Updated: August 13, 2026, 8:02 PM IST
| Madrid
سورج گہن کے بعد برطانیہ میں متعدد افراد نے آنکھوں میں درد، سر درد اور دھندلا نظر آنے کی شکایات کی ہیں۔ گہن کو بغیر حفاظتی عینک کے براہِ راست دیکھنے سے سولر ریٹینوپیتھی کا خطرہ ہوتا ہے، جس میں ریٹینا کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تشویش میں مبتلا افراد نے اپنی علامات کے بارے میں گوگل پر تلاش شروع کر دی، جہاں ’آنکھوں میں درد‘ سے متعلق تلاش میں گزشتہ برس کے مقابلے میں ۵؍ ہزار فیصد اضافہ دیکھا گیا۔
علامتی تصویر: آئی این این
لاکھوں افراد نے بدھ، ۱۲؍ اگست کو اسپین، برطانیہ، آئس لینڈ اور گرین لینڈ میں مکمل سورج گہن دیکھا۔ اس کے پیش نظر ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ گہن کو کھلی آنکھ سے دیکھنے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس سے آنکھوں کو نقصان پہنچنے حتیٰ کہ بینائی جانے کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ اب یہ خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ گہن کے بعد لوگوں نے آنکھوں میں درد اور دیگر مسائل کی شکایات شروع کر دی ہیں۔ برطانیہ میں سوشل میڈیا پر اپنی کیفیت بیان کرتے ہوئے لوگوں نے بتایا کہ انہیں آنکھوں میں درد، سر درد اور دھندلا نظر آنے جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک صارف نے لکھا، ’’میں نے گہن کو براہِ راست دیکھ لیا۔ میری آنکھوں میں شدید درد ہو رہا ہے۔ ایسا احساس پہلے کبھی نہیں ہوا اور مجھے لگتا ہے کہ میں اندھا ہو جاؤں گا۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’انہوں نے غلط نہیں کہا تھا۔ میں نے براہِ راست گہن کو دیکھا اور اب میری نظر کے عین مرکز میں ایک بڑا سرخی مائل دھبہ نظر آ رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اردگان کا فلسطین کے قیام کیلئے ’پُرعزم‘ حمایت جاری رکھنے کا اعلان
یورپ اور برطانیہ میں لوگوں نے اس غیر معمولی فلکیاتی واقعے کو دیکھنے کی تیاری کے دوران گہن دیکھنے والی خصوصی عینکیں بڑی تعداد میں خریدیں کیوں کہ یہ واقعہ کئی دہائیوں بعد اس خطے میں نظر آ رہا تھا۔ تاہم، جن لوگوں کو یہ عینکیں دستیاب نہ ہو سکیں، ان میں سے کچھ نے گہن دیکھنے کا ارادہ ترک کر دیا، جبکہ کچھ نے حفاظتی تدابیر کے بغیر ہی اسے دیکھ لیا۔ اب ایسے افراد میں آنکھوں سے متعلق مختلف مسائل سامنے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بعض صورتوں میں یہ نقصان مستقل بھی ہو سکتا ہے۔ ایک صارف نے بتایا کہ گہن کو مختصر وقت کیلئے دیکھنے کے بعد اسے ’’سر درد اور دھندلا نظر آنے‘‘ کی شکایت ہوئی۔
طبی ماہرین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ سورج کو براہِ راست نہ دیکھیں، کیونکہ اس سے آنکھ کے پردۂ بصارت (ریٹینا) کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خصوصاً میکیولا (macula) کو، جو واضح اور مرکزی بصارت کیلئے اہم کردار ادا کرتا ہے۔ واضح ہو کہ ہر سورج گہن کے موقع پر اس حوالے سے بڑے پیمانے پر انتباہات جاری کیے جاتے ہیں، لیکن بعض لوگ ان ہدایات کو نظرانداز کر دیتے ہیں اور بعد میں آنکھوں کے مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: میساچوسیٹس: ۱۷؍ سالہ ارجن پر ماں اور بھائی کے قتل کا الزام، چیٹ جی پی ٹی سے مدد لی
سورج گہن آنکھوں کو کیوں نقصان پہنچاتا ہے؟
اس کیفیت کو سولر ریٹینوپیتھی (Solar Retinopathy) یا فوٹک ریٹینوپیتھی (Photic Retinopathy) کہا جاتا ہے۔ عام حالات میں ہم سورج کو براہِ راست نہیں دیکھ سکتے کیوں کہ آنکھ کا قرنیہ اور عدسہ سورج سے آنے والی شدید شعاعوں کو ریٹینا کے ایک نہایت چھوٹے حصے، یعنی فوویا (fovea)، پر مرکوز کر دیتے ہیں۔ چونکہ فوویا ہماری واضح مرکزی بصارت کیلئے انتہائی اہم ہے اسلئے آنکھوں میں درد اور دھندلا نظر آنے جیسی شکایات سامنے آتی ہیں۔
سورج گہن کے دوران اگرچہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سورج کی روشنی کم ہو گئی ہے اور اسے دیکھنا نسبتاً آسان ہے، لیکن حقیقت میں صرف اردگرد کی روشنی نمایاں طور پر کم ہوتی ہے مگر سورج کے نظر آنے والے حصے سے آنے والی خطرناک شعاعوں کی شدت فی یونٹ رقبہ تقریباً وہی رہتی ہے۔ چونکہ ماحول میں اندھیرا چھا جاتا ہے، اس لیے ہماری آنکھوں کی پتلیاں (pupils) زیادہ کھل جاتی ہیں تاکہ زیادہ روشنی اندر داخل ہو سکے۔ سورج کا نظر آنے والا ہلال نما حصہ بدستور شدید شعاعیں خارج کر رہا ہوتا ہے، جن کی بڑی مقدار آنکھ کے پردۂ بصارت تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ شدید روشنی ریٹینا میں کیمیائی ردِعمل پیدا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں روشنی محسوس کرنے والے خلیات، یعنی راڈز اور کونز (rods and cones)، اور ریٹینل پگمنٹ ایپی تھیلیم کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس طرح ریٹینا کے انتہائی نازک ٹشوز متاثر ہوتے ہیں اور روشنی محسوس کرنے والے خلیات تباہ ہو سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: میٹا نے حتمی تاریخ سے قبل ۷؍ لاکھ ۵۶؍ ہزار نوعمروں کے اکاؤنٹ ہٹا ئے
گوگل پر ’’آنکھوں میں درد‘‘ کی تلاش میں بڑا اضافہ
فکر مند افراد نے اپنی علامات کے بارے میں جاننے کیلئے گوگل پر تلاش شروع کر دی۔ بدھ کی شام ’’eyes hurt‘‘ (آنکھوں میں درد) کے الفاظ کی تلاش گزشتہ سال اسی وقت کے مقابلے میں ۵؍ ہزار فیصد زیادہ رہی۔ اسی طرح ’’eye damage‘‘ (آنکھوں کو نقصان) کی تلاش میں بھی ہفتہ بہ ہفتہ ۷۰۰؍ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔