EPAPER
وزیر ٹیکس بڑے الجھے ہوئے تھے، انہیں بجٹ پیش کرنا تھا اور وہ بھی گھاٹے کا۔ بلا نئے ٹیکسوں کے چارہ نہ تھا۔ جس مد کو دیکھتے بھنا جاتے، یا تو اس پہ ٹیکس درٹیکس ملتا، یا ان کی سوشلسٹ پالیسی راستہ روک لیتی، مجبوراً سکریٹری کو مشورے کے لئے طلب کیا اور بولے:سیکریٹری صاحب، ہم کو عوام کی غریبی دور کرنے کے لئے امیروں پر ٹیکس بڑھانے ہی پڑیں گے۔ ہم سے عوام کی غریبی اب پھوٹی آنکھ نہیں دیکھی جاتی۔
March 29, 2026, 3:20 PM IST
سماج میں قیامِ امن کا مسئلہ بنیادی اور براہِ راست طور سے اہل ادب کیلئے نہیں، اہل سیاست یا انتظامیہ کیلئے سوال ہے تاہم اس حوالے سے ادیب اپنی سوچ اور اپنے ردِ عمل کا اظہار اپنی داخلی کیفیت کے تحت کرتا ہے اِسلئے کہ اُس کا ردِ عمل دراصل اُس آواز کو سامنے لاتا ہے جسے ہم ضمیر کی آواز کہتے ہیں۔
March 29, 2026, 3:11 PM IST
ایک ایسی خاتون کی کہانی جس نے اپنی تربیت کو شرمندہ نہیں کیا۔
March 25, 2026, 3:33 PM IST
چائے کا ایک گھونٹ لے کر اس نے اپنی پسندیدہ میگزین اٹھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اتنے میں فون کی رِنگ سنائی دی۔ ہاتھ بڑھا کر صوفے کی اس جانب دیکھا تو بھائی کا نام بلنک کر رہا تھا۔
March 23, 2026, 3:49 PM IST
