ورلی کی مختلف سڑکوں پرمختلف ایپ کے ذریعے سامان کی سروس فراہم کرنے والی الیکٹرک بائیک اور موٹر بائیک سواروں کی لاپروائیوں کے سبب مسافروں ، راہگیروں اور اس علاقے کے مکینوں کیلئے سڑک پر چلنامشکل ہوگیا ہے۔
ورلی میں بائیک رائیڈرس اور بس ڈرائیور کی لاپروائی پر منعقدہ میٹنگ - تصویر:آٓئی این این
ورلی کی مختلف سڑکوں پرمختلف ایپ کے ذریعے سامان کی سروس فراہم کرنے والی الیکٹرک بائیک اور موٹر بائیک سواروں کی لاپروائیوں کے سبب مسافروں ، راہگیروں اور اس علاقے کے مکینوں کیلئے سڑک پر چلنامشکل ہوگیا ہے۔اس سلسلے میں ورلی ریذیڈنٹ اسوسی ایشن اور ایریا لوکل مینجمنٹ باڈی کے ۴؍ سو سے زائد اراکین نے جوائنٹ کمشنر ٹریفک سے ملاقات کر دوسروں کی جان کیلئے خطرہ بننے والے رائیڈروں اور بائیک و الیکٹرک بائیک چلانے والوں پر قدغن لگانے کی اپیل کی تھی۔ سنیچر کو ہونے والی میٹنگ کے دوسرے ہی دن ورلی و اطراف کے علاقوں میں لاپروائی ، تیز رفتار اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے ہزاروں روپے جرمانہ عائد کیا گیا اور اس سلسلے کو مستقل طور پر جاری رکھنے کا بھی یقین دلایا گیا ۔ممبئی ٹریفک پولیس کے جوائنٹ کمشنر ستیہ نارائن چودھری سے ہونےوالی ملاقات کے دوران مذکورہ تنظیم کے ذمہ داران نے ورلی ناکہ ، ورلی اینی بسینٹ روڈ اور اس سے متصل علاقوں میں بائیک سواروں کے سبب راہگیروںاور مکینوں کو ہونے والی پریشانی سے آگاہ کیا ہے ۔ تنظیم کی سربراہی کرتے ہوئے دیپالی دھٹے نے بتایا کہ ورلی سے متصل مختلف جنکشنوں پر اکثرنہ صرف انتہائی لاپروائی اور جان لیوا بائیک چلاتےہیں بلکہ ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے دوسروں کی جان کے لئے خطرہ بھی بنتے ہیں ۔ای بائیک اور موٹر بائیک چلانے والے اکثر افراد کا معمول ہے کہ وہ نہ صرف سگنل توڑتے ہیںبلکہ پیدل چلنے والوں کے لئے ہر وقت خطرہ پیدا کرتے ہیں۔
میٹنگ کے دوران تنظیم کے دیگر ممبران رادھیکا گیلانی ویرن شاہ ، سنجیتا جوشی اور پونم سمطائی نے ورلی کے گنپت راؤ کدم مارگ اور ورلی ناکہ پر بس ڈرائیوروں کے انتہائی لاپروائی سے گاڑی چلانے اور ممکنہ حادثات کا خدشہ بننے کی اطلاع دیتے ہوئے بیسٹ بسوں کے ڈرائیوروں اور لاپروائی سے ٹیکسی چلانےو الوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی اپیل کی ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اکثر گاڑی ڈرائیوروں کے ذریعہ لین کٹنگ کرتے ہوئے گاڑی چلانے کے سبب حادثات ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
جوائنٹ کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے تنظیموں کو فوری طور پر مسئلہ کو نہ صرف حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی بلکہ اتوار کو عملی طور پر کارروائی کا سلسلہ شروع کیا ۔ اس دوران پولیس نے ٹریفک قوانین اور دوسری کی جان کیلئے خطرہ بننے والے موٹر بائیک ، ای بائیک کے علاوہ ٹیکسی اور بس ڈرائیوروں کیخلاف بھی کارروائی کی اور ہزاروں روپے جرمانہ وصول کیا۔ اس سخت کارروائی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔