Inquilab Logo

دنیا میں تبدیلی کا محرک بننے والے ’’طلبہ‘‘ کے مظاہرے

Updated: Apr 27, 2024, 8:08 PM IST | Shahebaz Khan

نوجوان دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں اس لئے جب نا انصافی اور ظلم حد سے بڑھنے لگتا ہے تو تعلیمی ادارے مظاہروں کی آماجگاہ بن جاتے ہیں۔ فی الحال دنیا بھر کے طلبہ فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ کررہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مثبت تبدیلی کیلئے نوجوانوں نے بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے ہیں۔ جانئے ایسے ہی چھ مظاہروں کے بارے میں۔ تمام تصاویر: ایکس، یوٹیوب، آئی این این

X اسرائیل مخالف مظاہرے:امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی (نیویارک) سے شروع ہونے والا اسرائیل مخالف مظاہرہ اب ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی پھیل چکا ہے۔ غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف نوجوان سوشل میڈیا سے احتجاج کرتے ہوئے اب سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ فلسطین حامی مظاہرے صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں ہورہے ہیں جن میں پیرس یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج قابل ذکر ہے۔
1/6

اسرائیل مخالف مظاہرے:امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی (نیویارک) سے شروع ہونے والا اسرائیل مخالف مظاہرہ اب ملک کے دیگر تعلیمی اداروں میں بھی پھیل چکا ہے۔ غزہ پر جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف نوجوان سوشل میڈیا سے احتجاج کرتے ہوئے اب سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ فلسطین حامی مظاہرے صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں ہورہے ہیں جن میں پیرس یونیورسٹی کے طلبہ کا احتجاج قابل ذکر ہے۔

X سویٹو کا احتجاج: ۱۶؍ جون ۱۹۷۶ء کی صبح سویٹو، جنوبی افریقہ کے مختلف اسکولوں میں تقریباً ۲۰؍ ہزار سیاہ فام طلبہ نے پُر امن مظاہرہ کیا تھا جس کا مقصد نصاب میں شامل نسل پرست اسباق کو منسوخ کروانا تھا۔ یہ مظاہرہ اس وقت پرتشدد ہو گیا جب اس کا مسلح پولیس فورس سے سامنا ہوا۔ اس میں ۷۰۰؍ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ احتجاج تیزی سے دوسرے تعلیمی اداروں تک بھی پھیلا اور حکومت کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اس کے بعد سے ۱۶؍ جون جنوبی افریقہ میں نوجوانوں کے دن کے طور پر منایا جانے لگا۔
2/6

سویٹو کا احتجاج: ۱۶؍ جون ۱۹۷۶ء کی صبح سویٹو، جنوبی افریقہ کے مختلف اسکولوں میں تقریباً ۲۰؍ ہزار سیاہ فام طلبہ نے پُر امن مظاہرہ کیا تھا جس کا مقصد نصاب میں شامل نسل پرست اسباق کو منسوخ کروانا تھا۔ یہ مظاہرہ اس وقت پرتشدد ہو گیا جب اس کا مسلح پولیس فورس سے سامنا ہوا۔ اس میں ۷۰۰؍ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ یہ احتجاج تیزی سے دوسرے تعلیمی اداروں تک بھی پھیلا اور حکومت کو ان کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ اس کے بعد سے ۱۶؍ جون جنوبی افریقہ میں نوجوانوں کے دن کے طور پر منایا جانے لگا۔

X مخملی انقلاب (ویلویٹ ریولیوشن): ۱۷؍ نومبر ۱۹۸۹ء کو ہزاروں طلبہ نے چیکوسلواکیہ میں حکومت کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں آمرانہ نظام اور کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا۔ مظاہرین نے اس تاریخ کا انتخاب اس لئے کیا کیونکہ یہ طلبہ کا بین الاقوامی دن تھا۔
3/6

مخملی انقلاب (ویلویٹ ریولیوشن): ۱۷؍ نومبر ۱۹۸۹ء کو ہزاروں طلبہ نے چیکوسلواکیہ میں حکومت کے خلاف سب سے بڑا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں آمرانہ نظام اور کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا۔ مظاہرین نے اس تاریخ کا انتخاب اس لئے کیا کیونکہ یہ طلبہ کا بین الاقوامی دن تھا۔

X ویتنام جنگ مخالف مظاہرے: ویتنام جنگ کے دور میں امریکہ میں مظاہروں کا سلسلہ مئی ۱۹۷۰ء میں شروع ہوا جس میں ۸۸۰؍ سے زیادہ تعلیمی اداروں کے ۱۰؍ لاکھ سے زائد طلبہ نے یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے ایک طاقتور مظاہرہ کیا۔ ان مظاہروں کا مقصد ویتنام جنگ بند کروانا تھا۔ 
4/6

ویتنام جنگ مخالف مظاہرے: ویتنام جنگ کے دور میں امریکہ میں مظاہروں کا سلسلہ مئی ۱۹۷۰ء میں شروع ہوا جس میں ۸۸۰؍ سے زیادہ تعلیمی اداروں کے ۱۰؍ لاکھ سے زائد طلبہ نے یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے ایک طاقتور مظاہرہ کیا۔ ان مظاہروں کا مقصد ویتنام جنگ بند کروانا تھا۔ 

X ’’گرینزبورو‘‘ دھرنا: یکم فروری ۱۹۶۰ء کو نارتھ کیرولینا ایگریکلچرل اینڈ ٹیکنیکل اسٹیٹ یونیورسٹی کے چار افریقی نژاد امریکی طلبہ گرینزبورو، شمالی کیرولینا میں واقع وول ورتھ کے اسٹور میں `صرف ’’سفید فاموں‘‘ کیلئے مختص کاؤنٹر پر بیٹھ کر پرامن احتجاج کیا جس کا مقصد نسلی منافرت ختم کرنا تھا۔ اس یہ احتجاج تیزی سے دوسری یونیورسٹیوں میں بھی پھیل گیا۔ امریکہ میں سفید اور سیاہ فاموں کے درمیان جو نسلی دیوار کھڑی کی گئی تھی، اسے گرانے میں طلبہ کے اس احتجاج نے اہم کردار ادا کیا۔
5/6

’’گرینزبورو‘‘ دھرنا: یکم فروری ۱۹۶۰ء کو نارتھ کیرولینا ایگریکلچرل اینڈ ٹیکنیکل اسٹیٹ یونیورسٹی کے چار افریقی نژاد امریکی طلبہ گرینزبورو، شمالی کیرولینا میں واقع وول ورتھ کے اسٹور میں `صرف ’’سفید فاموں‘‘ کیلئے مختص کاؤنٹر پر بیٹھ کر پرامن احتجاج کیا جس کا مقصد نسلی منافرت ختم کرنا تھا۔ اس یہ احتجاج تیزی سے دوسری یونیورسٹیوں میں بھی پھیل گیا۔ امریکہ میں سفید اور سیاہ فاموں کے درمیان جو نسلی دیوار کھڑی کی گئی تھی، اسے گرانے میں طلبہ کے اس احتجاج نے اہم کردار ادا کیا۔

X فرانس: مئی ۶۸ء احتجاج: مئی ۱۹۶۸ء میں فرانس سماجی بدامنی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس وقت پیرس کے طلبہ نے سوربون یونیورسٹی پر قبضہ کر لیا جو یورپ کی باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہ عمل ملک میں ہلچل کی علامت بن گیا۔ طلبہ کی اس تحریک میں ۱۰؍ ملین افراد نے حصہ لیا۔انہوں نے جمہوری اور تعلیمی اصلاحات، ثقافتی آزادی، سماجی انصاف اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کیا۔ان مظاہروں کے اثرات نے سماجی اور سیاسی آزادیوں کی راہ ہموار کی۔
6/6

فرانس: مئی ۶۸ء احتجاج: مئی ۱۹۶۸ء میں فرانس سماجی بدامنی کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس وقت پیرس کے طلبہ نے سوربون یونیورسٹی پر قبضہ کر لیا جو یورپ کی باوقار یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ یہ عمل ملک میں ہلچل کی علامت بن گیا۔ طلبہ کی اس تحریک میں ۱۰؍ ملین افراد نے حصہ لیا۔انہوں نے جمہوری اور تعلیمی اصلاحات، ثقافتی آزادی، سماجی انصاف اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کیا۔ان مظاہروں کے اثرات نے سماجی اور سیاسی آزادیوں کی راہ ہموار کی۔

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK