Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’نوجوانوں میں اتنی سفاکی کہاں سے آرہی ہے؟‘‘

Updated: June 27, 2026, 9:25 AM IST | Pune

کیتن اگروال قتل معاملے میں وزیر اعلیٰ فرنویس کا اظہار تشویش، اس معاملے کو ایک جرم کے بجائے سماجی مسئلے کے طور پر دیکھنے کی تلقین۔

Ketan`s father and other family members handing over a memorandum to Chief Minister Farnborough (Photo: Agency)
کیتن کے والد اور دیگر اہل خانہ وزیر اعلیٰ فرنویس کو میمورنڈم دیتے ہوئے( تصویر: ایجنسی)

 حال ہی میں پونےکے لوہ گڑھ قلعے پر انجام دیئے گئے کیتن اگروال قتل معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے سخت تشویش یا کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سماج کو غور کرنا چاہئے کہ پڑھے لکھے نوجوانوںمیں ایسے سفاک اور تخریبی خیالات کہاں سے آ رہے ہیں؟ یاد رہے کہ دیویندر فرنویس جمعہ کے روز پونے کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے مقتول کیتن اگروال کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی اور انہیں انصاف کی یقین دہانی کروائی۔ 
  اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے دیویندر فرنویس نے کہا ’’ یہ انتہائی حیران کن اور ناقابل یقین واقعہ ہے۔ بحیثیت سماج ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اعلیٰ گھرانوں کے تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیوں میں ایسا مجرمانہ رجحان اور انتقام کا جذبہ کیسے پیدا ہو رہا ہے؟ یہ کوئی عام جرم کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کا ایک سماجی پہلو بھی ہے۔ اس پر ہمیں گہرائی سے غوروخوض کرنا ہوگا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’سماج کو چاہئے کہ وہ ایک مضبوط نظام قائم کرے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ نوجوانوں میں ایسے تخریبی خیالات پیدا نہ ہوں۔ آخر کار یہ ایک دہلا دینے والا واقعہ ہے۔‘‘ 
 یاد رہے کہ پونے کے مشہور بلڈر وشال اگروال کے ۲۵؍ سالہ بیٹے کیتن اگروال کو اس کی ۲۰؍ سالہ منگیتر سیا گوئل نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر صرف اس لئے پہاڑ سے دھکیل دیا تھا کہ اسے کیتن  سے شادی نہیں کرنی تھی۔اس قتل کے بعد سے جو سب سے بڑا سوال سماجی سطح پر گردش کر رہا ہے وہ یہی ہے کہ اس لڑکی کو اگر شادی نہیں کرنی تھی تو وہ انکار کر دیتی اس کیلئے بے قصور لڑکے کا قتل کرنے کی کیا  ضرورت تھی؟ وزیر اعلیٰ نے بھی اسی پہلو کی طرف اشارہ کیا۔ 
کیتن کے والد کی وزیر اعلیٰ سے ملاقات 
 اس سے قبل کیتن کے والد وشال اگروال نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سے ملاقات کی اور انہیں ایک مکتوب سونپا جس میں کیتن کے قاتلوںکو سخت سز ا دینے اور انہیں انصاف دلانے کی گزارش کی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے یقین دہانی کروائی ہے کہ حکومت خاطیوں کو سخت سزا دلانے کیلئے کاربند ہے اور کیتن کو انصاف دلانے کیلئے ہرممکن قانونی کوشش کی جائے گی۔ وشال اگروال نے مکتوب میں مطالبہ کیا ہے کہ کیتن قتل کا مقدمہ فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلایا جائے اور وکیل استغاثہ کے طور پر اجول نکم کو نامزد کیا جائے۔ اطلاع کے مطابق وزیر اعلیٰ نے محکمہ قانون و عدلیہ کے کے سیکریٹری کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس معاملے کو فاسٹ ٹریک عدالت میں چلانے کیلئے ضروری اقدامات کریں سے ساتھ اجول نکم کو بطور وکیل استغاثہ نامزد کرنے کا عمل شروع کریں۔ ذرائع کے مطابق اجول نکم نے اس کیلئے ہامی بھر لی ہے۔ یاد رہے کہ کیتن کے قتل کے ملزمین سیا اور چیتن کو عدالت نے ۲۹؍ جون تک پولیس تحویل میں بھیجا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اس بات کے پختہ ثبوت جمع ہو گئے ہیں کہ کیتن کا قتل سیا اور چیتن ہی نے کیا ہے۔ فون ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج کے علاوہ چیتن کے دکان کا ملازم نیرج بھی پولیس کی تحویل میں ہے جو وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے۔ اس نے ا س بات کی تصدیق کی ہے کہ چیتن اس کا موبائل لے کر لوہ گڑھ گیا تھا تاکہ پولیس کو گمراہ کیا جا سکے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK