Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایم پی ایس سی کا پرچہ بھی لیک ہوا تھا؟: روہت پوار کا الزام

Updated: July 28, 2026, 7:51 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

رکن اسمبلی نے دعویٰ کیا کہ نندور بار کی ایک کوچنگ کلاسیس کے ذریعے پرچہ لیک کیا گیا تھا، کلاسیس نے اپنے طلبہ کو جو سوالات دیئے وہی سوالات امتحان میں آئے تھے

MLA Rohit Pawar once again attacks the government
رکن اسمبلی روہت پوار، ایک بار پھر حکومت پر حملہ آور

ین سی پی (شرد) کے رکن اسمبلی روہت پوار نے ایم پی ایس سی کے پرچے کے لیک ہونے کا شبہ ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ اپنے ہم خیال لوگوں کو سول سرس میں شامل کرنے کی غرض سے پیسے دے کرپیپر لیک کئے جارہے ہیں۔انہوںنے  اس معاملے میں فوری طور پر تحقیقات کرکے خاطیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ساتھ ہی کارروائی نہ ہونے پر احتجاج کا بھی انتباہ دیا۔ 
  رکن اسمبلی روہت پوار نے ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کرکے سوال اٹھایا کہ کیا ایف ڈی اے محکمہ میں ڈرگ انسپکٹر کی بھرتی کا پیپر بھی اسی طرح لیک ہوا تھا؟ غریبوں کے بچے ان امتحانات کیلئے محنت کرتے ہیں۔ لیکن مہاراشٹر میں، پیسے دے کر پیپر لیک ہو سکتے۔ ارباب اقتدار چاہتے ہیں کہ ان کے نظریات کےافراد انتظامیہ میں شامل ہوں، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پورا ایم پی ایس سی کا پرچہ لیک ہوا تھا، لیکن جس شخص نے پیپر سیٹ کیا وہ لیک ہو گیا۔ روہت پوار نے دعویٰ کیا کہ نندور بار کی ایک کوچنگ کلاسیس میں  ڈرگ انسپکٹر بھرتی کیلئے آنے والا پرچہ پہلے ہی تقسیم کر دیا گیا تھا۔ 
  انہوںنے کہا کہ ڈرگ انسپکٹر کی بھرتی کے امتحان کا اشتہار ۲۹؍جولائی۲۰۲۵ءکو شائع ہوا تھا۔ امتحان ۲۲؍مارچ ۲۰۲۶ءکو ہوا  جس میں ۴۴؍ ہزار ۵۰۰؍ طلبہ نے شرکت کی ۔ نتائج کی تاریخ۱۲؍جون تھی، اس کے بعد۲۲؍ جولائی کو میرٹ لسٹ شائع ہوئی، اس میں۵۰۶؍امیدواروں نے کوالیفائی کیا اور ان میں سے۱۵۰؍ فائنلسٹ تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نندوربار ضلع  میں کوٹیلیا اکیڈمی کے نام سے ایک کلاس ہے۔ اس کلاسیس کے ذریعے پیپر لیک کیا گیا۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایم پی ایس سی کا پورا پیپر لیک ہوا تھا لیکن جس شخص نے پیپر سیٹ کیا وہ لیک ہوا۔ اس کلاس کے طلبہ کے پاس پہلے ہی۹۰؍ فیصد سوالات تھے۔ دو دن پہلے طلبہ کو پرچوں کے سوالات موصول ہوئے تھے۔ طلبہ کے پیسے ادا کرنے کےبعد متعلقہ شخص انہیں وہاٹس ایپ پرسوالات  بھیجتا تھا اور ۲؍ سے۳؍ منٹ میں ’ ڈیلیٹ فار آل‘ کر دیتا تھا۔  روہت پوار نے وضاحت کی ہے کہ تمام سوالات ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد ایک طالب علم نے انہیں ثبوت کے طور پر ایک دوست کے پاس بھیجا جو اپولیس کیلئے ثبوت ہے ۔ روہت پوار نے پریزنٹیشن میں وہ پرچہ بھی دکھایا جو امتحان میں آیا تھا اور وہ جو کلاسیس میں تقسیم کیا گیا تھا۔روہت پوار نے بتایا کہ اس معاملے میں ایک نوجوان نے شکایت درج کروائی تھی لیکن اس پر دبائو بناکر اسے وہ شکایت واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ شکایت واپس لینے کے تعلق سے نوجوانون نےجو جواز پیش کیا تھا اس پر بھی روہت پوار نے کئی سوالات اٹھائے۔ روہت پوار کا کہنا ہے کہ اب وہ نوجوان کہہ رہا ہے کہ وہ اپنی شکایت پر قائم ہے۔ اس لئے اس کی جانچ ہونی چاہئے۔  انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں اگر حکومت نے ۷؍ دنوں کے اندر تحقیقات شروع نہیں کی تو دہلی سے بڑا احتجاج مہاراشٹر میں کیا جائے گا۔ 
  پریس کانفریس کے بعد روہت پوار ایف ڈی اے کے کمشنر تکارام منڈے سے بھی ملے اور انہیں ایک میمورنڈم دے کر اس معاملے میں پیش رفت کرنے کا مطالبہ کیا۔ تکارام منڈے نے انہیں یقین دلایا کہ اس تعلق سے جو بھی ممکن ہو سکے گا وہ قدم اٹھائیں گے۔ یاد رہے کہ تکارام منڈے کی شبیہ ایک ایماندار اور فرض شناس آئی اے ایس افسر کی ہے۔ 
 پولیس میں شکایت درج کر کے جانچ کی جائے گی
  روہت پوار کی پریس کانفرنس کے بعد ایم پی ایس سی کی جانب سے بھی اس کا جواب آیا۔ایم پی ایس سی کے صدر وویک بھیمنوار نے کہاکہ ’’کمیشن پر طلبہ کا یقین قائم رہے اس کیلئے ڈرگ انسپکٹر کے پیپر لیک کی پولیس میں شکایت درج کی جائے۔ پولیس کی جانچ میں جو بھی سامنے آئے گا اس کے مطابق آگے کی کارروائی کی جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’ شکایت کنندہ گاگرڈے نے ایک ریل جاری کر کے کہا ہے کہ وہ اپنی شکایت پر قائم ہے اس لئے اس کی اور جتنے طلبہ نے شکایت کی ہے سبھی کی شکایتیں سنی جائیں گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ ۶؍ یا ۷؍ سال میں بیشتر مقابلہ جاتی امتحانات میں پیپر لیک ہوئے ہیں اور  امتحانات منسوخ کر دیئے گئے جس کی وجہ سے طلبہ کومایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK