وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے تقریباً ۳۸؍ ہزار نئے اسکولی اساتذہ کی تقرری کے اعلان نے ایک بار پھر نوجوانوں کے دلوں میں امید جگائی ہے۔ یہ اعلان صرف ایک سرکاری اطلاع نہیں بلکہ ان لاکھوں امیدواروں کے خوابوں سے جڑا ہوا ہے جو برسوں سے محنت، تیاری اور انتظار کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
بہار ایک بار پھر روزگار، تعلیم اور ترقی کے حوالے سے قومی سطح پر موضوعِ بحث ہے۔ اگر کسی ریاست کی ترقی کا اندازہ لگانا ہو تو وہاں کی سڑکوں، عمارتوں یا صنعتی منصوبوں کے ساتھ اس کے اسکولوں، کالجوں اور جامعات پر بھی نظر ڈالنی چاہئے، کیونکہ قوموں کی اصل تعمیر اینٹ اور پتھر سے نہیں بلکہ استاد اور طالب علم کے رشتے سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حکومتیں تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرتی ہیں تو اس کے ثمرات کئی نسلوں تک محسوس کئے جاتے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں بہار کی سیاست میں بہت سی تبدیلیاں آئیں، مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے دورِ حکومت میں تعلیم کو نسبتاً زیادہ اہمیت دی گئی۔ لاکھوں اساتذہ کی تقرری، نئے اسکولوں کی تعمیر، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور تعلیمی سہولتوں میں اضافے نے ریاست کے تعلیمی منظرنامے کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ ان اقدامات پر تنقید بھی ہوئی، عدالتی مباحث بھی ہوئے اور اصلاحات کی ضرورت بھی محسوس کی گئی، لیکن مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیم کو ریاستی پالیسی کے مرکز میں لانے کی ایک سنجیدہ کوشش کی گئی۔اب موجودہ حکومت یعنی وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی جانب سے تقریباً اڑتیس ہزار نئے اسکولی اساتذہ کی تقرری کے اعلان نے ایک بار پھر نوجوانوں کے دلوں میں امید جگائی ہے۔ یہ اعلان صرف ایک سرکاری اطلاع نہیں بلکہ ان لاکھوں امیدواروں کے خوابوں سے جڑا ہوا ہے جو برسوں سے محنت، تیاری اور انتظار کے مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اگر یہ تقرریاں مقررہ وقت پر، مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر انجام پاتی ہیں تو یقیناً اس کے مثبت اثرات دور رس ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: راہی معصوم رضا کی پیدائش کو ۱۰۰؍ سال ہو گئے
واضح ہو کہ بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے حال ہی میں محکمہ ثانوی تعلیم ، حکومتِ بہار ، پٹنہ کے اعلیٰ حکام کو بہار میں چوتھے مرحلے کے اساتذہ بحالی کے لئے اسامیاں نکالنے کی ہدایت دی تھی اس کی روشنی میں محکمہ ثانوی تعلیم نے بہار پبلک سروس کمیشن کو ۳۲۳۸۸؍ اساتذہ کی اسامیاں بھیجی ہیں اول تا پنجم یعنی پرائمری کے لئے۳۸۴۷، مڈل کے لئے ۸۵۴۳، ثانوی کے لئے ۳۸۷۷؍ اور بارہویں کے لئے۱۶۱۱۰؍اساتذ ہ کی تقرری کا راستہ ہموار ہوگا۔واضح ہو کہ گزشتہ دو برسوں میں مرحلہ اول، دوم اور سوم میں کل ۲؍لاکھ ۸۱؍ہزار اساتذہ کی تقرریاں ہوئی ہیں لیکن اسی درمیان محکمہ ثانوی تعلیم نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ایک لاکھ سے زائد اساتذہ کا ریسلائزیشن کیا جائے گا یعنی کسی اسکول میں اساتذہ زیادہ ہیں اور کہیں کم ہیں ۔لیکن ریسلائزیشن کی نشاندہی میں کئی جگہ کئی علاقے سے یہ خبریں آرہی ہیں کہ یہاں جن اسکولوں میں اردو کے ایک ٹیچر ہیں انہیں بھی سرپلس دکھایا جا رہاہے جس سے اردو طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوگی۔اس مسئلہ پر محکمہ کو غوروفکر کرنا چاہئے۔
بہر کیف!روزگار صرف تنخواہ کا نام نہیں بلکہ عزتِ نفس، خود اعتمادی اور سماجی استحکام کا ذریعہ بھی ہے۔ بہار کے بے شمار نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں دوسرے صوبوں کا رخ کرتے رہے ہیں۔ اگر ریاست کے اندر ہی باوقار روزگار کے مواقع پیدا ہوں تو ہجرت کی رفتار کم ہوگی، مقامی معیشت مضبوط ہوگی اور سماجی توازن میں بھی بہتری آئے گی۔اساتذہ کی تقرری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ سرکاری اسکولوں میں تدریسی عمل مزید مؤثر ہوگا۔ کئی اسکول آج بھی ایسے ہیں جہاں اساتذہ کی کمی یا مضامین کے ماہر اساتذہ کی عدم دستیابی تعلیم کے معیار کو متاثر کرتی ہے۔ نئی تقرریاں اس خلا کو پْر کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ تقرری صرف تعداد بڑھانے تک محدود نہ رہے بلکہ معیار کو بھی اولین ترجیح دی جائے۔کیوں کہ حکومت بہار اور بالخصوص سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بڑی تعداد میں اساتذہ کی تقرری کی لیکن جہاں تک اسکولی تعلیم کے معیار کا سوال ہے تو ہر سال شائع ہونے والی ’’اثر‘‘ کی رپورٹ باعثِ فکر مندی ہے کہ آٹھویں درجے کا طالب علم درستگی کے ساتھ کسی بھی زبان کے متن کو نہیں پڑھ سکتا اور حساب میں معمولی ضرب وتقسیم کے سوالات حل نہیں کرسکتا۔نئی قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء تعلیم کو صرف معلومات کی منتقلی نہیں بلکہ شخصیت سازی، تخلیقی صلاحیت، تنقیدی فکر، ہنر مندی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنانے پر زور دیتی ہے۔ اس لئےنئے اساتذہ کو جدید تدریسی تکنیک، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل وسائل اور تحقیق پر مبنی تدریس کی تربیت دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ سرکاری ملازمتوں کی مسلسل فراہمی نے بہار کے نوجوانوں میں اعتماد پیدا کیا ہے۔ پولیس، صحت، تعلیم اور دیگر محکموں میں تقرریوں کے عمل نے یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی سمت میں کام کر رہی ہے۔ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف معیشت بلکہ سماجی ہم آہنگی پر بھی مرتب ہوں گے۔اس کے ساتھ ساتھ چند بنیادی سوالات بھی اہم ہیں۔ کیا تمام اسکولوں میں معیاری عمارتیں، لیبارٹریاں، کتب خانے، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے؟ کیا نئے اساتذہ کو مسلسل تربیت فراہم کی جائے گی؟ کیا دیہی علاقوں میں تعینات اساتذہ کو مطلوبہ سہولیات میسر ہوں گی؟ ان سوالات کا مثبت جواب ہی اس پورے عمل کو حقیقی کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل کی منتخبہ نشست اور ہماری کدو کاوش
بہار کی تاریخی شناخت علم و دانش سے وابستہ رہی ہے۔ نالندہ اور وکرم شِلا کی روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ سرزمین ہمیشہ علمی قیادت کی امین رہی ہے۔ آج اگر حکومت تعلیم کو اپنی ترجیح بناتی ہے تو دراصل وہ اسی تاریخی ورثے کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔بہار آج جس مرحلے پر کھڑا ہے، وہاں روزگار اور تعلیم ایک دوسرے کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر نئی تقرریاں شفافیت، میرٹ، بروقت عمل درآمد اور مسلسل تربیت کے اصولوں کے مطابق مکمل ہوتی ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ریاست واقعی ایک نئے تعلیمی دور میں داخل ہو رہی ہے۔امید کی جانی چاہئے کہ حکومت تقرریوں کے اس سلسلے کو صرف ایک انتظامی عمل نہیں بلکہ ایک تعلیمی تحریک کے طور پر آگے بڑھائے گی۔ کیونکہ قوموں کی قسمت اسمبلیوں میں کم اور کلاس رومز میں زیادہ لکھی جاتی ہے، اور کسی بھی ریاست کا روشن مستقبل اس کے اساتذہ کے ہاتھوں ہی تشکیل پاتا ہے۔ اگر بہار اپنے اساتذہ کو مضبوط بناتا ہے تو یقیناً آنے والا کل بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے لئے ایک روشن مثال ثابت ہوگا۔ اس ضمن میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں ایماندارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ معیاری تعلیم کا گراف بھی بلند ہو۔