پوچھا کہ بیٹیوں کو کھونے والے والدین کو کب تک در بہ در بھٹکنا پڑے گا؟
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 2:57 PM IST | Agency | New Delhi
پوچھا کہ بیٹیوں کو کھونے والے والدین کو کب تک در بہ در بھٹکنا پڑے گا؟
خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے میں سوشل میڈیا پر جذباتی اپیل کی اور سخت ردعمل کا اظہار کیا ۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک بیٹیوں کو کھونے والے کنبے انصاف کے لیے در در بھٹکتے رہیں گے اور اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑتے رہیں گے۔ پھوگاٹ نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ٹیگ کرتے ہوئے ملک میں خواتین کی سلامتی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ ونیش پھوگاٹ کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب انکیتا بھنڈاری کے والدین اپنی بیٹی کو انصاف دلانے اور اس معاملے میں بی جےپی لیڈر دشینت گوتم کے ملوث ہونے کی تحقیقات کے مطالبے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ دہلی میں انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج کے دوران انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ پھر جمعرات کے روزکی صبح ۵؍ بجے رہا کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: سی جے پی کا رانکا اورسورو کی رہائی کا مطالبہ، نیہا کی تقریر کے دوران ہنگامہ
ونیش پھوگاٹ نے پوسٹ میں لکھا کہ ایک بیٹی کے قتل کے بعد والدین کو در بہ در بھٹکنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بیٹی کو کھونے والے والدین پر کیا گزرتی ہوگی ، انہیں انصاف کیلئے اتنا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ملک میں خواتین کے خلاف جرائم اور قصورواروں کے تئیں معاشرے کے رویے پر بھی سوال اٹھائے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا ’’راشٹر پتی جی آپ تو خود ایک خاتون ہیں، کبھی اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر پوچھئے کہ ملک کی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ابھی تک کیا کیا گیا ہے۔‘‘ انکیتا بھنڈاری کے والدین نے سکم کے گورنر کے طور پر دشینت کمار گوتم کی تقرری کی مخالفت کی ہے۔ انکیتا کے والد نے مرکزی حکومت کو۲۴؍گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے پر ملک گیر تحریک شروع کی جائے گی ۔ انکیتا بھنڈاری کے کنبے اور کچھ کارکنوں نے قتل معاملہ میں مبینہ وی آئی پی کردار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ دشینت کمار گوتم نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور ہتک عزت کی کارروائی شروع کی ہے۔واضح رہےکہ۱۹؍سالہ انکیتا بھنڈاری رشی کیش کے وننترا ریسورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔۱۸؍ ستمبر۲۰۲۲ء کو قتل کر دیا گیا تھااور۴؍ دن بعد ان کی لاش نہر سے برآمد ہوئی تھی۔ اس معاملے میں ریسورٹ مالک پلکت آریہ اور اس کے۲؍ ساتھیوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ تینوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔