Inquilab Logo Happiest Places to Work

خامنہ ای کی تدفین؛ ہندوستان کی نمائندگی جنرل سید عطا، پبیترا مارگریٹا کریںگے

Updated: June 29, 2026, 6:00 PM IST | New Delhi

ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سرکاری آخری رسومات میں ہندوستان کی نمائندگی بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبیترا مارگریٹا کریں گے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق دونوں شخصیات ۴؍  جولائی سے شروع ہونے والی سرکاری تقریبات میں شرکت کریں گی۔

Pabitra Margarita and General Syed Ata. Photo: INN
پبیترا مارگریٹا اور جنرل سید عطا ۔ تصویر: آئی این این

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی سرکاری تدفین کی تقریبات میں ہندوستان کی نمائندگی بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین اور وزیر مملکت برائے امور خارجہ پبیترا مارگریٹا کریں گے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق دونوں شخصیات ۴؍ جولائی سے شروع ہونے والی آخری رسومات میں حکومت ہند کی نمائندگی کریں گی۔ یہ دعوت ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کو دی گئی تھی، تاہم اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم اپنے پہلے سے طے شدہ غیر ملکی دوروں، جن میں انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں، کے باعث ایران نہیں جائیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: واردات کی پوری کہانی سمجھنے کیلئے ملزمہ سیا گوئل کوپولیس جائے وقوع پر لے گئی

ایرانی حکام کے مطابق خامنہ ای کی آخری رسومات ۴؍ سے ۹؍  جولائی تک مختلف مراحل میں ادا کی جائیں گی۔ ۴؍ اور ۵؍ جولائی کو تہران کے گرینڈ موسلہ کمپلیکس میں ان کا جسد خاکی عوام کے دیدار کے لیے رکھا جائے گا، ۶؍ جولائی کو تہران میں مرکزی جنازہ اور جلوس نکالا جائے گا، ۷؍ جولائی کو قم میں تعزیتی تقریب منعقد ہوگی، جبکہ ۹؍ جولائی کو مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں تدفین عمل میں آئے گی۔ ایرانی حکام کو ان تقریبات میں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع ہے۔ 
یاد رہے کہ آیت اللہ خامنہ ای ۲۸؍ فروری کو تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ جنگی حالات کے باعث ان کی سرکاری تدفین کو کئی ماہ مؤخر کر دیا گیا تھا اور بعد ازاں ایران نے محرم کے ابتدائی ایام کے بعد جولائی میں تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہندوستان کی جانب سے اس اعلیٰ سطحی وفد کی شرکت کو ایران کے ساتھ دیرینہ سفارتی اور تہذیبی تعلقات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ خامنہ ای کے انتقال کے بعد ہندوستان نے تعزیت کا اظہار کیا تھا اور سیکریٹری خارجہ وکرم مصری نے نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانے جا کر تعزیتی رجسٹر میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: نوآبادیاتی دور کے جیل نظام کا خاتمہ، ریاستی حکومت نے تمام ۱۱۶؍ ذیلی جیلوں کو بند کیا

چالیس روزہ جنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر ایرانی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ حالیہ ہفتوں میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی بھی برکس اجلاسوں میں شرکت کے لیے نئی دہلی آئے تھے، جہاں انہوں نے ایس جے شنکر سے ملاقات کے علاوہ وزیر اعظم مودی سے بھی تبادلہ خیال کیا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) سید عطا حسنین کو مشرق وسطیٰ، انسداد دہشت گردی اور تزویراتی امور کا ماہر سمجھا جاتا ہے، جبکہ پبیترا مارگریٹا کی موجودگی کو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط کے تسلسل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’پربھنی میں کبھی کوئی غدار کامیاب نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہوسکے گا‘‘

ایرانی حکام کے مطابق عراق، پاکستان، افغانستان، روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک سمیت متعدد ممالک کے سرکاری وفود بھی ان تقریبات میں شرکت کریں گے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ہندوستان نے ایران کی اعلیٰ قیادت کی وفات پر اعلیٰ سطحی نمائندگی بھیجی ہو۔ ۲۰۲۴ء میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات کے بعد بھی اس وقت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے ہندوستان کی جانب سے تعزیتی تقریبات میں شرکت کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK