دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی کارلوس الکاراز نے اپنی فتوحات کا سلسلہ ۱۶؍ میچوں تک بڑھا دیا اور جمعرات کو بی این پی پریباس اوپن میں مسلسل پانچویں بار انڈین ویلز سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔ الکاراز مسلسل پانچویں بار سیمی فائنل میں
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 4:35 PM IST | Indian Wells
دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی کارلوس الکاراز نے اپنی فتوحات کا سلسلہ ۱۶؍ میچوں تک بڑھا دیا اور جمعرات کو بی این پی پریباس اوپن میں مسلسل پانچویں بار انڈین ویلز سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔ الکاراز مسلسل پانچویں بار سیمی فائنل میں
دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی کارلوس الکاراز نے اپنی فتوحات کا سلسلہ ۱۶؍ میچوں تک بڑھا دیا اور جمعرات کو بی این پی پریباس اوپن میں مسلسل پانچویں بار انڈین ویلز سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔ ٹاپ سیڈیافتہ کھلاڑی نے کیمرون نوری کے خلاف۳۔۶، ۴۔۶؍ سے کامیابی حاصل کی، جس سے انہوں نے برطانوی کھلاڑی سے بدلہ لے لیا، جس نے انہیں گزشتہ نومبر میں پیرس میں شکست دی تھی۔
الکاراز نے کورٹ پر اپنے انٹرویو میں نوری کے بارے میں کہاکہ’’مجھے ان کے کھیل کے انداز سے بہت مشکل ہوتی ہے۔ ہر بار جب میں ان کے خلاف کھیلتا ہوں تو یہ میرے لیے بہت کٹھن ہوتا ہے۔ ان کا اسٹائل، ان کا ہیوی ٹاپ اسپن فورہینڈ، بہت اونچا، یہ تھوڑا کنفیوژنگ ہوتا ہے اور پھر بیک ہینڈ، بہت فلیٹ اور بہت نیچا۔ کبھی کبھی ان کے خلاف کھیلنا مشکل ہوتا ہے۔ لیکن مجھے صحیح شاٹ مل رہا ہے۔ میں نے اچھا کھیلا، شاندار کھیلا اور جب بھی موقع ملا، جارحانہ کھیلا۔ میں اس لیول پر کھیل کر خوش ہوں۔‘‘
In elite company ✨@carlosalcaraz | #TennisParadise pic.twitter.com/L0xERP8iXl
— BNP Paribas Open (@BNPPARIBASOPEN) March 13, 2026
پہلے سیٹ کے آخری چار گیمز میں تین بار سرو توڑنے کے بعد الکاراز نے برتری حاصل کی۔ دوسرے سیٹ میں نوری نے۰۔۲؍ کی سبقت لی، لیکن الکاراز نے لگاتار چار گیم جیت کر جواب دیا۔ ۲۲؍ سالہ کھلاڑی نے ۱۰؍ بریک پوائنٹس بنائے، جن میں سے چار کو کامیابی سے استعمال کیا۔ ایک گھنٹہ ۳۳؍ منٹ میں انہوں نے تیز بیس لائن ہٹنگ، ہلکے ڈراپ شاٹس اور شاندار نیٹ پلے کا امتزاج دکھاتے ہوئے میچ جیتا۔
یہ بھی پڑھئے:ایم ایس دھونی کے بغیر سی ایس کے ادھورا: عرفان پٹھان
الکاراز نے کہاکہ ’’ٹینس تقریباً آدھے سیکنڈ میں صحیح شاٹ منتخب کرنے کے بارے میں ہے۔ کبھی کبھی میں شاٹ مس کر دیتا ہوں کیونکہ میں نے صحیح والا نہیں چنا ہوتا۔ میرے ذہن میں سات، پانچ آپشن ہوتے ہیں، اور کبھی کبھی میرے لیے صحیح انتخاب مشکل ہوتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:امتیاز علی کی ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘ کا ٹیزر ریلیز
اس جیت کے ساتھ، الکاراز مسلسل پانچ انڈین ویلز سیمی فائنل میں پہنچنے والے تیسرے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ان سے پہلے ان کے ہم وطن رافیل نڈال (۲۰۰۶۔۲۰۱۳ء) اور نوواک جوکووچ (۲۰۱۶۔۲۰۱۱ء) یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔
الکاراز ہیڈ ٹو ہیڈ سیریز میں نوری کے خلاف۳۔۶؍ سے آگے ہیں۔ ۲۶؍ بار کے ٹور لیول ٹائٹل ہولڈر سیمی فائنل میں ڈینیل میدویدیف کے خلاف اپنے ۲۔۶؍ کے ریکارڈ کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے۔ الکاراز نے میدویدیف کے ساتھ اپنے پچھلے چار مقابلے جیتے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۲۳ء اور ۲۰۲۴ء میں انڈین ویلز کا خطاب جیتا، دونوں بار فائنل میں میدویدیف کو شکست دی۔