Updated: September 21, 2026, 10:03 PM IST
| Bhopal
کرناٹک کے یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت ضلع بال گھاٹ میں مختلف بیماریوں کے باعث ۳۰ سے زائد قبائلی بچوں کی اموات پر وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کررہی ہے۔ گزشتہ ہفتے، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک مفادِ عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کرتے ہوئے ان اموات پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا۔ اس درخواست میں ناکافی علاج کا الزام لگایا گیا تھا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ ۵۰ بستروں کی گنجائش والے اسپتال میں تقریباً ۴۰۰ بچوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔
کاویہ کرناٹک۔ تصویر: ایکس
ڈجیٹل کنٹینٹ کریئیٹر، آزاد صحافی اور ”کے کے کریئیٹ“ (KK Create) کی بانی کاویہ کرناٹک نے الزام لگایا ہے کہ مدھیہ پردیش میں بچوں کی اموات اور صحت کی بہتر سہولیات کے مطالبات پر رپورٹنگ کے دوران انہیں اور ان کی ٹیم کو دو ہوٹل چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ لنکڈ اِن (LinkedIn) پر ایک پوسٹ میں، کرناٹک نے الزام لگایا کہ پولیس ہوٹل کے ریکارڈ کی جانچ کر رہی تھی اور دہلی سے آنے والے نامہ نگاروں کو نکال رہی تھی۔ انہوں نے لکھا کہ ”حقیقت دکھانے پر مجھے ہوٹل سے باہر نکال دیا گیا۔“
کرناٹک نے بتایا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شوٹنگ کیلئے تین دن کیلئے ایک ہوٹل بک کرایا تھا، لیکن ایک ہی دن کے اندر ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے خاندانی تقریب کا عذر پیش کرتے ہوئے انہیں وہاں سے چلے جانے کیلئے کہا گیا۔ اس وضاحت پر شک کے باوجود وہ دوسرے ہوٹل میں منتقل ہوگئے، جہاں انہیں دوبارہ ایک ہی رات کے اندر کمرہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔ کرناٹک نے الزام لگایا کہ ”بعد میں ہمیں معلوم ہوا کہ پولیس ہوٹلوں کے ریکارڈ کی جانچ کر رہی تھی اور دہلی سے آنے والے ہر رپورٹر کو باہر نکال رہی تھی۔“
یہ بھی پڑھئے: راہل کے پروگرام میں پی ایم مودی کی نقل اتارنے والے کامیڈین کے ۳؍ شوز منسوخ
کرناٹک نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں خوفزدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی تھی اور پولیس کے پاس ان کی آدھار کی تفصیلات موجود تھیں۔ انہوں نے لکھا کہ ”میرا سامان ہوٹل میں تھا اور مجھے اسے وہاں چھوڑتے ہوئے غیر محفوظ محسوس ہو رہا تھا۔“ انہوں نے کہا کہ وہ اس ریاست میں اس لئے گئیں کیونکہ ”ہندوستان کا یہ رخ دکھانا بھی ضروری ہے۔“ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ انصاف، صحت کی بہتر سہولیات اور زیادہ جوابدہ نظام کے مطالبات لے کر سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ دیہاتیوں کیلئے حفظانِ صحت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر ایسے وسائل اور مستعدی کیوں نہیں لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ”معلوم ہوا کہ ترجیح حقیقت کو سدھارنا نہیں، بلکہ اسے چھپانا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ’’بی جے پی اور آر ایس ایس نے تعلیمی نظام کو کھوکھلا کردیا ہے ‘‘
کرناٹک کے یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت ضلع بال گھاٹ میں مختلف بیماریوں کے باعث ۳۰ سے زائد قبائلی بچوں کی اموات پر وسیع پیمانے پر تنقید کا سامنا کررہی ہے۔ گزشتہ ہفتے، مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ایک مفادِ عامہ کی عرضی (PIL) کی سماعت کرتے ہوئے ان اموات پر ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا۔ اس درخواست میں ناکافی علاج کا الزام لگایا گیا تھا اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ ۵۰ بستروں کی گنجائش والے اسپتال میں تقریباً ۴۰۰ بچوں کا علاج کیا جا رہا تھا۔