Inquilab Logo Happiest Places to Work

بھیونڈی میں دورانِ تدریس اردو اسکول کے استاد کا انتقال

Updated: August 11, 2026, 11:03 AM IST | Khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

صلاح الدین ایوبی میموریل اردو اسکول کے احمد اللہ عبدالمجید ندوی شیخ حرکت قلب بند ہونے سے جاں بحق۔

Ahmedullah Abdul Majeed Nadvi Sheikh. Picture: INN
احمد اللہ عبدالمجید ندوی شیخ۔ تصویر: آئی این این

صلاح الدین ایوبی میموریل اردو اسکول کے استاد احمد اللہ عبدالمجید ندوی شیخ کا پیر کے روز اسکول میں دورانِ تدریس اچانک حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر ۴۵؍ برس بتائی گئی ہے۔ اچانک پیش آنے والے اس سانحے کی خبر پھیلتے ہی اسکول کے اساتذہ، طلبہ، عزیز و اقارب اور تعلیمی و سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مرحوم کے برادر نسبتی ڈاکٹر مقیم جامعی نے بتایا کہ احمد اللہ عبدالمجید ندوی شیخ حسبِ معمول پیر کی صبح تقریباً ۷؍بجے اسکول پہنچے اور حاضری درج کروانے کے بعد اپنی تدریسی ذمہ داری انجام دینے کے لئے کلاس کی جانب روانہ ہوئے۔ اسی دوران انہیں اچانک گھبراہٹ اور بے چینی محسوس ہوئی جس کی وجہ سے وہ بیٹھ گئے۔ ساتھی اساتذہ انہیں فوری طور پر قریبی نجی اسپتال لے گئے، جہاں طبی معائنے کے بعد انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ بعد ازاں وہ دوبارہ اسکول پہنچے اور اپنی تدریسی ذمہ داری انجام دینے کی کوشش کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد ان کی طبیعت دوبارہ بگڑ گئی اور وہ اسکول میں گر گئے۔ 

یہ بھی پڑھئے: آر ٹی ای : بچوں کی فیس ادا کرنے کیلئے ریاستی حکومت اور محکمہ تعلیم کوایک وقت مقرر کرنے کاحکم

ساتھی اساتذہ اور طلبہ انہیں فوری طور پر دوبارہ اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے ان کی تشویش ناک حالت کے پیش نظر انہیں مزید بہتر علاج کیلئے دوسرے اسپتال منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ اس کے بعد انہیں دھانگے اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حرکت قلب بند ہونا ان کی موت کی وجہ بنا۔ احمد اللہ عبدالمجید ندوی شیخ کا تعلق چکیا حسین آباد، ضلع اعظم گڑھ سے تھا۔ وہ معروف عالمِ دین اور شہید مولانا عبدالمجید ندوی کے صاحبزادے تھے۔ وہ گزشتہ تقریباً ۱۰؍ برس سے صلاح الدین ایوبی میموریل اردو اسکول میں تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گڈچرولی میں سانپ نے آشرم اسکول کے ہوسٹل میں گھس کر ۶؍ لڑکیوں کو ڈس لیا، ۳؍ بچیوں کی موت

اسکول سے وابستہ افراد کے مطابق مرحوم وقت کے پابند، نظم و ضبط، خوش اخلاقی اور اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے تھے۔ اساتذہ اور طلبہ میں انہیں قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ان کے اچانک انتقال سے اسکول میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی جبکہ اساتذہ اور طلبہ غمزدہ نظر آئے۔ مرحوم کی میت آبائی وطن چکیا حسین آباد، اعظم گڑھ کیلئے روانہ کردی گئی ہے۔ ان کے پسماندگان میں اہلیہ، ۳؍بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK