گھاٹ کوپر میں ۲؍ بریج ٹکرا رہے ہیں جس کی وجہ سے ۳۰؍ فیصد تیار بریج کے ۳؍ ستون جزوی طورپر منہدم کئے جارہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 11:40 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai
گھاٹ کوپر میں ۲؍ بریج ٹکرا رہے ہیں جس کی وجہ سے ۳۰؍ فیصد تیار بریج کے ۳؍ ستون جزوی طورپر منہدم کئے جارہے ہیں۔
گھاٹ کوپر میں ریلوے ٹریک کے اوپر سے گزرنے والے مشرقی اور مغربی حصہ کو جوڑنے والے بریج کی از سر نو تعمیر جاری ہے لیکن اس کی منصوبہ بندی میں ایک فاش غلطی سامنے آئی ہے جس میں دو بریج ٹکرا رہے ہیں اس لئے ایک زیر تعمیر بریج کے ۳؍ ستون کو منہد کرکے ان کی اونچائی میں اضافہ کیا جائے گا۔جس بریج کے حصہ کو منہدم کیا جائے گا اس کی تعمیر میں پہلے ہی تاخیر ہوچکی ہے اور اس ترمیم کے سبب اس پر مزید رقم اور وقت صرف ہوگا۔
منصوبہ بندی کی اس غلطی نے اندھیری میں واقع گوکھلے بریج کی یاد تازہ کردی ہے جس میں بی ایم سی کے ذریعہ تعمیر شدہ گوکھلے اور برفی والا بریج کی اونچائی میں فرق ہونے کی وجہ سے گاڑیاں ایک بریج سے دوسرے بریج پر نہیں جاسکتی تھیں۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد برفی والا بریج کی اونچائی میں اضافہ کرکے اس خامی کو دور کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یوپی میں ۱۶؍ لاکھ نئے پُراسرار ووٹرس کی شناخت خفیہ کیوں؟
اب گھاٹ کوپر میں زیر تعمیر بریج کے ۳؍ ستونوں کو جزوی طور پر منہدم کرنے کی نوبت اس لئے آئی ہے کہ یہاں مزید ایک بریج کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور ان دونوں بریجوں کی اونچائی یکساں ہے۔ نئے بریج کی تعمیر سے ریلوے ٹریک پر سے اب ڈبل ڈیکر طرز پر ۲؍ بریج گزریں گے جن میں سے ایک پرانے بریج کے طرز پر مقامی سطح پر مشرقی اور مغربی حصہ کو جوڑنے کا کام کرے گا جبکہ دیگر بریج طویل مسافتی گاڑیوں کے ذریعہ استعمال کیا جائے گا۔
جس بریج کے ستون منہدم کئے جارہے ہیں وہ اندھیری گھاٹ کوپر لنک روڈ پر گھاٹ کوپر اور وکھرولی ریلوے اسٹیشن کے درمیان تعمیر کیا جارہا ہے۔ ماضی میں گوکھلے بریج کے حادثاتی طور پر منہدم ہوجانے کے بعد جب شہر کے تمام بریجوں کا جائزہ لیا گیا تو اس پرانےبریج کو ۲۰۱۸ء میں خستہ حال قرار دے دیا گیا تھا اور اس کی از سر نو تعمیر کی جارہی ہے۔ جس مقام پر ۳؍ ستون جزوی طور پر منہدم کئے جارہے ہیں وہ گھاٹ کوپر (مشرق) میں شریاس (ایل بی ایس) جنکشن اور پنت نگر جنکشن کے درمیان واقع ہیں۔
اب ایل بی ایس روڈ پر ہی سرودیا اسپتال اور شریاس درگاہ کے درمیان ایک نیا بریج تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس نئے بریج کی وجہ سے پرانے بریج کے ۳؍ ستونوں کو جزوی طور پر منہدم کرکے ان کی اونچائی ۴ء۵؍ میٹر سے بڑھا کر ۵ء۵؍ میٹر کرنے کی ضرورت پیش آگئی ہے تاکہ اس پر سے اونچی گاڑیاں بھی آسانی سے گزر سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: قبائلی طلبہ کےسرکاری ہاسٹل میں بنیادی اورضروری سہولیات کا فقدان، طلبہ پریشان
یہ بریج مہا راشٹر ریل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن (مہاریل) کی جانب سے تعمیر کیا جارہا ہے اور اس تبدیلی کے تعلق سے ایک افسر نے بیان دیا ہے کہ اس کا مقصد موجودہ ٹریفک کے مسئلہ کو حل کرنے کے ساتھ مستقبل کے ٹریفک کے مسئلہ کا بھی حل تلاش کرنا ہے۔اس افسر کے مطابق یہ بریج آئندہ ۸۰؍ سے ۱۰۰؍ سال تک چلنے کی امید ہے اس لئے اس سطح پر تھوڑی تکلیف برداشت کرکے تبدیلی کرلینا عوام کو کئی دہائیوں تک پریشانیاں اٹھانے پر مجبور کرنے سے بہتر ہے۔ ان کے مطابق دو بریج علاحدہ کردینے سے مقامی سطح پر صرف مشرق سے مغرب کے درمیان آمدورفت کرنے والی گاڑیاں طویل سفر کرنے والی گاڑیوں کے ساتھ ٹریفک کا حصہ نہیں بنیں گی۔ لمبی مسافت کی گاڑیاں ایک بریج سے گزر جائیں گی اور مقامی گاڑیاں دوسرے بریج کو استعمال کریں گی۔ دو بریج تعمیر کردینے سے یہ بھی ہوگا کہ جس بریج کی تعمیر شروع کردی گئی ہے اگر اس کے ڈیزائن میں تبدیلی نہیں کی گئی تو گھاٹ کوپر سڑک کی دونوں جانب بریج کے قریب رہنے والوں کو بھی آگے جاکر ’یو ٹرن‘ لے کر واپس آنا پڑتا۔
مزید کتنی تاخیر ہوگی؟
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جس بریج کے ستون جزوی طور پر منہدم کئے جارہے ہیں اس کی تعمیر ۲۰۲۵ء میں مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن اسے مکمل کرنے کی نئی تاریخ پہلے ہی جون ۲۰۲۷ء کی جاچکی ہے۔ اس پر مزید یہ کہ اب تک اس کی صرف ۳۰؍ فیصد تعمیر مکمل ہوئی تھی جس میں سے بھی اب ۳؍ ستون جزوی طور پر منہدم کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے اس کی تعمیر میں نہ صرف مزید تاخیر ہوگی اوربلکہ مزید رقم بھی خرچ ہوگی ۔اس سلسلےمیں متعلقہ افسران موجودہ سطح پر یہ نہیںبتا پارہے ہیں کہ یہ تبدیلیاں کتنے اضافی مالی بوجھ کا سبب بنیں گی اور مزید کتنی تاخیر ہوگی؟