Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈا اور میکسیکوکا ویزا مل گیا، امریکہ کا نہیں ملا

Updated: June 05, 2026, 11:40 PM IST | Tehran

ایرانی فٹ بال ٹیم اورسیکڑوں مداحوں کیلئے مشکل ، کیا امریکہ نے جنگ میں ہار کا بدلہ لیا؟ ایرانی ٹیم کو مجبوراً اپنا ’بیس کیمپ ‘ امریکہ سے میکسیکو منتقل کرنا پڑا

Iranian football team awaits visas from US to play matches
ایرانی فٹ بال ٹیم اپنے میچ کھیلنے کیلئے امریکہ کی جانب سے ویزوں کا انتظار کررہی ہے

جب گزشتہ سال مارچ میں ایران نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے  لئے کوالیفائی کیا تھاتو اس کی  فٹ بال ٹیم نے یہ ہرگز نہیں سوچا تھا کہ ٹورنامنٹ میں ان کی شرکت کا انحصار۳؍میزبان ممالک میں سے ایک  امریکہ کی جانب سے آخری لمحات میں ملنے والے ویزوں پر ہوگا۔ اسی طرح ایرانی شائقین نے بھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ انہیں امریکہ جاکر اپنی ٹیم کا حوصلہ بڑھانے اور میچ دیکھنے کا موقع نہیں ملے گا کیوں کہ انہیں امریکہ میں داخلے سے روک دیا جائے گا۔ گزشتہ سال جون میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے تھے جس کے تحت ایران سمیت چند مخصوص ممالک کے شہریوں کو ویزا جاری کرنے کا عمل روک دیا گیا ۔ ان ممالک کو ٹرمپ  ’’دہشت گردی کی سرپرست ریاستیں‘‘ قرار دیتے ہیں  اور بدقسمتی سے اس میں ایران کو بھی شامل کیا گیا ہے۔  ایرانی فٹ بال ٹیم اور سیکڑوں مداحوں کیلئے  اور بھی بری بات یہ رہی کہ دنیا کے سب سے بڑے کھیل میلے یعنی فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کے مقابلوں کے میزبان ملک امریکہ  نے ٹورنامنٹ شروع ہونے سے چند ماہ قبل ہی ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔  ایرانی فٹ بال ٹیم کےہیڈ کوچ امیرقلعہ نوئی کی ٹیم کے  لئے امریکہ اور اسرائیل کی یہ مشترکہ جنگ محض ورلڈ کپ کی تیاریوں میں خلل نہیں تھی، بلکہ ایک تلخ اور ذاتی سانحہ بن گئی کیونکہ  امریکہ کے میزائل حملوں میں ملک بھر میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
 اس جنگ کے دوران امریکہ نے ایران کے مشہور آزادی اسٹیڈیم  پر بھی بمباری کی جہاں مقامی میچ منعقد ہوتے تھے اور قومی ٹیم ٹریننگ کرتی تھی۔ جنگ کے پہلے ہی دن میناب میں ایک اسکول پر امریکی حملے میں طالبات کی ہلاکت کے سوگ میں ایرانی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں نے نائیجیریا کے خلاف دوستانہ میچ کے دوران ہاتھوں میں اسکول کے چھوٹے بیگز تھام کر یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مہینوں سے جاری شدید سیاسی کشیدگی کے بعد ایرانی ٹیم کو اپنا بیس کیمپ امریکہ سے منتقل کر کے میکسیکو بنانا پڑا ہے۔ اب یہ قومی ٹیم جنگ کے ہولناک سائے میں ورلڈ کپ کھیلتی نظر آئے گی، وہ بھی صرف اسی صورت میں اگر امریکہ انہیں اپنے یہاں کھیلنے کے لئے ویزا بروقت جاری کردے۔  حالانکہ ایرانی ٹیم اور مداحوں  کے لئے دوسرے شریک میزبان میکسیکو اور کنیڈا نے ویزے جاری کردئیے ہیں لیکن چونکہ ایرانی ٹیم گروپ اسٹیج  کے اپنے تمام میچ امریکہ میں ہی کھیلے گی اس لئے یہ ضروری ہے کہ امریکہ فوری طور پر ٹیم کے لئے ویزا جاری کرے۔ 
  واضح رہے کہ ایرانی فٹ بال شائقین کے  لئے ویزا کے مسائل اور جنگ کے بغیر بھی امریکہ کا سفر کرنا’’تقریباً ناممکن‘‘ تھا کیوں کہ  دونوں ممالک کے درمیان براہ راست پروازیں نہیں ہیں۔ان کے مابین کوئی باقاعدہ سفارتی تعلقات بھی نہیں ہے۔   تہران سے تعلق رکھنے والے ایک فٹ بال فین علی نے بتایاکہ ویزا کے مسئلے کے علاوہ تہران سے امریکہ پہنچنے کے لئے۲؍ یا ۳؍ فلائٹس تبدیل کرنی پڑتی ہیں۔ اس کے بعد امریکہ سے ایران واپس آنا خود ایک بڑا چیلنج ہے جہاں حکومت کی طرف سے گرفتاری کا خطرہ رہتا ہے۔اس لئے بہت سے مداح یا تو جائیں گے ہی نہیں یا پھر وہ ایران کے ناک آئوٹ رائونڈ میں پہنچنے کا انتظار کریں گے کیوں کہ کچھ ناک آئوٹ میچ میکسیکو اور کنیڈا میں ہونے والے ہیں۔ اب گیند امریکہ کے پالے میں ہے کہ وہ ویزا کے تعلق سے کیا فیصلہ کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK