Updated: October 19, 2026, 3:03 PM IST
| Paris
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک گیر احتجاج کے دوران لوٹ مار، آتش زنی اور سرکاری عمارتوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم سب غصہ اور شرمندگی محسوس کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے پُرامن مظاہرین کے جائز مطالبات اور تشدد میں ملوث افراد کے درمیان فرق واضح کیا اور خبردار کیا کہ کاروباری مراکز اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون۔ تصویر: آئی این این
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے اخراجات کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران بڑے پیمانے پر تشدد اور لوٹ مار کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس میں پیش آنے والے مناظر ناقابلِ قبول ہیں۔ اتوار کی شام ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں انہوں نے پولیس اہلکاروں، میئرز، دکانداروں اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور سرکاری عمارتوں پر حملوں میں ملوث افراد کو جواب دہ بنایا جائے گا۔ میکرون نے کہا، ’’ہم سب غصہ اور شرمندگی محسوس کررہے ہیں۔‘‘ انہوں نے فرانسیسی شہریوں کی جانب سے اپنے ہی ملک میں تباہی مچانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’فرانس کے لوگ فرانس کے ساتھ ایسا کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘ صدر نے واضح کیا کہ احتجاج کے دوران اپنے مطالبات پیش کرنے والے شہریوں اور تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی کرنے والوں کو ایک ہی نظر سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ ان کے مطابق، حکومت عوامی شکایات کو سننے کے لیے تیار ہے، لیکن تشدد کو احتجاج کا قابلِ قبول طریقہ نہیں مانا جاسکتا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹائیگر شروف فائرنگ معاملہ: کوٹا سے ۳؍ مشتبہ افراد گرفتار
میکرون کا خطاب ۱۷؍ اکتوبر کو ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں کے بعد سامنے آیا، جن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ساڑھے ۵؍ لاکھ افراد شریک ہوئے، جبکہ منتظمین نے یہ تعداد ۸؍ لاکھ بتائی۔ ابتدا میں طلبہ کی جانب سے اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور خراب تعلیمی سہولتوں کے خلاف شروع ہونے والی تحریک بعد میں مہنگائی، بڑھتے اخراجات اور معاشی نابرابری کے خلاف ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہوگئی۔ تاہم، مظاہروں کے دوران بعض گروہوں نے دکانوں کو لوٹا، گاڑیوں اور عمارتوں کو آگ لگائی اور پولیس سے جھڑپیں کیں۔ برطانوی اخبار دی انڈیپنڈنٹ کی لائیو رپورٹ کے مطابق، پیرس سمیت کئی شہروں میں کاروباری مراکز اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ وسطی فرانس کے شہر لیوموج میں ۱۹؍ ویں صدی کی تاریخی سٹی ہال عمارت میں آگ لگنے سے اس کی چھت گر گئی۔ پیرس، مارسی، لیون، بورڈو، رین، اسٹراسبرگ، گرینوبل اور نیس میں بھی لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ اتوار تک گرفتار افراد کی تعداد ۲؍ ہزار سے تجاوز کرچکی تھی، جبکہ بعد کی رپورٹوں میں یہ تعداد تقریباً ۲۴۰۰؍ بتائی گئی۔ پیرس میں پولیس نے ریکارڈ تعداد میں گرفتاریاں کیں۔
یہ بھی پڑھئے:فرانس: طلبہ کا احتجاج پُرتشدد، سرکاری عمارتوں کو نقصان، ۱۲۰۰؍ سے زائد گرفتار
صدر نے خطاب سے قبل اعلیٰ حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس بھی کیا۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لینے کی ہدایت دی کہ آیا احتجاج سے پہلے خفیہ معلومات جمع کرنے، پولیس کی تیاری یا حفاظتی انتظامات میں کوئی خامی رہ گئی تھی۔ میکرون نے مقامی حکام کو ضرورت پڑنے پر بعض اجتماعات پر پابندی لگانے کے اختیارات دینے کی بھی بات کی، تاکہ تشدد کے خطرے والے مظاہروں کو قابو میں رکھا جاسکے۔ اس دوران فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کی، لیکن تشدد اور لوٹ مار کی مذمت کی۔ دوسری جانب مختلف سیاسی جماعتوں نے حکومت کے ردعمل اور احتجاج کی وجوہات پر الگ الگ مؤقف اختیار کیا۔ دائیں بازو کے رہنماؤں نے امن و امان کی صورت حال پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ بائیں بازو کے رہنماؤں نے معاشی شکایات اور پولیس کے طرزِ عمل پر سوالات اٹھائے۔
میکرون کے لیے یہ بحران ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی صدارت کے آخری مہینوں میں فرانس کو معاشی دباؤ، بجٹ کے مسائل اور سیاسی اختلافات کا سامنا ہے۔ احتجاج کی شدت نے حکومت کے لیے دو اہم چیلنج پیدا کردیے ہیں: ایک طرف عوامی املاک اور کاروباروں کا تحفظ یقینی بنانا، دوسری طرف ان شکایات کا جواب دینا جنہوں نے طلبہ کی تحریک کو مہنگائی اور معاشی نابرابری کے خلاف وسیع احتجاج میں تبدیل کیا۔ صدر نے اپنے خطاب میں پُرامن مظاہرین کے مطالبات کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا، لیکن ان کا بنیادی پیغام واضح تھا کہ احتجاج کے حق کو تشدد اور لوٹ مار کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ حکومت مجرموں کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ تعلیمی سہولتوں اور زندگی کے بڑھتے اخراجات سے متعلق عوامی شکایات کا کیا حل پیش کرتی ہے۔