Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہاراشٹر: دہشت گرد تنظیموں سے منسلک ۱۱۴؍ کتابوں، رسائل اور مواد پر پابندی

Updated: August 08, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai

مہاراشٹر حکومت نے دہشت گرد تنظیموں سے منسلک اور حکومت کے مطابق پرتشدد انتہا پسندی، جہادی نظریات، بنیاد پرستی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے والے ۱۱۴؍ اشاعتی اور تشہیری مواد کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ ریاست کے محکمہ داخلہ نے ۶؍ اگست ۲۰۲۶ء کو نوٹیفکیشن کے ذریعے ان کتابوں، رسائل،اور دیگر مواد کی اشاعت، تقسیم، فروخت، نمائش، قبضے اور ذخیرہ کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔

Maharashtra Chief Minister Devendra Fadnavis. Photo: INN
مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر حکومت نے دہشت گرد تنظیموں سے منسلک قرار دیے گئے ۱۱۴؍ کتابوں، رسائل، اور دیگر مشمولات کو ضبط کرنے اور ان کی اشاعت و گردش روکنے کا حکم دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری گزٹ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ مواد پرتشدد انتہا پسندی، جہادی نظریات اور بنیاد پرستی کو فروغ دیتا ہے اور بعض صورتوں میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے بھرتی اور نظریاتی تربیت میں معاون ہوسکتا ہے۔ یہ سرکاری حکم ۶؍ اگست ۲۰۲۶ء کو جاری کیا گیا۔ اس کے تحت ۱۱۴؍ مواد کو تخلیق کرنے، چھاپنے، تقسیم کرنے یا اسے کسی بھی طرح سے عوام میں پہنچانے یا فروخت کرنے، ذخیرہ کرنے یا اپنے پاس رکھنے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ یہ پابندی صرف پرنٹ تک محدود نہیں بلکہ حکم میں ڈجیٹل فورم میں موجود ایسے مواد کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گجرات ہائی کورٹ نے مُندرا میں مسلم عبادت گاہوں کے انہدام پر روک لگادی

حکومت کے مطابق فہرست میں شامل مواد کا تعلق ایسی تنظیموں سے ہے جنہیں ہندوستانی قانون کے تحت ممنوعہ قرار دیا جاچکا ہے۔ ان میں داعش، حزب المجاہدین، القاعدہ وغیرہ شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فہرست صرف انہی تنظیموں تک محدود نہیں بلکہ یو اے پی اے قانون ۱۹۶۷ء کے فرسٹ شیڈول میں درج دیگر دہشت گرد تنظیموں سے منسلک مواد بھی اس کارروائی کے دائرے میں آسکتا ہے۔ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ممنوعہ مواد میں ایسا ادب شامل ہے جو پُرتشدد، جہاد، بنیاد پرستی کو فروغ دیتا ہے۔ حکومت کے مطابق بعض مواد لوگوں کو دہشت گرد تنظیموں سے وابستہ ہونے یا ان کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے متاثر کرسکتا ہے، جبکہ بعض مواد میں بم بنانے، ہتھیار اور خود کش حملے سے متعلق ہدایات بھی شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: انسٹا گرام پر نوجوانوں سے راہل کا براہ راست رابطہ

مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے بھی جمعہ کو اس کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایسے مواد کے خلاف قدم اٹھایا ہے جو پرتشدد انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ مواد ملک کی سالمیت، اور امن و امان کے لیے نقصان دہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK