ذیل میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کی نیشنل پریسیڈنٹ نیہا بورا کی اُس تقریر کے بعض حصے، بڑی حد تک من و عن، پیش کررہے ہیں جو اُنہوں نے گزشتہ روز (جمعرات کو) جنتر منتر میںکی۔ ۲۳؍ دن کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد یہ اُن کی پہلی تقریر تھی
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 11:13 PM IST | New Delhi
ذیل میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کی نیشنل پریسیڈنٹ نیہا بورا کی اُس تقریر کے بعض حصے، بڑی حد تک من و عن، پیش کررہے ہیں جو اُنہوں نے گزشتہ روز (جمعرات کو) جنتر منتر میںکی۔ ۲۳؍ دن کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد یہ اُن کی پہلی تقریر تھی
ذیل میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (آئیسا) کی نیشنل پریسیڈنٹ نیہا بورا کی اُس تقریر کے بعض حصے، بڑی حد تک من و عن، پیش کررہے ہیں جو اُنہوں نے گزشتہ روز (جمعرات کو) جنتر منتر میںکی۔ ۲۳؍ دن کی بھوک ہڑتال ختم ہونے کے بعد یہ اُن کی پہلی تقریر تھی:
’’طلبہ کے جسم پر جتنے نشان پڑے ہوئے ہیں وہ گواہی دیں گے دہشت گرد لفظ کے معنی کی۔ لغت میں جہاں دہشت یا دہشت گردی لکھا ہوگا، ڈر لکھا ہوگا، تشدد لکھا ہوگا وہاں دہلی پولیس کا نام بار بار لکھا جائیگا۔ ہم یاد رکھیں گے کہ وہ سنسد جہاں قومی نمائندوں اور لیڈروں کی تصویریں اور مجسمے نصب ہیں جب ہم نے وہاں جانے کی کوشش کی تو آپ نے ہمارے سر کھول کر رکھ دیئے۔ یاد رکھیں گے ہم دہلی پولیس کے ان اہلکاروں کو جنہوں نے طالبات اور خواتین کے پویشدہ اعضاء پر اپنی چھڑیوں سے ضرب لگائی۔ یاد رکھیں گے کہ ہمارا ایک ساتھی جو ۲۳؍ دن سے بھوک ہڑتال پر تھا، آپ کو پتہ تھا کہ اُس کی کڈنی میں خون جم گیا ہے، پھر بھی آپ نے اپنے ڈنڈوں کا استعمال کرکے ان کا بدن کھول دیا یہ بھی ہم یاد رکھیں گے۔ ہم یاد رکھیں گے کہ ۲۳؍ دن کے بعد جب مَیں، آمین اور منیش اس ٹینٹ میں تھے کیونکہ ہماری چلنے کی حالت نہیں تھی تو آپ کی بٹالین، جو دہلی کے الگ الگ کونوں سے لوگوں کو جنتر منتر بھیج رہی تھی، وہ بٹالین آنسو گیس سیدھے ہمارے ٹینٹ کی طرف فائر کرتی ہے، اور وہ جو دیوار آپ ٹوٹی ہوئی دیکھ رہے ہیں اس دیوار کو جتنی بار لوگ دیکھیں گے وہ یاد رکھیں گے کہ عوامی املاک کا یہ نقصان دہلی پولیس کی کرتوت ہے۔
اس تمام تشدد کے بعد ہمارے پاس جو بچی کھچی جان ہوگی وعدہ کرتے ہیں دہلی پولیس آپ سے، وعدہ کرتے ہیں دہلی پولیس کمشنر سے، وعدہ کرتے ہیں وزیر اعظم سے، وعدہ کرتے ہیں وزیر داخلہ سے کہ اس بچی کھچی جان کو چھوڑ کر آپ نے بہت بڑی غلطی کی ہے (آپ نے یہ بچی کھچی جان کو بخش کر) عینی شاہدین کو چھوڑ دیا جو گواہی دیں گے آنے والی نسلوں کو آپ کے تشدد کی۔ ہم یاد رکھیں گے کہ پٹنہ سے، لکھنؤ سے، مہاراشٹر سے، کرناٹک سے کوچ کرکے آنے والے وہ طلبہ جو ایک دوسرے کو جانتے نہیں تھے، انہوں نے آپ کے تشدد سے ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کی صرف اس لئے کہ اس ملک میں جمہوریت زندہ رہے، آنے والی پیڑھی کیلئے تعلیم زندہ رہے ۔ اگر آپ کو مثال چاہئے کہ ہمیں کون ترغیب دیتا ہے تو ابھی دے دیتے ہیں مثال۔ ہمیں ترغیب دیتی ہے وہ ساوتری مائی، وہ فاطمہ شیخ، جنہوں نے پورے سماج کی تہمتیں جھلیں، پتھر کھائے، اُن پر گوبر پھینکا گیا صرف اس لئے کہ وہ چاہتی تھیں کہ اس ملک کی خواتین، اس ملک کی پسماندہ ذاتوں کے لوگ تعلیم حاصل کرسکیں۔ ہم نے ان سے سیکھا ہے کہ ذاتی مفاد سے اُٹھ کر آنے والی نسلوں کیلئے کیسے قربانی دی جاتی ہے۔ ان کی یہ تعلیم ہمیں ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں امبیڈکر ترغیب دیتے ہیں کہ اپنی پوری زندگی رُکے بغیر، تھکے بغیر، سماج کی تہمتیں اور آئسولیشن جھیل کر کس طرح آئندہ نسل کیلئے ایک بہتر سماج بنایا جاتا ہے۔ ہمیں ترغیب ملتی ہے بھگت سنگھ سے، وہ ۲۳؍ سال کے اسٹوڈنٹ تھے، بھگت سنگھ بھگت سنگھ بنے ۲۳؍ سال کی عمر میں، ان کا وہ جذبہ جس کے آگے انگریزی حکومت بے بس ہوجاتی ہے وہ ہمیں ترغیب دیتا ہے۔ ۲۰؍ جولائی کو دہلی کی سڑکوں پر آپ جیسے نجانے کتنے بھگت سنگھ تھے یہ دیکھ کر آنکھیں بھر آتی ہیں سب کی، یہ جذبہ اور نظارہ انسپائر کرتا ہے ہمیں۔ ہم اُن تمام لوگوں سے انسپریشن لیتے ہیں جنہوں نے اپنے خون کا ہر قطرہ حکومت کے جبر سے ڈرے بغیر آنے والی نسلوں کیلئے نچھاور کردیا۔