مرکزی بینک نے اس کے ساتھ ہی شرح نمو کے تخمینے میں بھی کمی کردی ، گورنر سنجے ملہوترہ نے واضح کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال پر بینک کی نظر ہے
EPAPER
Updated: June 05, 2026, 11:45 PM IST | Mumbai
مرکزی بینک نے اس کے ساتھ ہی شرح نمو کے تخمینے میں بھی کمی کردی ، گورنر سنجے ملہوترہ نے واضح کیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال پر بینک کی نظر ہے
اگر آپ کو اپنے قرض کی ای ایم آئی میں راحت ملنے کی امید تھی یا پھر اس کے کچھ کم ہونے کی امید تھی تو یہ امید ٹوٹ جائے گی کیوں کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ریپو ریٹ اور دیگر پالیسی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی تین روزہ میٹنگ جو جمعہ کو اختتام پذیر ہوئی ، میں مغربی ایشیا کے بحران، مہنگائی میں اضافے خصوصاً ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور کمزور مانسون کی پیش گوئی کے پیش نظر موجودہ مالی سال کیلئے جی ڈی پی نمو کے تخمینے میں کمی کر دی گئی، جبکہ افراطِ زر کے تخمینے میں اضافہ کیا گیا ہے۔
آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے ایم پی سی کے فیصلوں کی اطلاع دیتے ہوئے بتایا کہ ریپو ریٹ کو۵ء۲۵؍ فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا ہے۔ کمیٹی کے تمام چھ اراکین نے اس کی حمایت کی۔ کمیٹی نے اسٹیڈنگ ڈپازٹ فیسلٹی (ایس ڈی ایف) ریٹ کو بھی ۵؍فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دیگر شرحیں بھی بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رکھی گئی ہیں۔ کمیٹی نے اپنا مؤقف غیرجانبدار رکھا ہے یعنی مستقبل میں شرحوں میں اضافہ یا کمی دونوں کے امکانات کھلے رکھے گئے ہیں۔
ایم پی سی نے موجودہ مالی سال کے لئے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو کا تخمینہ کم کرکے ۶ء۶؍ فیصد کر دیا ہے۔ اپریل کے بیان میں یہ تخمینہ ۶ء۹؍فیصد تھا۔ ملہوترا نے کہا کہ پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو ۶ء۶؍ فیصد، دوسری سہ ماہی میں ۶ء۳؍فیصد، تیسری سہ ماہی میں۶ء۵؍ فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں۶ء۸؍ فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض شعبوں میں سست روی کے آثار نظر آنے لگے ہیں اور غذائی پیداوار کے حوالے سے صورتحال غیر یقینی ہے۔ شرحوں کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے مزید اعداد و شمار کا انتظار کرنا ہوگا۔
مہنگائی کے محاذ پر انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث افراطِ زر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایندھن کی قیمتوں میں۔ موجودہ مالی سال میں خوردہ افراطِ زر کی شرح ۵ء۱؍ فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔