Inquilab Logo Happiest Places to Work

اَدب کا کام صرف سماجی تباہیوں اور خارجی حادثوں کا اثر قبول کرنا نہیں ہے

Updated: March 15, 2026, 12:12 PM IST | Ali Sardar Jafri | Mumbai

ادیب کا ذہن فوٹوگرافر کا کیمرہ نہیں جس میں سماجی تباہیوں کا عکس دکھائی دے، آئینہ نہیں جس میں خارجی حادثوں کی شکل نظر آئے، حرارت ناپنے کا آلہ نہیں جس کا پارہ موسم کے اثر سے گھٹتا بڑھتا رہے۔ ادیب کے ذہن کی ساخت بھی دوسرے انسانوں کے ذہن کی ساخت کی طرح ہے یعنی متحرک اور غیرجامد جو اثر قبول کرنے کے ساتھ اثر ڈالتا بھی ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ادب کو جنگ اور دوسری سماجی تباہیوں سے کوئی سروکار نہیں … ان سماجی تباہیوں سے اس کے ماتھے پر شکن پڑنی چاہئے اور اس کے ذہن کی تخلیقی صلاحیتوں پر ان کا کوئی ردعمل ہونا چاہئے… فکرو عمل کی تمام آزادی اور ادبی تخلیق کی تمام سہولتیں اور تہذیب و تمدن کی تمام برکتیں بھی تباہی کے اس گرداب میں آجائیں تو بھی ادب کو اپنا دامن بچا لینا چاہئے … ان حالات کی حفاظت کرنا جن کے بغیر ادب کی زیست اور ترقی ناممکن ہے، سیاستدانوں کا کام ہے۔ ادیبوں کا کام ادب کی خدمت کرنا ہے، ادب کی تخلیق کرنا ہے نہ کہ اس کی حفاظت کرنا… یہ غلط فہمی ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی پھیلی ہوئی ہے۔ اس خیال کے حامیوں میں ’’پاکیزہ ‘‘ ادب کا ایک ایسا رومانوی تصور پایا جاتاہے جو نہ ادب کی تاریخ کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے اور نہ عالم وجود سے کوئی نسبت رکھتا ہے۔ ادب کی تاریخ ادب کے اس رومانوی تصور کی تردید کرتی ہے۔ ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والوں سے یہ حقیقت چھپی نہیں ہے کہ ادیبوں نے بھی ہر قومی اور سماجی تباہی یا ہنگامہ سے پورا اثر لیا ہے۔ کسی سماجی تباہی یا ہنگامہ کے زمانے کےادب پر نظر ڈالئے، آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ اس عہد کا بڑے سے بڑا ادیب اور مفکر بھی ان حادثوں سے اثر لئے بغیر نہیں رہا ہے اور ادب کے اس ذخیرہ کا تو ذکر ہی کیا جو ہر بڑی جنگ کے موقع پر ہر زبان میں اکٹھا ہوجاتا ہے۔ انسانی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کوئی جنگ چھڑی ہو، کوئی سماجی آفت آئی ہو یا کوئی انقلاب رونما ہوا ہو اور ادب اس سے متاثر نہ ہوا ہو اور کترا کر چلا گیا ہو۔ جو لوگ ادیبوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ انہیں جنگ اور دوسرے سماجی ہنگاموں سے اثر نہ لینا چاہئے وہ نہ تو ادب کی تاریخ سے واقف ہیں نہ ادیبوں کی فطرت سے۔ ادیب سماج کا سب سے ذکی الحس عضو ہے اور سماجی حادثوں اور ہنگاموں کے نقوش کا اثر سب سے پہلے اسی کے ذہن پر پڑتا ہے۔ بقول اقبال:
شاعر رنگیں بیاں ہے دیدۂ بینائے قوم/مبتلائے درد کوئی عضو ہو روتی ہے آنکھ/کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ 
لیکن ادب کا کام صرف سماجی تباہیوں اور خارجی حادثوں کا اثر قبول کرنا نہیں ہے۔ ادیب کا ذہن فوٹوگرافر کا کیمرہ نہیں جس میں سماجی تباہیوں کا عکس دکھائی دے، آئینہ نہیں جس میں خارجی حادثوں کی شکل نظر آئے، حرارت ناپنے کا آلہ نہیں جس کا پارہ موسم کے اثر سے گھٹتا بڑھتا رہے۔ ادیب کے ذہن کی ساخت بھی دوسرے انسانوں کے ذہن کی ساخت کی طرح ہے یعنی متحرک اور غیرجامد۔ متحرک اور غیرجامد سے مراد یہ ہے کہ ادیب کا ذہن اثر قبول کرنے کے ساتھ اثر ڈالتا بھی ہے۔ خارجی اثرات کے نقوش ذہن میں جمتے نہیں ہیں بلکہ ذہن انہیں قبول کرنے کے بعد ایک نئی شکل میں پیش کرتا ہے۔ ادیب کے ذہن اور خارجی اثرات میں وہی نسبت ہے جو خام اشیاء اور صنعتی کارخانے میں ہوتی ہے۔ مانا کہ صنعتی کارخانے خام اشیاء کے بغیر کارآمد نہیں ہوسکتے لیکن خام اشیاء کو نئی اور بہتر شکل دینا صنعتی کارخانوں ہی کا کام ہے۔ یہی حال ادیب کے ذہنی کارخانے میں خارجی اثرات کا ہے۔ 
ادیب اور مفکر جنگ، انقلاب اور دوسرے سماجی حادثوں سے متاثر ہونے کے ساتھ ان پر اثرانداز بھی ہوتے ہیں۔ ان کے دھاروں کا رخ بدلتے ہیں ، انہیں نرم رو یا تیز بناتے ہیں اور بسا اوقات یہی لوگ ان حادثات کی تخلیق بھی کرتے ہیں، تماشائی بھی ہوتے ہیں اور اداکار بھی، مسافر بھی ہوتے ہیں اور میر کارواں بھی۔ بقول حالی: ادب میں پڑی جان ان کی زباں سے/ جِلا دین نے پائی ان کے بیاں سے/ سناں کے، لئے کام انہوں نے لساں سے/ زبانوں کے کونچے تھے بڑھ کر سناں سے/ ہوئے ان کے شعروں سے اخلاق صیقل/پڑی ان کے خطبوں سے عالم میں ہلچل 
یہ اشعار عرب شاعروں کے سماجی احساس کے بارے میں ہیں لیکن یہ سماجی احساس اور ذہنی ردعمل صرف عرب شاعروں کی خصوصیت نہیں بلکہ دنیا کے ہر ملک کے ادیبوں نے سماجی تباہی کے موقع پر اپنی قوت فکر کے مطابق اثر لیا ہے اور قوموں کے مزاج گرمائے ہیں۔ آئیے دیکھیں، ہمارے اردو ادیبوں نے سماجی تباہیوں سے کتنا اثر قبول کیاہے اور ان پر کتنا اثر ڈالا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اس بات پر مجھے اطمینان رہے گا کہ اپنے بارے میں کبھی خوش فہمی کا شکار نہیں ہوئی

بیسویں صدی سے پہلے اردو ادب کو دو زبردست سماجی تباہیوں سے سابقہ پڑا۔ پہلی تباہی سلطنت مغلیہ کے انتشار کی شکل میں ظاہر ہوئی اور دوسری غدر ۱۸۵۷ء کے روپ میں۔ ہمارے اکثر شاعروں نے سلطنت ِ مغلیہ کے زوال پر ہندوستانی سماج کی ذہنی اور سماجی ابتری کا نقشہ بڑے دردناک لفظوں میں کھینچا ہے۔ میرؔ اور سوداؔ کے شہرآشوب اور نظیرؔ اکبرآبادی کی بعض نظمیں اسی تباہی کا ردعمل ہیں۔ لیکن اس وقت کے شاعروں کے سماجی شعور اور تنقیدی صلاحیت نے اتنی ترقی نہ کی تھی کہ وہ اس سماجی تباہی کا اصل راز معلوم کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نالہ و ماتم کی منزل سے آگے نہ بڑھ سکے اور نہ سماج کے ذہنی انقلاب میں کوئی خاص حصہ لے سکے۔ غدر کی تباہی انیسویں صدی کی سب سے بڑی ٹریجڈی تھی جس نے ہمارے اکثر ادیبوں کے دل زخمی کئے۔ غالبؔ اور سرسیدؔ نے غدر کی تباہیوں سے بڑا اثر لیا۔ غالب نے اپنے خطوط میں آنسوؤں کے دریا بہائے ہیں اور غزلوں میں بھی جابجا دہلی کی تباہی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ سرسید نے نثر میں ’’غدر دہلی کے اسباب‘‘ پر ایک کتاب لکھی، آزاد نے قلعۂ معلی کی ویرانی پر خون کے آنسو بہائے اور حالی نے اپنے مجروح دل کا رونا مسدس میں رویا۔ ان لوگوں پر غدر کی تباہیوں کا جو ردعمل ہوا وہ میر اور سودا کے ردعمل سے مختلف تھا۔ وہاں بے بسی اور رونے کے سوا کچھ نہ تھا، یہاں ایک خاص قسم کی رجائیت پائی جاتی تھی۔ مانا کہ پوری قوم میں دھیرے دھیرے یہ رجائیت پیدا ہورہی تھی لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس رجائیت میں روح پھونکنے اور اسے ابھارنے میں ان ادیبوں کا بڑا ہاتھ ہے۔ 
۱۹۱۴ء کی جنگ عظیم بیسویں صدی کا سب سے بڑا تخریبی حادثہ تھا جس کا ردعمل ہمارے ادیبوں پر بھی ہوا لیکن ہمارے ادیب اس جنگ کے اصل اسباب سمجھنے سے قاصر رہے۔ انہو ں نے برطانوی حکومت کے جھوٹے وعدوں پر اعتبار کیا اور اسی فریب میں مبتلا رہے کہ انگریزی حکومت جمہوریت، آزادی اور چھوٹے ملکوں کی حفاظت کے لئے لڑ رہی ہے۔ شاید ٹیگور وہ اکیلا ہندوستانی ادیب ہے جس کی نظریں برطانوی حکومت کے آہنی جالوں کے باوجود جنگ عظیم کی گہرائیوں تک پہنچ گئیں اور اس نے جنگ عظیم کی اصل حقیقت بے نقاب کردی۔ 
پچیس سال کے بعد لالچ کے شعلے ایک بار پھر بھڑک اٹھے ہیں اور انسان اور اس کی ساری کمائی سرمایہ دار حکومت کے خون آلود جبڑوں کی زد میں آگئی ہے اور سامراجی قوتیں امن، آزادی، جمہوریت اور چھوٹے ملکوں کی حفاظت کے نام پر انسان کے خون سے ہولی کھیل رہی ہیں اور موت کے اس شعلہ فشاں رقص میں بھولے انسانوں کو شرکت کی دعوت دے رہی ہیں۔ ہمارا ادیب ایک بار پھر ان تخریبی مناظر سے اثر قبول کررہا ہے لیکن اس کا سماجی شعور بیدار ہوچکا ہے اور وہ جان گیا ہے کہ یہ ساری آفتیں کس کی لائی ہوئی ہیں۔ وہ موت کے اس برہنہ رقص پر حقارت کی نظر ڈالتے ہوئے ’ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے‘ یوں مخاطب ہوتا ہے:
اک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کی/ جس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کی/ وقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیں / موت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں (جوش)
۱۹۳۹ء کے اردو ادب کی آواز وقت کے ساتھ تیز ہوتی جائیگی۔ 
(باقیات ِ علی سردار جعفری۔ مرتب: علی احمد فاطمی)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK