• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس: طلبہ کا احتجاج پُرتشدد، سرکاری عمارتوں کو نقصان، ۱۲۰۰؍ سے زائد گرفتار

Updated: October 18, 2026, 12:56 PM IST | Paris

فرانس میں مہنگائی، توانائی و غذائی اشیا کی بڑھتی قیمتوں اور عوامی خدمات میں کٹوتیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج ملک گیر بدامنی میں تبدیل ہوگیا، جس کے دوران ہزاروں افراد گرفتار اور متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ان مظاہروں کے درمیان میئر بالی باغایوکو نوجوانوں کی تحریک کا نمایاں چہرہ بن کر ابھرے ہیں، تاہم انہیں تشدد کے الزامات، سیاسی مخالفت اور نسلی تعصب پر مبنی تنقید کا بھی سامنا ہے۔

A scene of a protest in France. Photo: INN
فرانس میں احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

فرانس میں مہنگائی، بڑھتی ہوئی توانائی اور غذائی اشیا کی قیمتوں اور عوامی خدمات میں کمی کے خلاف طلبہ کے احتجاج نے ہفتے کے روز ملک گیر بدامنی کی شکل اختیار کرلی۔ وزیراعظم سباستین لیکورنو کے مطابق، مظاہروں کے دوران ۱۲۰۰؍ سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ۱۵۰؍ سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ دوسری جانب مظاہرین کی تنظیموں نے دعویٰ کیا کہ ملک بھر میں ہونے والے مظاہروں میں تقریباً۸؍ لاکھ افراد نے شرکت کی۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے اس سے قبل بتایا تھا کہ ملک بھر میں ۱۱۰؍ احتجاجی مارچوں میں تقریباً۵؍ لاکھ۵۰؍ ہزار افراد شریک ہوئے۔ طلبہ کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے بائیں بازو کے صدارتی امیدوار ژاں لوک میلانشوں نے بھی سنیچرکو پیرس میں احتجاج میں شرکت کی۔ مزدور یونین سی جی ٹی اور طلبہ تنظیموں سمیت مظاہروں کے منتظمین نے اسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے بتایا کہ سڑکوں پر اترنے والے مظاہرین کی تعداد تقریباً۸؍ لاکھ تھی۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے مختلف نسلوں اور عمر کے لوگوں پر مشتمل مظاہرین کو ’’انتہائی پُرتشدد اور انتہا پسند بائیں بازو کا گروہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد پولیس سے تصادم کرنا اور سرکاری عمارتوں، بشمول سٹی ہال اور مقامی حکومتی دفاتر، کو نشانہ بنانا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ

فرانس میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں 
فرانس سے سامنے آنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں احتجاج کے پُرتشدد رخ کو دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں ملک کے تیسرے بڑے شہر لیون کے سیاحتی دفتر کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا گیا، جبکہ ایک مظاہرہ کرنے والا شخص فرانسیسی قومی پرچم اوڑھے عمارت کے سامنے کھڑا تھا۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی ایک تصویر میں مارسیلے کے میونسپل پولیس اسٹیشن میں توڑ پھوڑ دکھائی گئی، جبکہ رائٹرز کی ایک تصویر میں پیرس کے پلیس دے لا ریپوبلیک میں مظاہرین فرانسیسی اور فلسطینی پرچم اٹھائے ایک مجسمے پر کھڑے نظر آئے۔ پیرس کے وسطی علاقے سے شمال مشرق میں واقع پلیس دے لا ریپوبلیک میں متعدد افراد کو چہرے ڈھانپے اور نقاب پہنے دیکھا گیا، جو پولیس اہلکاروں پر آتش بازی کے سامان، پتھر اور دیگر اشیا پھینک رہے تھے۔ جنوب مغربی وسطی فرانس کے شہر لیموژ کے پریفیکٹ موریس باراتے نے اے ایف پی کو بتایا کہ مظاہروں کے دوران سٹی ہال کی عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے اور وہ تقریباً تباہ ہوچکی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق، عمارت کی چھت نچلی منزلوں پر گر گئی، مغربی حصے کے سوا عمارت کے بیشتر حصے متاثر ہوئے اور اس کا تقریباً دو تہائی اگلا حصہ منہدم ہوچکا ہے۔ یاد رہے کہ سٹی ہال کا افتتاح۱۸۸۳ء میں ہوا تھا اور اس کے بعض حصوں کو۱۹۷۵ء میں تاریخی یادگار قرار دیا گیا تھا۔ باراتے نے اس تباہی کو ’’تاریخی ورثے کیلئے ایک بڑا سانحہ‘‘ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: لندن: دھرو راٹھی کا ’ووٹ چوری‘ کے خلاف احتجاج، بندر کے کھلونے سے مودی پر طنز

دوسری جانب، پولیس نے حالات پر قابو پانے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ پولیس کی درخواست پر متعدد میٹرو اسٹیشن بھی بند کردیئے گئے، جن میں شانزے لیزے، صدارتی محل، پارلیمنٹ اور سرکاری دفاتر کے قریب واقع اسٹیشن شامل تھے۔ یہ بحران کئی برسوں میں فرانس کی بدترین بدامنی کی صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی دوران پولیس کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔ وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے استعمال کئے جانے والے ہتھیاروں کے نتیجے میں بعض نوعمر مظاہرین کو جنگ جیسے سنگین زخم آئے ہیں۔ اس سے قبل وزیر داخلہ لوراں نونیز نے سینیٹ کو بتایا تھا کہ مظاہرین کے خلاف پولیس تشدد کے۳۰؍ سے زائد الزامات کی داخلی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ان شکایات میں مبینہ طور پر دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال سے چار بچوں کے شدید طور پر معذور ہونے اور چھ دیگر کے سنگین زخمی ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جنسی حملوں اور جسمانی تشدد کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ 
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا، ’’ہماری جمہوریہ میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں۔ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، حکومتی دفاتر اور کاروباری اداروں پر حملے کرنے اور یہاں تک کہ ہمارے سٹی ہالوں میں لوٹ مار کرنے والوں کے خلاف مقدمات چلائے جائیں گے اور انہیں سزا دی جائے گی۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہم افراتفری پھیلانے والوں اور لوگوں کو پُرامن طریقے سے اپنے مطالبات پیش کرنے سے روکنے والوں کے خلاف متحد رہیں گے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: آذربائیجان نے اسکولوں میں اسکارف پر پابندی لگانے کا حکم دیا، ترکی کے ساتھ تعلقات کشیدہ

فرانس میں احتجاج کی وجوہات کیا ہیں؟
فرانس میں پٹرول، توانائی اور غذائی اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث مظاہرین نے ۲۰۱۸ءکی ’’یلو ویسٹ‘‘ تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ تحریک سماجی ناانصافی کے خلاف شروع ہوئی تھی۔ حالیہ ہفتوں میں احتجاج نے بڑے پیمانے پر شدت اختیار کرلی ہے، تاہم طلبہ تنظیمیں ستمبر کے وسط سے ہی مظاہرے کررہی تھیں اور دیگر لوگوں سے بھی اس تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کررہی تھیں۔ فرانس کی بڑی مزدور تنظیموں میں شامل جنرل کنفیڈریشن آف لیبر (سی جی ٹی) نے بھی مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ یونین نے زیادہ اجرتوں اور پنشن، قیمتوں میں کمی اور عوامی ضروریات پوری کرنے والی سرکاری خدمات کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔ یونین نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں احتجاج کی تازہ لہر کو ’’تحریک کا ایک نیا مرحلہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو عوام کے مطالبات کا فوری جواب دینا چاہئے۔ اس نے نوجوانوں کے ساتھ پُرامن احتجاج جاری رکھنے اور۵؍ نومبر کو مختلف مزدور یونینوں کی مشترکہ ہڑتال کا بھی اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھئے: کچھ حقائق متنازع ہیں نہ غیر واضح: نیتن یاہو کے مؤقف پر واشنگٹن پوسٹ کا ردعمل

فرانس کے نوجوانوں کے احتجاج کا چہرہ بننے والے۵۳؍ سالہ میئر
اس ماہ مشرقی پیرس میں طلبہ کے ایک مظاہرے کے دوران فسادات پر قابو پانے کے لیے تعینات پولیس اہلکاروں نے اپنی ڈھالیں نوجوان مظاہرین کے ایک گروپ کی جانب بڑھائیں۔ نوجوانوں اور پولیس کے درمیان ایک لمبا شخص سرمئی سوٹ اور ہلکی جامنی رنگ کی ٹائی پہنے کھڑا تھا۔ اس نے اپنے بازو پھیلا کر نوجوانوں کو پولیس سے بچانے کی کوشش کی اور بلند آواز میں کہا، ’’رک جاؤ!‘‘ یہ شخص بالی باغایوکو (Bally Bagayoko) تھا، جو پیرس کے گنجان آباد اور متنوع آبادی والے مضافاتی علاقے سینٹ ڈینس پیئرفیت-سور-سین کے میئر ہیں۔ یہ علاقہ اپنی تاریخی باسیلیکا، قومی اسٹیڈیم اور غربت و جرائم کی بلند شرح کیلئے جانا جاتا ہے۔ تقریباً ایک ماہ قبل طلبہ نے بہتر تعلیمی حالات کے مطالبے پر اپنے اسکولوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی۔ اس کے بعد ریلیوں اور ہفتے کے روز فرانس بھر میں ہونے والی بدامنی نے تحریک کو مزید وسعت دی، جس کے نتیجے میں باغایوکو ملک بھر میں معروف شخصیت بن گئے۔ 
احتجاج کے دوران باغایوکو کی ویڈیوز سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن خبروں پر باقاعدگی سے نشر ہوئیں۔ ان کی حمایت کرنے والوں نے انہیں اسپائیڈر مین، یعنی مزاحیہ کہانیوں کے مشہور سپر ہیرو سے تشبیہ دی، جو دنیا بھر میں نوجوانوں کے احتجاج کی علامت بن چکا ہے۔ دوسری جانب دائیں بازو کے سیاست دانوں سمیت ان کے ناقدین نے ان پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام لگایا اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ ان کی تنقید میں خاص طور پر گزشتہ ماہ دیا گیا وہ بیان شامل تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’کسی موقع پر تشدد جائز ہوسکتا ہے‘‘، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ ’’جب بھی تشدد سے بچنا ممکن ہو، ایسا کرنا بہتر ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: غزہ میں دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا

۵۳؍سالہ باغایوکو کے مطابق، ان کے خلاف ہونے والی مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاسی مخالفین اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات میں ان کی جماعت کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ ان کی جماعت کے لیڈرژاں لوک میلانشوں کو تارکین وطن کی بڑی آبادی والے شہروں سے ملنے والی حمایت کی بدولت صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ باغایوکو نے ایک انٹرویو میں اپنے بارے میں تیسرے شخص کے صیغے میں بات کرتے ہوئے کہا، ’’انہیں یقین ہے کہ محنت کش طبقے کے ان علاقوں سے کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جن کی نمائندگی یہ غیر روایتی میئر کرتا ہے۔ اسی لیے وہ ان کی شبیہ خراب کرنے اور انہیں نااہل ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ‘‘ناقدین کا کہنا ہے کہ باغایوکو معاشرے میں تقسیم کو بڑھاوا دیتے ہیں اور جن اسکولوں کی ناکہ بندی میں انہوں نے شرکت کی، وہاں مظاہرین کی جانب سے کی گئی توڑ پھوڑ کی ذمہ داری بھی انہیں قبول کرنی چاہئے۔ پیرس کے مضافاتی علاقے سینٹ ڈینس پر مشتمل علاقائی انتظامیہ کی سربراہ ویلری پیکریس نے سوشل میڈیا پر تجویز پیش کی کہ اسکول کے ایک تباہ شدہ دروازے کی مرمت کیلئے باغایوکو سے تقریباً ایک لاکھ۱۰؍ ہزار ڈالر وصول کئے جائیں۔ انہوں نے کہا، ’’میئر کو اپنے اقدامات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: تل ابیب میں واقع کولمبیا کے سفارتخانے کو القدس منتقل کرنے کی مذمت

باغایوکو کو تنقید کا سامنا ان کے مارچ میں غیر متوقع طور پر میئر منتخب ہونے کی رات ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ وہ پیرس کے شمالی مضافاتی علاقوں میں رنگ دار فام پس منظر رکھنے والے نئے منتخب میئروں کی ایک لہر کا حصہ تھے۔ ان کی کامیابی کو خاص اہمیت حاصل ہوئی، کیونکہ سینٹ ڈینس پیئرفیت-سور-سین میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد رہتے ہیں اور یہ پیرس کے مضافاتی علاقوں میں سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں میں سے ایک ہے۔ انتخاب کے چند گھنٹوں بعد باغایوکو نے قومی ٹیلی ویژن پر براہ راست انٹرویو دیا۔ انٹرویو کے ایک حصے کو کاٹ کر دائیں بازو کے سیاست دانوں اور صحافیوں نے گمراہ کن انداز میں پیش کیا۔ باغایوکو نے کہا تھا کہ وہ اب ’’لا ویل دے روا‘‘ یعنی ’’بادشاہوں کا شہر‘‘ کے میئر ہیں، کیونکہ فرانس کے سابق بادشاہوں اور ملکہوں کی قبریں اسی شہر کی باسیلیکا میں ہیں۔ تاہم، ان کے مخالفین نے غلط طور پر دعویٰ کیا کہ انہوں نے اسے ’’سیاہ فاموں کا شہر‘‘ کہا ہے۔ 
اگلے ہفتے دائیں بازو کے ایک میڈیا ادارے فرنٹیئرز کے بانی نے قومی ٹیلی ویژن پر جھوٹا دعویٰ کیا کہ منشیات فروشوں نے باغایوکو کے انتخاب میں کردار ادا کیا تھا۔ اس نے میئر سے سوال کیا، ’’آپ کس کے اشاروں پر کام کررہے ہیں ؟‘‘اس کے بعد سی نیوز نامی ٹیلی ویژن چینل پر باغایوکو کے انتخاب اور پولیس کو ربڑ کی گولیاں استعمال کرنے سے روکنے کی ان کی تجویز پر بحث ہوئی۔ چینل کے ایک مہمان نے انسانوں کا تعلق عظیم بندر خاندان سے جوڑتے ہوئے میئر کا موازنہ ایک ’’شکاری اور خوراک جمع کرنے والے قبائلی رہنما‘‘ سے کیا، جس کا کام اپنے گروہ پر اختیار قائم کرنا ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: عالمی مخالفت کے باوجود کولمبیا کا مغربی یروشلم میں سفارت خانہ قائم

اگلے روز اسی چینل کے ایک میزبان نے پولیس پر اختیار قائم کرنے کے باغایوکو کے ارادے کو ’’قبائلی طرزِ عمل‘‘ قرار دیا۔ پیرس کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے چینل کے خلاف اصل، نسل، قومیت، رنگ یا مذہب کی بنیاد پر توہین کے الزام میں تحقیقات شروع کیں، تاہم سی نیوز نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ باغایوکو کا کہنا ہے کہ ان تمام واقعات کے باوجود انہوں نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور مسکراتے رہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ایک سیاہ فام شخص ہونے کی حیثیت سے، ٹیلی ویژن اسٹوڈیو میں اپنا ضبط کھونے پر مجھے کوئی معاف نہیں کرتا۔ ‘‘ان کے مطابق، ان کے خلاف جاری مہم نے واضح کردیا ہے کہ فرانس ابھی تک افریقی پس منظر رکھنے والے شہریوں کو اپنے معاشرے کا مکمل رکن تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ سابق فرانسیسی نوآبادیات سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی اولاد، یعنی سیاہ فام فرانسیسی شہری، ملک میں اہم عہدوں پر اب بھی کم نمائندگی رکھتے ہیں۔ 
باغایوکو نے کہا، ’’فرانس کو اب بھی اپنے ہی بچوں کو قبول کرنے میں مسئلہ درپیش ہے، کیونکہ میں فرانسیسی ہوں۔ ‘‘فرانس کے دیگر کئی سیاہ فام لیڈروں کے برعکس، باغایوکو نے نسل پرستی کے مسئلے کو اپنی سیاست کا اہم حصہ بنایا ہے۔ میئر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے فرانس میں نسل پرستی کی مذمت کیلئے دو بڑی ریلیاں منعقد کیں۔ اگست میں انہوں نے ایک ایسی مہم شروع کرنے میں بھی مدد کی جس کا مقصد آنے والے صدارتی انتخابات میں اس مسئلے کو بحث کا حصہ بنانا ہے۔ صحافی، فلم ساز اور نسل پرستی کے خلاف سرگرم کارکن روخایا دیالو نے کہا، ’’فرانس میں نظامی نسل پرستی سے نمٹنا ایک ایسا موضوع ہے جس پر بات کرنا اب بھی انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ہمیں ایسے سیاہ فام اور اپنی شناخت پر فخر کرنے والے سیاست دان بہت کم دکھائی دیتے ہیں جو نسل پرستی کا نام لے کر اس کے بارے میں بات کرنے سے نہ گھبرائیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی حمایت پر انڈونیشیا میں اینڈریا بوچیلی کے کنسرٹ کی منسوخی کا مطالبہ

باغایوکو کو دو عدالتی تحقیقات کا بھی سامنا ہے۔ پہلی تحقیق اس الزام سے متعلق ہے کہ انہیں اپنے سیاسی کیریئر کے ابتدائی دور میں شہر کے ٹرانسپورٹ ادارے میں سفارش کی بنیاد پر ملازمت دی گئی تھی، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔ دوسری تحقیق گزشتہ ماہ احتجاج کے دوران تشدد کے جواز سے متعلق ان کے بیان کے بعد تشدد پر اکسانے کے الزامات کے بارے میں ہے۔ اس کے باوجود باغایوکو کی مقبولیت اور سوشل میڈیا پر ان کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے حامی ان کا موازنہ نیویارک کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میئر ظہران ممدانی سے کرتے ہیں۔ ۲۱؍ سالہ کمیونیکیشن کے طالب علم میکسم بوچامپس نے، جو ایک ریلی میں باغایوکو کے گرد جمع نوجوانوں میں شامل تھے، کہا، ’’وہ ہمارے ممدانی ہیں۔ وہ لوگوں کیلئے اسی امید کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ‘‘ ریلی کے دوران کئی مرتبہ ہجوم نے نعرے لگائے، ’’بالی صدر بنو! بالی صدر بنو!‘‘ بہت سے نوجوان باغایوکو کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں۔ ۱۷؍ سالہ آیا گیتیپ نے کہا، ’’وہ ہمیں دکھاتے ہیں کہ محنت کش طبقے کے علاقوں یا ان پس ماندہ ماحول سے تعلق رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کامیاب نہیں ہوسکتے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK