Inquilab Logo Happiest Places to Work

این سی پی سنیل تٹکرے کو عہدے سے ہٹائے گی؟

Updated: August 08, 2026, 9:30 AM IST

پرشانت کشور کی سونیترا پوار کے ساتھ ۵؍ گھنٹے طویل میٹنگ، پارٹی کے مشیر کے طور پر کام کرنے کا امکان ، سنیل تٹکرے کو ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹانے کا مشورہ۔

According to Prashant Kishor, Sunil Tatkare does not obey Sunitra Pawar`s orders. Photo: INN
پرشانت کشور کے مطابق سنیل تٹکرے سونیترا پوار کے حکم کی تعمیل نہیں کرتے۔ تصویر: آئی این این

انتخابی سیاست کے ماہر اور جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور نے ایک روز قبل نائب وزیر اعلیٰ اور این سی پی (اجیت) کی سربراہ سونیترا پوار سے ان کی ممبئی میں واقع رہائش گاہ دیوگیری میں ملاقات کی۔ اس موقع پر سونیترا پوار کے دونوں بیٹے پارتھ پوار اور جے پوار بھی موجود تھے۔ سیاسی حلقوں میں یہ خبر گردش کر رہی ہے کہ پرشانت کشور جلد ہی بطور مشیر این سی پی ( اجیت) کیلئے خدمات انجام دیں گے لیکن سب سے اہم خبر یہ ہے کہ انہوں نے مذکورہ میٹنگ میں سونیترا پوار کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سنیل تٹکرے کو پارٹی کےریاستی صدر کے عہدے سے ہٹا دیں۔  اس خبر کے بعد سے مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل نظر آنے لگی ہے۔ 
  یاد رہے کہ پرشانت کشور اس سے قبل بھی سونیترا پوار کی رہائش گاہ پر ان سے اور ان کے بیٹوں سے مل چکے ہیں۔ امکان ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ جلد ہی پارٹی کے ساتھ بطور مشیر کام کریں گے لیکن اس وقت پارتھ پوار نے کہا تھا کہ فی الحال اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے البتہ مستقبل میں ایک دوسرے کی ضرورت ہوئی تو ہم پھر ملیں گے۔ ایک روز قبل پارتھ پوار خود پرشانت کشور کو ایک نجی جیٹ طیارے میں لے کر ممبئی پہنچے۔ یہاں سونیترا پوار موجود تھیں۔ بعد میں ان کے چھوٹے بیٹے جے پوار بھی اس میٹنگ میں آئن لائن طریقے سے شریک ہوئے۔ یہ میٹنگ ۵؍ گھنٹے سے بھی زیادہ چلی۔  پرشانت کشور نے کئی طرح کے مشورے دیئے اور کئی طرح کے سوالات کئے۔ جو بات سب سے اہم کہی جا رہی ہے وہ یہ کہ پرشانت کشور نے واضح طور پر کہا ہے کہ سنیل تٹکرے کو پارٹی کے ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ پرشانت کشور نے سونیترا پوار کو سنیل تٹکرے کی برطرفی کا مشورہ دیا ہے جبکہ بعض ذرائع نے بتایا کہ پرشانت کشور نے  این سی پی ( اجیت) کے ساتھ کام کرنے کی شرط ہی یہ رکھی ہے کہ وہ سنیل تٹکرے کو ریاستی صدر کے عہدے سے ہٹا دے۔
  انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ اگر ریاست میں کام کرنا ہو تو پارٹی کی ریاستی قیادت کے ساتھ تال میل بے حد ضروری ہے اور سنیل تٹکرے آپ کی دی ہوئی ہدایت کو زمینی سطح پر نافذ نہیں کرتے ہیں۔ انہوں نے بلا جھجھک سونیترا پوار سے کہا کہ اگر مہاراشٹر میں پارٹی کو وسعت دینی ہے تو آپ کو ریاستی صدر کے تعلق سے کوئی نہ کوئی فیصلہ ضرور کرنا ہوگا۔ کہا جاتا ہے کہ میٹنگ میں پرشانت کشور کی ٹیم کے ۲؍ اراکین بھی تھے جن کے نام سامنے نہیں آئے۔بہت جلد پرشانت کشور کی ٹیم مہاراشٹر میں سروے شروع کر ے گی اور این سی پی کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرے گی۔
 اس میٹنگ میں حال ہی میں کانگریس کی جانب سے سونیترا پوار کو ’گونگی گڑیا‘ کہے جانے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ پرشانت کشور نے مشورہ دیا کہ آپ یوں ہی خاموشی سے اپنا کام کرتی رہیں۔ فی الحال کسی بھی سیاسی بیان بازی کا کوئی جواب نہ دیں۔ آئندہ سروے کے بعد دیکھا جائے گا کہ پارٹی کو کون سا طریقہ ٔ کار اختیار کرنا ہے۔  
 سنیل تٹکرے کا رد عمل
 اس دوران جمعہ کے روز سنیل تٹکرے نے ایک پریس کانفرنس بلائی جس میں صحافیوں نے ان سے پرشانت کشور کی پیش کردہ تجویز یا شرط کے تعلق سے بھی سوال کیا۔ اس پر تٹکرے نے کہا کہ ’’ پرشانت کشور ہماری پارٹی کیلئے کام کر رہے ہیں مجھے اس کا علم ہی نہیں ہے۔ اگر انہیں بطور مشیر مقرر کیا گیا ہوتا تو مجھے ضرور معلوم ہوتا۔  دوسری بات یہ کہ ریاستی قیادت کے تعلق سے ان کے مشورے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ جب ہم نے این ڈی اے میں شمولیت اختیار کی تو سب نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا ( انہیں ریاستی صدر بنانے کا ) سنیل تٹکرے نے کہا ’’ اس فیصلے کے بعد ہم مہاراشٹر کے کونے کونے تک پہنچے اور پارٹی کو مضبوط بنایا اوراس کا نتیجہ بھی سامنے آیا۔ ‘‘
  انہوں نے کہااس لئے پارٹی میں کسی طرح کی دو رائے ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پرشانت کی ان کے تعلق سے ناراضگی کے سوال پرجواب دیتے ہوئے تٹکرے نے کہا ’’ یہ جو آپ میرے تعلق سے پارٹی میں ناراضگی کی بات کر رہے ہیں تو مجھے نہیںمعلوم کہ آپ تک کس ذریعے یہ بات پہنچی لیکن مجھے میری اصل معلوم ہے۔ جن چنندہ لیڈران نے پورے مہاراشٹرپر گرفت حاصل کی ان میں سے ایک میں ہوں۔  میں گزشتہ ۴۱؍ سال سے سیاست میں ہوں۔ مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ ۱۹۸۵ء میں مجھے روہا ضلع کا سیکریٹری بنایا گیا تھا تب سے لے کر آج تک میں سرگرم ہوں ۔ اس کا مطلب مجھ میں کوئی تو بات ہوگی ناں؟

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK