• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’اداکاری کے شعبے میں آنے کی ترغیب مجھے میرے نانا نے دی تھی‘‘

Updated: February 15, 2026, 12:11 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ویب شوز اداکارہ چیتالی کوہلی کا کہنا ہے کہ میں نے کالج کے دنوں میں مراٹھی ڈراموں اور تھیٹرس شوز میں کام کیا تھا، وہاں سے حوصلہ ملا تو ہندی شوز کے آڈیشن دینے کیلئے نکل پڑی۔

Web shows actress Chitali Kohli. Photo: INN
ویب شوز اداکارہ چیتالی کوہلی۔ تصویر: آئی این این

ممبئی میں پیدا ہونےوالی اداکارہ چیتالی کوہلی نےاو ٹی ٹی پر زیادہ کام کیاہے اور انہیں اسی میڈیم کیلئے کام کرنے میں مزہ آتاہے۔ چیتالی نے ’خوف‘، ’کریو‘ اور’ کریمنل جسٹس ‘نامی او ٹی ٹی سیریز میں کام کیا ہے۔ چیتالی ایک بہت اچھی تھیٹر آرٹسٹ بھی ہیں اور انہوں نے مراٹھی زبان کے ڈراموں میں کام کیاہے۔ چیتالی کوہلی نے ویب سیریز اور تھیٹرس کے ساتھ ساتھ اشتہاری فلموں میں بھی کام کیاہے اور انہوں نے عامر خان کے ساتھ ایک اشتہار میں بھی کام کیا تھا۔ چیتالی کوہلی خود کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ اداکارہ نے بہت سے نامور اداکاروں کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ انقلاب نےچیتالی کوہلی سےگفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے: 
اس وقت آپ کی مصروفیات کیا ہیں ؟
ج: فروری اورمارچ کے دوران ہم جیسے اداکاروں کے لئے آڈیشن کا وقت ہوتاہے۔ اشتہاری فلموں اور او ٹی ٹی پر کام کرنے والے اداکار اس دورانیے میں آڈیشن پر بہت زیادہ وقت صرف کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ پروڈکشن ہاؤس میں جاکر آڈیشن دیا جائے۔ میں بھی یہی کررہی ہوں۔ میں مسلسل الگ الگ پروڈکشن ہاؤس میں جارہی ہوں اور وہاں جاکر آڈیشن دے رہی ہوں۔ اس دورانیے میں نیٹ ورکنگ بھی بہت کرنی ہوتی ہے اور بہت سے افراد سے ملاقات کرنی ہوتی ہے۔ جہاں سے آن لائن فرمائش ہوتی ہے ان پروڈکشن ہاؤس میں بھی وقت پر آڈیشن کے آڈیو اور ویڈیو پہنچانے ہوتے ہیں۔ اگر تاخیر ہوجائے تو مسئلہ ہوجاتا ہے۔ اپریل سے اگست تک مختلف پروڈکشن ہاؤس میں اداکاروں کو رول ملنے شروع ہوجاتے ہیں۔ فروری سے مارچ تک میں آڈیشن پر سرمایہ کاری کرتی ہوں۔ 
اداکاری کے شعبے میں آپ کاداخلہ کس طرح ہوا ؟
ج: اداکاری کے پیشہ میں داخلہ ایک منصوبے کے تحت ہی ہوا تھا۔ دراصل میری پرورش دادر علاقے میں ہوئی ہے اور میرے نانا نے مجھے اداکاری کی ترغیب دی تھی۔ بچپن میں انہوں نے میرا داخلہ دادرمیں واقع ودیا تائی کے ایکٹنگ اسکول میں کروایا تھا۔ ودیا تائی لیجنڈری ہیں اور انہوں نے وہاں بہت سے افرادکواداکاری سکھائی تھی۔ اس طرح میں بال ناٹکوں میں شرکت کرتی تھی۔ اس وقت تک میں نے طےکرلیا تھا کہ مجھے اداکار ہی بننا ہے۔ اس کے بعدمیں نے مختلف اسٹیج شوز میں کام کرنا شروع کردیا تھا۔ اس طرح میرے ناناکی وجہ سے میں اداکار بننے میں کامیاب رہی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’ یہ میرا خواب ہے کہ بڑے پردے پر میں اپنے فن کا مظاہرہ کروں ‘‘

انڈسٹری میں اپنے پیر جمانے کیلئے آپ کو کتنی جدوجہد کرنی پڑی؟
ج:شوبز انڈسٹری میں پیر جمانے کیلئے بہت محنت کرنی پڑی تھی۔ ۲۰۱۵ء سے میں انڈسٹری میں کوشش کررہی تھی اور کہیں بھی میری دال گل نہیں رہی تھی۔ آج کے دورمیں لڑکیاں کمسنی میں ہی انڈسٹری داخل ہوجاتی ہیں اور وہ خوبصورت بھی نظرآتی ہیں ۔ جب میں نے انڈسٹری میں داخلہ لیا تھا تو اس وقت میری عمر ۳۵؍ برس تھی اور میں اتنی خاص نظر بھی نہیں آتی تھی۔ اس کے ساتھ ہی میرا وزن ۱۰۔ ۱۵؍ کلوگرام زیادہ تھا۔ کوئی بھی رول حاصل کرنے کیلئے میں ہر ممکن کوشش کرتی تھی۔ ڈھائی برس تک میری عمر اور وزن کی وجہ سے انکار ہی برداشت کرنا پڑا تھا۔ دوسری بات میں نے بہت اچھے ٹیچر سے اداکاری سیکھی ہے اور اس کے لئے مجھے ملنڈ سے اندھیری کا سفر کرنا ہوتاتھا۔ اس سفر میں بھی کافی تگ ودو کرنی پڑی تھی۔ ڈھائی سال انکار کے بعد میں نے ہمت نہیں ہاری اور ثابت کیا کہ میں بھی اداکار ی کرسکتی ہوں۔ 
کیا آپ نے مراٹھی زبان کی انڈسٹری میں بھی کام کیاہے؟
ج:میں نے کالج کے زمانے میں مراٹھی زبان کے اسٹیج شوز اور ڈراموں میں کام کیاہے۔ جب کالج سے ڈگری حاصل ہوئی تومیں نے آڈیشنز دینا شروع کردیا اور ویب سیریز میں کام کرنا شروع کردیا۔ مراٹھی زبان کے پلیز کے دوران مجھے اس زبان کے ایک معروف ہدایتکار ابھیجیت پانجر نے دیکھا تھا او ر انہوں نے ہی پہلا موقع دیا تھا۔ انہوں نے ایک متنازع سیریز ’’ران بازار‘‘ بنائی تھی اور میں نے اپنی شروعات اسی سے کی تھی۔ اس کے بعد میں مراٹھی کے ایک معروف ہدایتکار وجے انگلے کے اسٹیج شو ’’سامردھ‘‘ میں بھی کام کیا ہے۔ میں نے مراٹھی زبان کی سیریزیا فلم میں کام نہیں کیا ہے۔ 
کیا آپ فلموں کیلئے بھی آڈیشن دیتی ہیں؟
ج:میری بھی خواہش ہے کہ میں بھی فلموں میں کام کروں اور بڑے پردہ کا حصہ بنوں ۔ فی الحال میں اس کیلئے تیار نہیں ہوں۔ فلموں میں کام کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور میں اس کیلئے ابھی تیار نہیں ہوں۔ میں او ٹی ٹی پر خود کو آرام دہ محسوس کرتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ یہاں اور زیادہ کام کروں۔ جب مجھے لگے گا کہ میں اب فلموں میں کام کرنے کے قابل ہوں تو میں اس وقت بالکل نہیں سوچوں گی۔ اس کے علاوہ فلموں کے ہدایتکار ان ہی اداکاروں پر داؤ لگاتے ہیں جو فلموں میں اداکاری کے لئے مضبوط ہوتے ہیں۔ وہ اپنا پیسہ اور وقت ان ہی پر صرف کرتے ہیں جو اچھے اداکار ہوتے ہیں۔ فلموں میں کام کرنے کیلئے بہتر پرفارمنس دینی ہوتی ہے۔ 
آپ کس طرح کے او ٹی ٹی شوز کرنا پسند کرتی ہیں؟
ج:میں او ٹی ٹی کے ایسے شوز کرنا پسند کرتی ہوں جو شائقین کے دلوں تک پہنچیں اور انہیں پسند آئیں۔ میں اپنے رول کے ذریعہ انہیں متاثر کرنے میں یقین رکھتی ہوں اور ایسے ہی کردار ادا کرنا پسند کرتی ہوں۔ مجھے شیفالی شاہ جس طرح کے کردارادا کرتی ہیں وہ بہت پسند آتے ہیں۔ وہ ہر سیریز میں ایک الگ روپ میں نظرآتی ہیں۔ ان کے ساتھ ہی رادھیکا آپٹے کی ویب سیریز بھی بہت پسند آتی ہے، خصوصاً وہ جس طرح ہارر کامیڈی ویب شوز  میں کام کرتی ہیں وہ قابل تعریف ہوتا ہے۔ میں اپنی اداکاری سے شائقین کو متاثر کرنے میں یقین رکھتی ہوں۔ 

یہ بھی پڑھئے: جگجیت سنگھ نے فلموں میں غزل گائیکی کو منفرد مقام دیا

آپ اداکاری کے ساتھ کیا کرنا پسند کرتی ہیں ؟
ج: اداکاری کے علاوہ کوئی اور کام نہیں کیا ہے ا س لئے دوسرا کچھ کرنے کے بارے میں سوچا نہیں ہے۔ ہاں ایک شارٹ فلم کی کہانی لکھنے کی کوشش کررہی ہوں۔ مجھے پروڈکشن کا بہت شوق ہے اور اگر کبھی موقع ملا تو میں ضرور اس شعبے میں قسمت آزماؤں گی۔ 
آپ کا کوئی رول ماڈل ہے؟
ج:دیانتداری سے کہوں تو میرا کوئی رول ماڈل نہیں ہے لیکن میں ان خواتین اداکاروں کو پسند کرتی ہوں جو مضبوط ایکٹنگ اور پرفارمنس دیتی ہیں۔ ان میں خصوصی طورپر سپریا پاٹھک جی ہیں، میں نے انہیں مختلف کیریکٹر میں ہی دیکھاہے۔ وہ ایک کیریکٹر کو نبھانےکے بعد دوبارہ اسے نہیں کرتی ہیں۔ میں ان ہیروئنس کو پسند کرتی ہوں جو الگ الگ شیڈ کے کردار نبھاتی ہیں اور اپنے کام سے مرد اداکاروں کو ٹکر دیتی رہتی ہیں۔ 
او ٹی ٹی پر سب سے مشکل اور آسان رول کون سا تھا؟
ج:او ٹی ٹی پر میرا سب سے مشکل رول ویب شو مونک میں تھا۔ حال ہی میں یہ شو الگ نام سے یہاں جاری کیاگیا ہے۔ اس شو میں ایک سین میں میرے بیٹے کا قتل ہوجاتاہے اور یہ قتل پولیس کے ہاتھوں ہوتاہے۔ اپنے بیٹے کی موت پر مجھے آنسو بہانا تھا۔ یہ سین کافی خوفناک تھا۔ اس وقت میں نے گلیسرین کا استعمال نہیں کیا تھا کیونکہ ہم مشاق اداکار ہیں اور یہ ہمارے اصولوں کے خلاف ہے۔ بہرحال یہ سین میرے لئے کافی تکلیف دہ تھا۔ سب سے آسان اور مزاحیہ رول کریو سیریز میں گڈو دی دی کا تھا۔ اس کے ہدایتکار راج کرشنا مورتی بہت مزاحیہ ہیں، وہ جو بھی کام دیتے وہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK