کیا اسرائیل کو تسلیم کرنے والا اگلا ملک عمان ہوگا؟

Updated: September 18, 2020, 9:17 AM IST | Agency | Washington

اب تک اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان دوستی کے تعلق سے امریکہ نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ثابت ہوتا جا رہا ہے۔

Oman Sultan with Mike Pompeo
عمان کے سلطان احمد بن عیسیٰ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے ساتھ

 اب تک  اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان دوستی کے تعلق سے امریکہ نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ثابت  ہوتا جا رہا ہے۔ اس نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والا اگلا ملک بحرین ہوگا۔  اور متحدہ عرب امارات  کا اسرائیل سے معاہدہ ہونے سے قبل ہی بحرین نے بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔ اب مغربی میڈیا میں بار  بار سوال پوچھا جا رہا ہے کہ کیا  اسرائیل کو تسلیم کرنے والا اگلا ملک عمان ہوگا؟ 
  خدشہ ہے کہ  اس سوال کو جواب بھی  ہاں  میں ملے۔  اس کے اشارے ملنے شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ میں تعینات عمان کے سفیر نے منگل کو وہائٹ ہاؤس میں منعقدہ اسرائیل کے متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کی  تھی۔وہائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدہ دار نےاس کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس تقریب کے میزبان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ تھے اور ان کی طرف سے ہی عمانی  سفیر کو مدعو کیا گیا تھا۔
  واضح رہے کہ جب گزشتہ ۱۳؍ اگست کو متحدہ عرب نے اسرائیل سے ہاتھ ملانے کا اعلان کیا تھا تو بیشتر مسلم ممالک ناراض تھے جبکہ عرب ممالک خاموش تھے لیکن عمان نے بیان جاری کرکے  اس فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔ اس کی وجہ سے  غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کا اندازہ تھا کہ یو اے ای کے بعد عمان ہی  اسرائیل سے ہاتھ ملائے گا۔ لیکن امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بحرین کا نام لیا تھا۔ حالانکہ انہوں نے سعودی عرب کا نام بھی لیا تھا۔ لیکن بحرین نے امریکی وزیر خارجہ مائیک  پومپیو کی مشرق وسطیٰ آمد کے وقت بیان جاری کرکے   اسرائیل سے سفارتی تعلقات استوار کرنے  سے واضح طور پر منع کر دیا تھا۔  لیکن بعد میں اس نے اپنے دعوے کے برخلاف اسرائیل سے ہاتھ ملالیا۔  ویسے سعودی کےحکمراں شاہ سلمان بھی  ڈونالڈ ٹرمپ کو  فون پر اس تعلق سے نفی میں جواب دے چکے ہیں ۔  
 اب مغربی میڈیا میں عمان کا نام لیا جا رہا  ہے  جس نے اسی ماہ کے اوائل میںکہا تھا کہ ’’ بعض عرب ممالک کی جانب سے اختیار کردہ سفارتی راہ سے فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کیلئے پیش رفت ہوگی اور پھر اس کی بنیاد پر امن قائم ہوگا۔ نیز  ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوسکے گی۔‘‘واضح رہے کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان ۱۳؍اگست کومعاہدے کے اعلان کے بعد  ۱۷؍اگست کو عمانی وزیر خارجہ یوسف بن علوی بن عبداللہ نے اپنے اسرائیلی ہم منصب گابی اشکنازی سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔تب عُمان میں امریکہ کے سابق سفیر رچرڈ شمائرر نےکہا تھا کہ ’’مجھے یقین ہے،عمان یو اے ای کےفیصلے کی حمایت کرے گا اور اس سلسلے میں مزید اقدامات کرے گا۔’’

oman israel Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK