تیز بارش کے دوران لوکل ٹرین کے ڈبے کا دروازہ بند کرنے کے معمولی تنازع پر ایک مسافر نے چاقو سے ۲۲؍ سالہ نوجوان کا بے رحمی سے قتل کر دیا۔
EPAPER
Updated: June 24, 2026, 11:09 PM IST | Mumbai
تیز بارش کے دوران لوکل ٹرین کے ڈبے کا دروازہ بند کرنے کے معمولی تنازع پر ایک مسافر نے چاقو سے ۲۲؍ سالہ نوجوان کا بے رحمی سے قتل کر دیا۔
تیز بارش کے دوران لوکل ٹرین کے ڈبے کا دروازہ بند کرنے کے معمولی تنازع پر ایک مسافر نے چاقو سے ۲۲؍ سالہ نوجوان کا بے رحمی سے قتل کر دیا۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ چرچ گیٹ - نالاسوپارہ فاسٹ ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبے میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت مینک لوہار کے طور پر ہوئی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق مینک لوہار منگل کی رات چرچ گیٹ سے نالا سوپارہ جانے والی فاسٹ لوکل ٹرین کے فرسٹ کلاس ڈبے میں سفر کر رہا تھا۔ شہرومضافات میں جاری موسلا دھار بارش کے باعث ڈبے میں پانی اندر آ رہا تھا جس کی وجہ سے دروازہ بند کرنے کے معاملے پر مینک کی روشن سورنا نامی ۳۰؍ سالہ مسافر سےتکرار شروع ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ بحث اتنی بڑھ گئی کہ روشن نے طیش میں آکر جیب سے چاقو نکالا اور مینک کے پیٹ پر پے در پے وار کر دیئے جس سے وہ شدید زخمی ہو کر خون میں لت پت ڈبے کے فرش پر گر پڑا۔ رات تقریباً ۱۱ بجکر ۴ ؍ منٹ پر جیسے ہی لوکل ٹرین بوریولی اسٹیشن کے قریب پہنچی، ملزم روشن سورنانے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر فرار ہو گیا۔ ٹرین اسٹیشن پر رکی تو آر پی ایف اور جی آر پی کے اہلکار فوراً ڈبے میں داخل ہوئے اور مینک کو قریبی اسپتال پہنچایا لیکن زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے علاج کے دوران اس نے دم توڑ دیا۔ میرا بھائندر کے رہنے والے ملزم روشن سورناکو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
گوریگاؤں اور کاندیولی کے درمیان ہونے والی قتل کی اس واردات نے ممبئی لوکل ٹرینوں بالخصوص فرسٹ کلاس ڈبوں میں مسافروں کے تحفظ اور ریلوے پولیس کے گشت پر ایک بار پھر سنگین سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔اس واقعہ کی ویڈیو میں لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ’’یہ مار دیا اس کو، مار دیا۔‘‘
ریلوے پولیس نے اس سلسلے میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور بوریولی اسٹیشن سمیت دیگر اسٹیشنوں کے سی سی ٹی وی فوٹیج کھنگالنے کے بعد اسے پنویل میں تلاش کرکے حراست میں لے لیا۔ مقتول کے اہل خانہ صدمے سے نڈھال ہیں۔ مینک کی والدہ جواپنے بیٹے کی موت پر زاروقطار رو رہی تھی ، نے کہا کہ ’’اس کو سزا دو، میرے بیٹے کو نیائے (انصاف) دو، وہ تو کسی سے لڑتا جھگڑتا نہیں تھا۔ کل کا گیا ہے، ابھی تک آیا نہیں، میرا بیٹا۔ کدھر جاؤں، میں برباد ہو گئی۔‘‘