۲۰۲۵ءمیں دنیا کی مصروف ترین کنٹینر بندرگاہوں کی فہرست میں چین نے نمایاں برتری حاصل کی۔ چین کی شنگھائی بندرگاہ مسلسل ۱۶؍ویں سال دنیا کی سب سے مصروف کنٹینر بندرگاہ رہی، جہاں سال بھر میں تقریباً ۵؍ کروڑ ۵۱؍ لاکھ ٹی ای یو کنٹینرز کی نقل و حمل ہوئی۔ سنگاپور۴؍ کروڑ ۴۷؍ لاکھ ٹی ای یو کے ساتھ دوسرے اور چین کی ننگبو ژوشان بندرگاہ ۴؍ کروڑ ۳۹؍ لاکھ ٹی ای یو کے ساتھ تیسرے مقام پر رہی۔ اس درجہ بندی سے عالمی تجارت، صنعتی پیداوار اور سمندری مال برداری میں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کی اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔خیال رہے کہ ٹی ای یو کا مطلب بیس فٹ کے ایک معیاری کنٹینر کے برابر پیمانہ ہے۔ بندرگاہوں کی کارکردگی کا موازنہ کرنے کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ چالیس فٹ کے کنٹینر کو عام طور پر دو ٹی ای یو کے برابر شمار کیا جاتا ہے۔(تصاویر:آئی این این )
شنگھائی، چین،۱ء۵۵؍ ملین ٹی ای یوشنگھائی مسلسل ۱۶؍ویں سال دنیا کی مصروف ترین کنٹینر بندرگاہ رہی۔ دریائے یانگسی کے ساتھ اندرونِ ملک آبی راستے اور ریل کا نظام اسے وسیع صنعتی علاقوں سے جوڑتے ہیں، جس کی وجہ سے یہاں چین کے مختلف علاقوں سے سامان پہنچتا ہے اور دنیا بھر میں روانہ کیا جاتا ہے۔
سنگاپور،۷ء۴۴؍ ملین ٹی ای یوسنگاپور عالمی سمندری تجارت کا ایک اہم رابطہ مرکز ہے۔ یہاں بڑی مقدار میں کنٹینرز ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کیے جاتے ہیں، جسے دوبارہ باربرداری یا ٹرانس شپمنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ بندرگاہ دنیا بھر کی ۶۰۰؍ سے زیادہ بندرگاہوں سے رابطہ رکھتی ہے۔ اس کا توآس بندرگاہ منصوبہ مکمل ہونے پر ۲۰۴۰ء کی دہائی میں سالانہ ۶۵؍ ملین ٹی ای یو کی گنجائش حاصل کرنے کے لیے بنایا جا رہا ہے۔
ننگبو ژوشان، چین، ۹ء۴۳؍ ملین ٹی ای یوننگبو ژوشان بندرگاہ نے ۲۰۲۵ء میں تقریباً ۴؍ کروڑ ۳۹؍لاکھ ٹی ای یو کنٹینرز سنبھالے۔ اس کی کارکردگی سنگاپور کے قریب رہی اور یہ چین کی عالمی تجارتی رسائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
شینژن، چین،۴ء۳۵؍ ملین ٹی ای یوشینژن چین کی برآمدی صنعت، خصوصاً برقی آلات، الیکٹرانکس اور صارفین کی اشیا کی عالمی ترسیل کا اہم مرکز ہے۔ ہانگ کانگ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے بھی اسے علاقائی اور بین الاقوامی تجارت میں اہمیت حاصل ہے۔
چنگ ڈاؤ، چین،۹ء۳۲؍ ملین ٹی ای یوچنگ ڈاؤ شمالی چین کی تجارت کے لیے ایک اہم سمندری دروازہ ہے۔ ۲۰۲۵ء میں اس نے تقریباً ۳؍ کروڑ ۲۹؍ لاکھ ٹی ای یو کنٹینرز سنبھالے، جو امریکہ کی مصروف ترین بندرگاہ لاس اینجلس کے حجم سے چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔
گوانگژو، چین، ۱ء۲۸؍ ملین ٹی ای یوگوانگژو دریائے پرل کے ڈیلٹا میں واقع ہے، جو دنیا کے بڑے صنعتی اور پیداواری علاقوں میں شامل ہے۔ یہاں سے قریبی کارخانوں میں تیار ہونے والی اشیا بڑی مقدار میں عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔
بوسان، جنوبی کوریا،۹ء۲۴؍ ملین ٹی ای یوبوسان جنوبی کوریا کی اہم ترین تجارتی بندرگاہ ہے۔ یہ درجہ بندی کے ابتدائی آٹھ مقامات میں چین اور سنگاپور سے باہر واقع واحد بندرگاہ ہے، جو خطے میں جنوبی کوریا کی سمندری تجارت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
تیانجن، چین، ۰ء۲۴؍ ملین ٹی ای یوتیانجن نے تقریباً ۲؍ کروڑ ۴۰؍ لاکھ ٹی ای یو کنٹینرز سنبھالے۔ یہ شمالی چین کی تجارت اور صنعتی سرگرمیوں کے لیے ایک اہم بندرگاہ ہے اور دنیا کی آٹھ مصروف ترین بندرگاہوں میں چین کی چھ بندرگاہیں شامل ہونے کی ایک مثال ہے۔
دبئی، متحدہ عرب امارات ، ۵۵ء۱۵؍ ملین ٹی ای یودبئی کی بندرگاہ مشرقِ وسطیٰ کا ایک بڑا کنٹینر مرکز ہے۔ ایشیا، یورپ، افریقہ اور خلیجی ممالک کے درمیان واقع ہونے کی وجہ سے یہاں مختلف براعظموں کے درمیان سامان کی منتقلی میں اہم کردار ادا کیا جاتا ہے۔ فراہم کردہ اعداد کے مطابق یہ ابتدائی دس بندرگاہوں میں مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا سے باہر واحد بندرگاہ ہے۔
پورٹ کلانگ، ملائیشیا،۱ء۱۵؍ ملین ٹی ای یوپورٹ کلانگ ملائیشیا کی مرکزی تجارتی بندرگاہ ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کی بحری تجارت میں اہم مقام رکھتی ہے۔ یہ ملائیشیا کی دوسری بڑی بندرگاہ جوہر سے بھی قریبی مسابقت رکھتی ہے۔