اسٹیفن یوسٹاکویو کے دوسرے ہاف کے اسٹاپج ٹائم کے دوسرے منٹ میں کیے گئے گول کی بدولت کنیڈا نے جنوبی افریقہ کو۰۔۱؍گول سے شکست دے کر عالمی کپ میں اپنی پہلی ناک آؤٹ جیت حاصل کرتے ہوئے راؤنڈ آف ۱۶؍میں جگہ بنالی ہے۔
EPAPER
Updated: June 29, 2026, 5:05 PM IST | Toronto
اسٹیفن یوسٹاکویو کے دوسرے ہاف کے اسٹاپج ٹائم کے دوسرے منٹ میں کیے گئے گول کی بدولت کنیڈا نے جنوبی افریقہ کو۰۔۱؍گول سے شکست دے کر عالمی کپ میں اپنی پہلی ناک آؤٹ جیت حاصل کرتے ہوئے راؤنڈ آف ۱۶؍میں جگہ بنالی ہے۔
اسٹیفن یوسٹاکویو کے دوسرے ہاف کے اسٹاپج ٹائم کے دوسرے منٹ میں کیے گئے گول کی بدولت کنیڈا نے جنوبی افریقہ کو۰۔۱؍گول سے شکست دے کر عالمی کپ میں اپنی پہلی ناک آؤٹ جیت حاصل کرتے ہوئے راؤنڈ آف ۱۶؍میں جگہ بنالی ہے۔
A history-making goal for Canada 🇨🇦#FIFAWorldCup pic.twitter.com/Mq2U2nDHMn
— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 28, 2026
سوفی اسٹیڈیم میں کھیلا جانے والا یہ سنسنی خیز مقابلہ اضافی وقت کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا تھا کہ یوسٹاکویو، جو چند میل دور واقع ایل اے ایف سی کی جانب سے پیشہ ورانہ فٹبال کھیلتے ہیں، نے پنالٹی ایریا کے باہر سے ایک شاندار والی شاٹ لگا کر گیند رون وین ولیمز کے نیٹ کے نچلے کونے میں گیند پہنچادی۔
شریک میزبان کنیڈا نے آخری لمحات میں مضبوط دفاعی کھیل پیش کرتے ہوئے اپنی برتری برقرار رکھی اور اب ہفتہ کو ہیوسٹن میں نیدرلینڈز یا مراکش کا سامنا کرنے کے لئے آگے بڑھ گیا۔
یہ بھی پڑھئے:لکی علی نے فلموں سے قبل قالین صاف کیا اور ریفائنری میں بھی کام کیا تھا
میچ کے اختتام پر کنیڈا کے منیجر جیسی مارش نے اپنے کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھاتے ہوئے کہا’’آپ سب کنیڈا کے ہیرو ہیں۔ اس ملک کے آنے والے بچوں کے لیے، جو یہ کھیل کھیلتے ہیں، آپ سب کنیڈا کے ہیرو ہیں۔ آپ ہی کی وجہ سے اس کھیل کا مستقبل روشن ہے۔ آپ کو اپنے آپ پر اور اس کھیل پر فخر ہونا چاہیے۔‘‘
کنیڈا نے اپنے تیسرے عالمی کپ میں شرکت کرتے ہوئے اپنے پہلے تین میچ ٹورنٹو اور وینکوور میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر کھیلے، لیکن گزشتہ بدھ کو سوئزر لینڈ سے ۱۔۲؍گول سے ہارنے کے بعد انہیں ورلڈ کپ کے میزبان کے طورپر گھر سے باہر کھیلنے کے لئے مجبور ہونا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے:اٹلی: روم میں’’ ویسپا‘‘ اسکوٹر کی ۸۰؍ سالگرہ، ہزاروں سواروں نے سڑکوں پر پریڈ کی
جنوبی افریقہ کے کوچ ہیوگو بروس نے کہا’’ہم یہ میچ اس لیے ہار گئے کیونکہ ہماری ٹیم میں طاقت اور رفتار کی کمی تھی، خاص طور پر جب میں اس کا موازنہ اپنے حریف سے کرتا ہوں۔ یہ ایک سخت مقابلہ تھا، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں، تو ہم اپنی کارکردگی سے کافی حد تک مطمئن ہو سکتے ہیں۔ ہمیں افسوس ضرور ہے کیونکہ ہم جیتنا چاہتے تھے، لیکن ہمیں حد سے زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم نے جو کیا وہ اچھا تھا اور میں اپنی ٹیم سے بہت خوش ہوں اور فخرمحسوس کرتا ہوں۔‘‘