اومائیکرون کا حل ویکسین ہے، لاک ڈاؤن نہیں: عالمی ادارہ صحت

Updated: December 04, 2021, 11:44 AM IST | Agency | Washington

ٹیکہ کاری کو کورونا وائرس کی تمام شکلوں کو ختم کرنے کا حل قرار دیا،امریکہ نے سفری پابندیوں کا اعلان کیا،جنوبی افریقہ میں اومائیکرون کے مریضوں میں ۳۰۰؍فیصد اضافہ

A man can be seen vaccinating against corona in the Nigerian city of Abuja.Picture:INN
نائیجیریا کے شہر ابوجا میں ایک شخص کو کورونا کی ویکسین لگواتے ہوئے دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا کے ڈیلٹا ویریئنٹ کے تعلق سےاستعمال کی جانے والی احتیاطی تدابیر ہی اومائیکرون کیلئے کافی ہونگی۔ویکسین کو ہی اس کا حل قرار دیتے ہوئےاس بات پر زور دیا ہےکہ ہر ملک کو اس سال کے آخر تک اپنی۴۰؍فیصدآبادی کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگادینا چاہیے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کےمشیر ڈاکٹر پیٹر سنگر نے کہا کہ کورونا کی نئی تبدیل شدہ شکل ’اومائیکرون‘کی شدت کو جاننے کے لیے ’ہفتوں کی ضرورت ہے‘ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کرونا وائرس نئی ’ویک اپ کال ہو سکتی ہے۔‘
 انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ویکسینیشن کوروناکی تمام شکلوں کو ختم کرنے کا حل ہے۔ لاک ڈاؤن اومائیکرون کا مقابلہ کرنے کا حل نہیں ہے۔
 اسی تناظر میں عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر نے کہا کہ بوٹسوانا اور جنوبی افریقہ کی طرف سے اومائیکرون کی فوری نشاندہی اور ابتدائی رپورٹنگ نے’دنیا کو وقت دیا ہے‘ کہ وہ اس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کرے۔ہمارے پاس موقع ہےلیکن ہمیں تیزی سے کام کرنا چاہیے اورپتہ لگانے اور روک تھام کے اقدامات کو تیز کرنا چاہیے۔کورونا کی نئی شکل کے بارے میں بہت زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ یہ زیادہ متعدی ہوسکتا ہے۔ صحت کےحکام کو شبہ ہے کہ آیا یہ زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے یا نہیں۔
امریکہ میں سخت سفری پابندیوں کا اعلان
 دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نےسخت سفری قوانین کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا وائرس کےخلاف جنگ سیاسی تقسیم کا سبب نہیں بننی چاہیے۔انہوں نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا جو موسم سرما کے آغاز کے ساتھ انفیکشن میں اضافے اور تبدیل شدہ اومائیکرون کےپھیلاؤ کو روکے گا۔اپنی تقریر میں بائیڈن نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ کووڈ۱۹؍نےملک کو تقسیم کر دیا ہےیہ ایک دھڑے بندی کا مسئلہ بن گیا ہے، جو بدقسمتی ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم سردیوں میں جا رہے ہیں اور کورونا کی نئی تبدیل شدہ شکل کے چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم ان تقسیموں کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔بائیڈن نجی اور سرکاری اداروں میں کارکنوں پر لازمی ویکسینیشن مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن انہیں بہت سے ریپبلکنز کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہے اور وہ پابندیوں کے خلاف قانونی کارروائی میں رکاوٹ ہیں۔
 بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ ان کاکورونا سے لڑنےکا منصوبہ جامع ہونا چاہیے۔ اس میں نئے اقدامات یا پابندیاں نہیں ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے پاس اومائیکرون کا مقابلہ کرنےکی بہترین صلاحیتیں ہیں۔ وہ ویکسین کے ذریعے اس وبا کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔ اضافی اقدامات نہیں کریں گے۔
جنوبی افریقہ میں اومائیکرون کیسز میں۳۰۰؍ فیصد اضافہ
 جنوبی افریقہ میں سامنے آنے والے کوروناکے نئے ویرینٹ اومائیکرون کےباعث کورونا کیسز میں ۳۰۰؍فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق جنوبی افریقہ میںکورونا کا نیا ویرینٹ اومائیکرون بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس وقت ملک بھر میں کورونا کیسز میں ۳۰۰؍ فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ جنوبی افریقہ کے وزیر صحت جوئےپھاہلا نے کورونا کے نئے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کورونا کی چوتھی لہر کا آغاز ہوگیا ہے۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ اس وقت اسپتالوں میں صورت حال کنٹرول میں ہےلیکن کیسز میں اسی تیزی سے اضافہ ہوتا رہا تو اسپتال میں دباؤ بڑھ جائے گا۔وزیر صحت جوئے پھاہلا نےعوام سے کورونا ویکسین کے دونوں ٹیکے لگوانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف ویکسینیشن کے ذریعے ہی اس وبا سے بچاؤ ممکن ہے۔جنوبی افریقہ کے وزیر صحت نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ کورونا کے نئے ویرینٹ کی چوتھی لہر بہت زیادہ نقصان پہنچائے بغیر جلد ختم ہوجائے گی۔
ملائیشیا میں اومائیکرون کے ایک معاملے کی تصدیق
 دوسری جانب ملائیشیاکے وزیر صحت خیری جمال الدین نے جمعہ کو کہا کہ ملک میں کووڈ۱۹؍کے اومائیکرون ویریئنٹ کا ایک معاملہ سامنے آیا ہے۔ خیری نےپریس کانفرنس میں بتایا کہ۱۹؍ نومبرکو جنوبی افریقہ سے یہاں آئے غیر ملیشیائی طالب علم کو کورونا وائرس کے اومائیکرون ویریئنٹ سے متاثر پایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فوری تشویش کی کوئی بات نہیں ہے، کیوں کہ آمد پر ہی طالب علم کو قرنطین کردیا گیاتھا۔ اس کے رابطہ میں آئے لوگوں کی شناخت کی جارہی ہےاور ان کا ٹیسٹ کیا جارہا ہے۔ طالب علم قرنطینہ میں ہے اور جانچ کی بنیادپر جاری کیے گئے احتیاطی تدابیر کی تعمیل کی جارہی ہے۔ متاثرہ طالب علم کی مکمل طورپر ٹیکہ کاری ہوچکی ہے اور اس وقت اس میں بیماری کی علامت بھی نہیں ہے۔وزارت نے یکم دسمبر کو اومائیکرون کے زیادہ خطرے والے۸؍افریقی ممالک کے غیر ملکی شہریوں کے داخلے پر پابندی لگادی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK