Inquilab Logo Happiest Places to Work

سفارتی کوششیں تیز ،ایرانی وزیر خارجہ کی شہباز شریف اور عاصم منیر سے ملاقات

Updated: April 26, 2026, 9:26 AM IST | Islamabad

لیکن امریکی اور ایرانی وفود کی پاکستان میں موجودگی کے باوجودگفتگو نہیں ہوئی

Abbas Araqchi was received by Ishaq Dar at Islamabad Airport. (PTI)
عباس عراقچی کا اسلام آباد ایئر پورٹ پر اسحاق ڈار نے استقبال کیا۔(پی ٹی آئی )

امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کیلئے کوششیں جاری ہیں، تاہم  اس سلسلے میں دونوں طرف سے کوئی مثبت پیش رفت ابھی تک نہیں ہوئی ہے جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی ہنوز برقرار ہے۔حالانکہ ایران اور امریکہ کے نمائندے پاکستان میں موجود ہیں پھر بھی مذاکرات کا دوسرا شروع نہیں ہو سکا ہے۔ اس درمیان سنیچر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نےاسلام آباد کا دورہ کیا۔ذرائع کے مطابق ایران کے وزیرخارجہ نے پاکستان جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے  لئے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے سزائے موت پر پابندی ختم، پوپ لیو نے مذمت کی

شہباز شریف نے متعلقہ اداروں کو سفارتی رابطے تیز کرنے اور امن کے عمل کو آگے بڑھانے کی ہدایت جاری کی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ   ڈی جی ملٹری انٹیلی جبکہ ایران کے نائب وزیرخارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی موجود تھے۔ شہباز شریف سے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے  وفد کے ہمراہ  ملاقات کی۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک ہوئے لیکن اتنی سرگرمیوں کے باوجود مذاکرات میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یو اے ای: اجتماعی نکاح کی تقریب میں غزہ کے ۱۵۰؍ جوڑے رشتہ ازدواج میں منسلک

دوسری جانب وہائٹ ہاؤس  کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر آج اسلام آباد جا رہے ہیں۔کیرولائن لیوٹ نے دعویٰ کیا صدر ٹرمپ کے کہنے پر ایرانی حکام نے خود رابطہ کیا اور براہ راست مذاکرات کیلئے کہا اسی  لئے صدر ٹرمپ وفد بھیج رہے ہیں۔ وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ جے ڈی وینس ابھی یہیں رہیں گے، صورتحال پر نظر رکھیں گے، امید ہے بات چیت نتیجہ خیز ہوگی اور ڈیل کی جانب بڑھے گی۔ مذاکراتی عمل میں صدر ٹرمپ نے اپنی ریڈ لائنز واضح کی ہیں، مذاکرات کے عمل میں پاکستان حیرت انگیز ثالث رہا ہے۔  دریں اثناء ایران کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، ایران اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے آگے پہنچائے گا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر بیان میں لکھا پاکستان امن کی بحالی کیلئے ثالثی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔تاہم ایران نے واضح طور پر ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اس نے پاکستان میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی درخواست کی ہے۔ یہ تردید ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی کے ذریعے سامنے آئی، جس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے امریکی بیانات کو ’’مکمل طور پر غلط‘‘ قرار دیا۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے پاکستان میں مذاکرات کی خواہش ظاہر کی ہے جس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ممکنہ بات چیت کے لیے ایلچی بھیجے۔اسی دوران ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے واضح کیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دورہ پاکستان صرف دو طرفہ تعلقات اور مشاورت تک محدود ہے اور اس کا امریکہ کے ساتھ کسی ممکنہ مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ خصوصی ایلچی پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں تاکہ ایرانی نمائندوں سے ممکنہ بات چیت کی جا سکے۔

pakistan iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK