• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نوی ممبئی میں ۲۰؍ سال سے مقیم خاتون کو درانداز قرار دے کر بنگلہ دیش بھیج دیا گیا

Updated: August 11, 2026, 1:19 PM IST | Agency | Navi Mumbai

مغربی بنگال سے تعلق رکھنےوالی شاہدہ کے اہل خانہ عدالتی چارہ جوئی پر مجبور۔

Shahida who has been sent to Bangladesh. Picture: INN
شاہد ہ جسے بنگلہ دیش بھیج دیاگیاہے۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال سے تعلق رکھنےوالی ۴۰؍ سالہ  شاہدہ  جو تقریباً ۲؍ دہائیوں سے اپنے خاندان کے ساتھ نوی ممبئی میں مقیم تھیں، کو پولیس نے  ’’درانداز‘‘ ہونے کے شبہ میں  بنگلہ دیش بھیج دیاگیاہے۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق شمالی۲۴؍ پرگنہ ضلع کے سوروپ نگر کی  رہنے والی شاہدہ فقیر نوی ممبئی کے سانپاڑہ میں اپنے شوہر۴۵؍ سالہ جمن فقیراور ساتویں جماعت میں زیر تعلیم چھوٹے بیٹے کے ساتھ رہتی تھیں۔   رپورٹ کے مطابق شاہدہ کو۱۸؍ جولائی کو اس وقت پولیس نے حراست میں لیا جب وہ مقامی بازار گئی تھیں۔ اس کے بعد ان کے اہل خانہ چمبور  کےحراستی مرکز  میں ان سے ملنے پہنچے اور شاہدہ کی ہندوستانی شہریت ثابت کرنے کیلئے دستاویز پیش کئے ۔جمن نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ انہوں نے  شاہدہ کا پیدائش کا سرٹیفکیٹ، اسکول کا سرٹیفکیٹ، والدین کی زمین کی دستاویزات اور دیگر شناختی کاغذات پیش کئے  تاہم ۳؍دن بعد خاندان کو اطلاع دی گئی کہ شاہدہ کو پہلے ہی بنگلہ دیش بھیج دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی عدالت نے گوتم اور ساگر اڈانی کے خلاف فوجداری الزامات خارج کر دیے

جمن جو ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں نگراں کے طور پر کام کرتے ہیں، نےبتایا کہ وہ اور شاہدہ دونوں سوروپ نگر کے رہنے والے ہیں اور تقریباً۲۰؍ برس سے ممبئی میں مقیم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہندوستانی شہری ہیں اور اس سے قبل انہیں کبھی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔دی انڈین ایکسپریس  نے  ذرائع  کے حوالے سے خبر دی ہے کہ شاہدہ کو آسام لے جایا گیا اور لوگوں کے ایک گروپ کے ساتھ بنگلہ دیش سرحدپر لے جاکر اُس طرف دھکیل دیاگیا۔  بنگلہ دیش میں سات کھیڑا  علاقے میں ایک نرم دل  خاندان نے انہیں پناہ دی اور ہندوستان میں موجود ان کے رشتہ داروں سے رابطہ قائم کرنے میں مدد کی۔سات کھیڑا سے فون پر دی انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے شاہدہ نے بتایا کہ انہیں آسام کی سرحد تک لے جایا گیا اور مبینہ طور پر سرحد پار کرکے بنگلہ دیش میں دھکیل دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کیچڑ سے بھرے کھیتوں میں کئی گھنٹے پیدل سفر کیا اور ایک مرکزی سڑک تک پہنچیں، جہاں مقامی لوگوں نے ان کی مدد کی۔جمن نے  بتایا کہ ان کے چچا سمیت خاندان کے دیگر افراد اس معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے اور خاندان شاہدہ کو واپس لانے کیلئےہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK