامنا کیا، اور بیلجیئم کے قونصل کی گاڑی کی کھڑکی توڑ دی۔اسرائیلی فوجی ریڈیو نے رپورٹ کیا کہ فوج اور پولیس وفد کے مقام اور واقعے کی فوٹیج ملنے کے جو منٹوں کے اندر بھیجی گئی تھی، تین گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر پہنچی۔

یہ بھی پڑھئے: کچھ حقائق متنازع ہیں نہ غیر واضح: نیتن یاہو کے مؤقف پر واشنگٹن پوسٹ کا ردعمل

تاہم ، اپوزیشن اسرائیل بیتینو پارٹی کے لیڈر ایوگڈور لیبرمین نے نیتن یاہو اور ان کے وزیر دفاع اور قومی سلامتی کے وزراء پر اسرائیلی قابضین کے حملوں پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام لگایا۔لیبرمین نے خبردار کیا کہ ان کی عدم فعالیت اسرائیل کے لیے بین الاقوامی حمایت کو ختم کر رہی ہے۔دریں اثناء فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف اسرائیلی قابضین کے حملے زیتون کی فصل کے موسم کے دوران شدت اختیار کر گئے ہیں، جو اس ماہ کے شروع میں شروع ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK