کانگریس سمیت مختلف تنظیموں نے معلومات کی درستگی، رازداری اور سیاسی غیر جانبداری پرسوالات قائم کئے۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 12:04 PM IST | Ali Imran | Nagpur
کانگریس سمیت مختلف تنظیموں نے معلومات کی درستگی، رازداری اور سیاسی غیر جانبداری پرسوالات قائم کئے۔
ملک میں آئندہ مردم شماری کیلئے شمار کنندگان کی تقرری کے قواعد میں تبدیلی کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے۔ نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کے علاوہ نجی تعلیمی اداروں کے اساتذہ، کمپنیوں، سوسائٹیوں اور ٹرسٹوں کے ملازمین سمیت دیگر اہل افراد کو بھی شمار کنندگان مقرر کیا جا سکے گا۔ تاہم اس فیصلے نے مردم شماری کے عمل کی شفافیت، معلومات کی درستگی، رازداری اور سیاسی غیر جانب داری کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کئےہیں۔ کانگریس لیڈروں اور دیگر تنظیموں نے اس تبدیلی پر اعتراض کرتے ہوئے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ مناسب نگرانی اور واضح معیار نہ ہونے سے سیاسی مداخلت اور غلط اندراجات ہو سکتے ہیں۔
مردم شماری کی بنیاد پر ہی سرکاری اسکیموں، ریزرویشن پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کیلئے ضروری معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر شمار کنندگان کی تقرری اور ان کی ذمہ داریوں کا معاملہ خاصا حساس سمجھا جاتا ہے۔ اطلاع کے مطابق ۱۶؍اکتوبر کو رجسٹرار جنرل کے دفتر کی جانب سے مردم شماری (ترمیمی) قواعد، ۲۰۲۶ ءکا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس کے ذریعے مردم شماری کے قواعد ۱۹۹۰ء میں شمار کنندگان کی اہلیت سے متعلق دفعات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ترمیم کے تحت ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیرانتظام علاقوں کے انتظامیہ کو ایسے افراد کی تقرری کا اختیار دیا گیا ہے جنہیں وہ اس کام کیلئے موزوں سمجھیں۔
یہ بھی پڑھئے:منوج جرنگے کا کسان تنظیموں کو متحد کرکے حکومت کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلانے کا اعلان
اس فیصلے کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ نجی شعبے سے شمار کنندگان کا انتخاب کن معیارات پر ہوگا، انہیں کس نوعیت کی تربیت دی جائے گی اور ان کے کام کی نگرانی و جواب دہی کا نظام کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔
مردم شماری میں نجی اداروں کے ملازمین کی شمولیت کو بذاتِ خود اعداد و شمار میں ردوبدل کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ماہرین اور سماجی حلقوں کے خدشات یہ ہیں کہ اگر انتخاب کا عمل شفاف نہ ہو، تربیت کا مناسب انتظام نہ کیا جائے اور نگرانی کا موثر نظام موجود نہ ہو تو غلط اندراجات اور جانبداری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کانگریس لیڈر وجے وڈیٹیوار نے سوال اٹھایا ہے کہ جب تلاٹھی، گرام سیوک اور دیگر سرکاری ملازمین دستیاب ہیں تو مردم شماری کے کام کیلئے نجی افراد کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔