امریکی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنیٹیسلا کی نئی نسل کی روڈسٹر اسپورٹس کار نے جدید گاڑیوں کی دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔۱۵؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو پیش کی گئی اس گاڑی میں برقی گاڑیوں کی روایتی ٹیکنالوجی کے ساتھ خلائی تحقیق میں استعمال ہونے والے نظاموں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس میں ایسے نظام موجود ہیں جو گاڑی کو انتہائی تیز رفتار سے دوڑانے، سڑک پر گرفت بڑھانے اور مخصوص حالات میں زمین سے اوپر اچھالنے یا ہوا میں حرکت کو قابو کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اس منصوبے میں SpaceX کی ٹیکنالوجی بھی شامل ہے، جبکہ گاڑی کی پیداوار ۲۰۲۸ء میں شروع کرنے کا ہدف بتایا گیا ہے۔ (تصویر:ٹیسلا ایکس)
راکٹ جیسا نظام، جو گاڑی کو ہوا میں حرکت دینے میں مدد دے گااس گاڑی کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی خصوصیت Cold-Gas Thrusters یعنی دباؤ والی گیس سے دھکا پیدا کرنے والے آلات ہیں۔ یہ نظام خلائی جہازوں کی سمت اور حرکت کو قابو کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے مشابہ ہے۔ اس میں انتہائی دباؤ کے تحت محفوظ گیس کو مخصوص نوزلز کے ذریعے خارج کیا جاتا ہے، جس سے مخالف سمت میں قوت پیدا ہوتی ہے۔ اس اصول کے تحت گاڑی کو آگے بڑھانے، اوپر اٹھانے یا ہوا میں اس کی سمت تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔عام راکٹ انجنوں کے برعکس اس نظام میں گیس کو جلانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
پنکھوں اور سکشن کا نظام، جو گاڑی کو الٹا بھی تھام سکتا ہےروڈسٹر کی دوسری حیرت انگیز ٹیکنالوجی Multi-Mode Suction System ہے۔ اس نظام میں طاقتور پنکھوں کے ذریعے گاڑی کے نچلے حصے سے ہوا کھینچی جاتی ہے، جس سے گاڑی اور سطح کے درمیان دباؤ میں فرق پیدا کرکے اسے نیچے کی جانب مضبوطی سے تھامنے میں مدد ملتی ہے۔ ٹیسلا کے مطابق یہ نظام گاڑی کی گرفت اور موڑ کاٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ مخصوص حالات میں اسے الٹی سطح پر تھامنے کے قابل بھی بنا سکتا ہے۔ اس کا مقصد تیز رفتار پر گاڑی کے ٹائروں کی گرفت بہتر بنانا اور سڑک پر استحکام بڑھانا ہے۔
متحرک ایروڈائنامکس، رفتار کے مطابق بدلنے والا ڈیزائن تیسری ٹیکنالوجی Active Aerodynamics ہے، جس میں گاڑی کے مختلف حصے رفتار اور ڈرائیونگ کی ضرورت کے مطابق اپنی پوزیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔ عام گاڑیوں میں ہوا کی مزاحمت کم کرنے اور گاڑی کو سڑک پر مضبوطی سے رکھنے کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے، لیکن متحرک ایروڈائنامکس اس توازن کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے۔ روڈسٹر میں متحرک پچھلا وِنگ اور ہوا کے بہاؤ کو قابو کرنے والے نظام تیز رفتار پر نیچے کی جانب دباؤ بڑھانے اور گرفت بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ دوسری جانب، جب زیادہ رفتار حاصل کرنا مقصود ہو تو ہوا کی مزاحمت کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے۔
ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں صفر سے ۶۰؍ میل فی گھنٹہ کی رفتار ٹیسلا نے روڈسٹر کے اعلیٰ کارکردگی والے ورژن کے لیے دعویٰ کیا ہے کہ وہصفر سے ۶۰؍ میل فی گھنٹہ (تقریباً ۹۷؍ کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں حاصل کر سکتا ہے۔ یہ دعویٰ اسے دنیا کی تیز ترین تیز رفتار پکڑنے والی کاروں میں شامل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کارکردگی کے پیچھے برقی موٹروں کی فوری قوت، گاڑی کی گرفت بہتر بنانے والے پنکھوں اور مخصوص ورژن میں دباؤ والی گیس سے دھکا پیدا کرنے والے نظام کا کردار بتایا گیا ہے۔
اسٹیئرنگ اور سسپنشن میں جدید تبدیلیاںپانچویں اہم ٹیکنالوجی Steer-by-Wire اور جدید سسپنشن کا امتزاج ہے۔ روایتی گاڑیوں میں اسٹیئرنگ کے ذریعے پہیوں کو موڑنے کے لیے مکینیکل رابطے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ اسٹیئر بائی وائر نظام میں برقی سگنل اور کنٹرول نظام ڈرائیور کے حکم کو پہیوں تک پہنچاتے ہیں۔ ٹیسلا کے مطابق نئی روڈسٹر میں جدید اسٹیئرنگ نظام کے ساتھ ایسا سسپنشن بھی ہوگا جسے ڈرائیونگ کے مختلف طریقوں کے مطابق تبدیل کیا جا سکے گا۔ اس سے ٹریک پر زیادہ مضبوط گرفت اور عام حالات میں بہتر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ کمپنی نے ہلکے مگر مضبوط مواد، مثلاً میگنیشیم، ٹائٹینیم اور کاربن فائبر کے استعمال کا بھی ذکر کیا ہے، جن کا مقصد وزن کم کرنا اور گاڑی کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔