عالمی بینک نے ہندوستان کی معیشت کے بارے میں اپنے اندازے کو بہتر کرتے ہوئے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرحِ نمو کا تخمینہ ۶ء۶؍فیصد سے بڑھا کر ۱ء۷؍ فیصد کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 4:05 PM IST | New Delhi
عالمی بینک نے ہندوستان کی معیشت کے بارے میں اپنے اندازے کو بہتر کرتے ہوئے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرحِ نمو کا تخمینہ ۶ء۶؍فیصد سے بڑھا کر ۱ء۷؍ فیصد کردیا ہے۔
عالمی بینک نے ہندوستان کی معیشت کے بارے میں اپنے اندازے کو بہتر کرتے ہوئے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار کی شرحِ نمو کا تخمینہ ۶ء۶؍فیصد سے بڑھا کر ۱ء۷؍ فیصد کردیا ہے۔ عالمی بینک کی تازہ جنوبی ایشیائی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے مطابق مضبوط ملکی طلب، صنعت میں مسلسل سرگرمی اور خدمات کے شعبے کی بہتر کارکردگی بھارت کی اقتصادی رفتار کو سہارا دے رہی ہے۔ عالمی بینک کا نیا اندازہ جون میں جاری کیے گئے سابقہ تخمینے کے مقابلے میں ۵ء۰؍فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اسرائیل میں امریکی فوجی کمک بڑھانے کی تیاری
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر غیر یقینی حالات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ہندوستان کی معیشت نے مضبوط مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے۔ خاص طور پر گھریلو کھپت اور اندرونی طلب اقتصادی سرگرمیوں کا اہم محرک بنی ہوئی ہے، جبکہ صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی رفتار نے مجموعی اقتصادی نمو کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ہندوستان کی معیشت مالی سال ۲۶۔۲۰۲۵ء میں ۸ء۷؍ فیصد کی شرح سے بڑھی تھی اور اب مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء میں ۱ء۷؍ فیصد نمو کی توقع ہے۔
عالمی بینک نے ہندوستان کی طویل مدتی ترقی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں گزشتہ برسوں کے دوران کی گئی ساختی اصلاحات کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں مزدور قوانین کو یکجا کرنے، اشیا و خدمات ٹیکس میں اصلاحات، محصولات کے نظام کو زیادہ معقول بنانے، دیوالیہ پن سے متعلق قانون اور بنیادی و ڈجیٹل ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو نمایاں کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق یہ اقدامات کاروباری ماحول، سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت کے لیے طویل مدتی بنیاد فراہم کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فیروز خان کو بالی ووڈ کے سب سے زیادہ اسٹا ئلش ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے
اگرچہ مجموعی معیشت کی تصویر مضبوط نظر آتی ہے، لیکن زراعت کا شعبہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ کمزور یا توقع سے کم مانسون زرعی پیداوار، دیہی طلب اور خوراک کی قیمتوں کو متاثر کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جون سے اگست ۲۰۲۶ء کے دوران ہندوستان میں بارش کی مقدار۱۹۶۰ء کے بعد اس مدت کی چوتھی کم ترین سطح پر رہی، جس کے باعث زرعی شعبے پر دباؤ بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ عالمی بینک نے توانائی کی بلند قیمتوں اور ممکنہ ال نینو اثرات کو بھی ہندوستان اور پورے جنوبی ایشیا کے لیے اہم خطرات میں شمار کیا ہے چونکہ جنوبی ایشیا کے بیشتر ممالک خام تیل کے بڑے درآمد کنندگان ہیں، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ مہنگائی اور اقتصادی سرگرمیوں دونوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔عالمی بینک نے ۲۰۲۶ء کے لیے پورے جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا تخمینہ بھی ۳ء۶؍ فیصد سے بڑھا کر ۹ء۶؍ فیصد کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس بہتری میں ہندوستان کی توقع سے بہتر اقتصادی کارکردگی کا نمایاں کردار ہے۔ اس کے برعکس ہندوستان کو نکال کر جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک کی ترقی کی شرح کا اندازہ ۱ء۴؍فیصد سے کم کرکے ۶ء۳؍ فیصد کردیا گیا ہے۔ عالمی بینک نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ مصنوعی ذہانت آنے والے برسوں میں ہندوستان اور جنوبی ایشیا کی پیداواری صلاحیت اور روزگار کے نئے مواقع کے لیے اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ تاہم ہندوستان میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال ابھی ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔ تازہ جائزے کے مطابق تقریباً ۴ء۲۳؍ فیصد ہندوستانی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کا استعمال کررہی ہیں، جبکہ امریکہ میں یہ شرح ۷ء۴۲؍ فیصد ہے۔
مجموعی طور پر عالمی بینک کا تازہ اندازہ ہندوستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ ہے۔ مضبوط ملکی طلب، صنعت اور خدمات کے شعبے اقتصادی نمو کو سہارا دے رہے ہیں، تاہم توانائی کی بلند قیمتیں، کمزور مانسون، زرعی پیداوار اور عالمی مالیاتی حالات آنے والے عرصے میں ترقی کی رفتار کے لیے اہم چیلنج بن سکتے ہیں۔ عالمی بینک کی جانب سے مالی سال ۲۰۲۷ء کے لیے۱ء۷؍ فیصد نمو کا اندازہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ عالمی دباؤ کے باوجود ہندوستان جنوبی ایشیا کی اقتصادی ترقی کا سب سے اہم محرک بنا ہوا ہے۔